اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

این دم از شرم طلب نیست زبان ما خشک

این دم از شرمِ طلب نیست زبانِ ما خشک

با صدف بود لبی در جگرِ دریا خشک

ترجمہ اس وقت ہماری زبان طلب کی شرم سے خشک نہیں؛ سیپ کے ساتھ بھی ایک لب تھا جو دریا کے جگر میں رہ کر خشک تھا۔

اشک گو دردسرِ تربیتِ ما نکشد

از ازل چون مژہ کردند بہارِ ما خشک

ترجمہ کہہ دو کہ آنسو ہماری پرورش کی دردِ سری نہ اٹھائے؛ ازل ہی سے پلک کی طرح ہماری بہار خشک کر دی گئی ہے۔

کارِ مقصدطلبی سخت کشاکش دارد

آرزو تشنہ لب و وادیٔ استغنا خشک

ترجمہ مقصد کی طلب کا کام بڑی کشمکش رکھتا ہے؛ آرزو پیاسے لب ہے اور استغنا کی وادی خشک۔

واصلِ منزلِ مقصود شدن آسان نیست

تا بہ دریا برسد سیل شود صد جا خشک

ترجمہ منزلِ مقصود تک پہنچنا آسان نہیں؛ دریا تک پہنچتے پہنچتے سیلاب سو جگہ خشک ہو جاتا ہے۔

پیِ رشحِ کرم آبِ رخِ امید مریز

ابر چون جوشِ غبار است درین صحرا خشک

ترجمہ کرم کے ایک قطرے کی خاطر امید کی آبرو نہ بہا؛ اس صحرا میں بادل بھی غبار کے جوش کی طرح خشک ہے۔

سعیِ مژگان چقدر نمی شد از دیدۂ ما

کوششِ ابر محالست کند دریا خشک

ترجمہ پلکوں کی کوشش ہماری آنکھ سے کتنی نمی بن سکتی تھی؟ بادل کی کوشش سے دریا کا خشک ہونا محال ہے۔

ای خوش آن بحر سرشتی کہ بود در طلبش

سینہ لبریزِ گدازِ جگر و لبہا خشک

ترجمہ کیا خوب ہے وہ دریا سرشت جس کی طلب میں سینہ جگر کے گداز سے لبریز ہو اور لب خشک ہوں۔

لال ماندہ است زبانم بہ جوابِ ناصح

ہمچو برگی کہ شود از اثرِ سرما خشک

ترجمہ ناصح کے جواب میں میری زبان گونگی رہ گئی ہے، اس پتے کی طرح جو سردی کے اثر سے خشک ہو جائے۔

زاہدا ساغرِ می کوثرِ شادابیہاست

چون عصا چند توان بود ز سر تا پا خشک

ترجمہ اے زاہد! شراب کا ساغر شادابیوں کا کوثر ہے؛ عصا کی طرح کب تک سر سے پاؤں تک خشک رہا جا سکتا ہے؟

عشقِ بی رنگ از این وسوسہ ہا مستغنی است

دامنِ ما و تو آلودہ بر آید یا خشک

ترجمہ بے رنگ عشق ان وسوسوں سے بے نیاز ہے کہ ہمارا اور تمہارا دامن آلودہ نکلے یا خشک۔

بگذر از حاصلِ امکان کہ درین مزرعِ وہم

سبزہ ہا ریختہ تا بال و پرِ عنقا خشک

ترجمہ امکان کے حاصل سے گزر جا کہ وہم کی اس کھیتی میں سبزے جھڑ چکے ہیں، یہاں تک کہ عنقا کے بال و پر بھی خشک ہیں۔

ہم چو نظارہ کہ از دیدۂ تر می گذرد

درگذشتیم ز آلودگیٔ دنیا خشک

ترجمہ اس نظارے کی طرح جو بھیگی آنکھ سے گزر جاتا ہے، ہم دنیا کی آلودگی سے خشک دامن گزر گئے۔

حقِ شمشیرِ تو ساقط نشود از سرِ ما

پیشِ خورشید نگردد عرقِ سیما خشک

ترجمہ تیری تلوار کا حق ہمارے سر سے ساقط نہیں ہوتا؛ سورج کے سامنے بھی پیشانی کا پسینہ خشک نہیں ہوتا۔

بیدل از دیدۂ حیران غم اشکی خون کرد

خشکیٔ شیشہ مبادا کندم صہبا خشک

ترجمہ بیدل! غم نے حیران آنکھ سے ایک آنسو کو خون کر دیا؛ ایسا نہ ہو کہ شیشے کی خشکی میری شراب کو خشک کر دے۔