این دم از شرمِ طلب نیست زبانِ ما خشک | با صدف بود لبی در جگرِ دریا خشک |
ترجمہ اس وقت ہماری زبان طلب کی شرم سے خشک نہیں؛ سیپ کے ساتھ بھی ایک لب تھا جو دریا کے جگر میں رہ کر خشک تھا۔ | |
اشک گو دردسرِ تربیتِ ما نکشد | از ازل چون مژہ کردند بہارِ ما خشک |
ترجمہ کہہ دو کہ آنسو ہماری پرورش کی دردِ سری نہ اٹھائے؛ ازل ہی سے پلک کی طرح ہماری بہار خشک کر دی گئی ہے۔ | |
کارِ مقصدطلبی سخت کشاکش دارد | آرزو تشنہ لب و وادیٔ استغنا خشک |
ترجمہ مقصد کی طلب کا کام بڑی کشمکش رکھتا ہے؛ آرزو پیاسے لب ہے اور استغنا کی وادی خشک۔ | |
واصلِ منزلِ مقصود شدن آسان نیست | تا بہ دریا برسد سیل شود صد جا خشک |
ترجمہ منزلِ مقصود تک پہنچنا آسان نہیں؛ دریا تک پہنچتے پہنچتے سیلاب سو جگہ خشک ہو جاتا ہے۔ | |
پیِ رشحِ کرم آبِ رخِ امید مریز | ابر چون جوشِ غبار است درین صحرا خشک |
ترجمہ کرم کے ایک قطرے کی خاطر امید کی آبرو نہ بہا؛ اس صحرا میں بادل بھی غبار کے جوش کی طرح خشک ہے۔ | |
سعیِ مژگان چقدر نمی شد از دیدۂ ما | کوششِ ابر محالست کند دریا خشک |
ترجمہ پلکوں کی کوشش ہماری آنکھ سے کتنی نمی بن سکتی تھی؟ بادل کی کوشش سے دریا کا خشک ہونا محال ہے۔ | |
ای خوش آن بحر سرشتی کہ بود در طلبش | سینہ لبریزِ گدازِ جگر و لبہا خشک |
ترجمہ کیا خوب ہے وہ دریا سرشت جس کی طلب میں سینہ جگر کے گداز سے لبریز ہو اور لب خشک ہوں۔ | |
لال ماندہ است زبانم بہ جوابِ ناصح | ہمچو برگی کہ شود از اثرِ سرما خشک |
ترجمہ ناصح کے جواب میں میری زبان گونگی رہ گئی ہے، اس پتے کی طرح جو سردی کے اثر سے خشک ہو جائے۔ | |
زاہدا ساغرِ می کوثرِ شادابیہاست | چون عصا چند توان بود ز سر تا پا خشک |
ترجمہ اے زاہد! شراب کا ساغر شادابیوں کا کوثر ہے؛ عصا کی طرح کب تک سر سے پاؤں تک خشک رہا جا سکتا ہے؟ | |
عشقِ بی رنگ از این وسوسہ ہا مستغنی است | دامنِ ما و تو آلودہ بر آید یا خشک |
ترجمہ بے رنگ عشق ان وسوسوں سے بے نیاز ہے کہ ہمارا اور تمہارا دامن آلودہ نکلے یا خشک۔ | |
بگذر از حاصلِ امکان کہ درین مزرعِ وہم | سبزہ ہا ریختہ تا بال و پرِ عنقا خشک |
ترجمہ امکان کے حاصل سے گزر جا کہ وہم کی اس کھیتی میں سبزے جھڑ چکے ہیں، یہاں تک کہ عنقا کے بال و پر بھی خشک ہیں۔ | |
ہم چو نظارہ کہ از دیدۂ تر می گذرد | درگذشتیم ز آلودگیٔ دنیا خشک |
ترجمہ اس نظارے کی طرح جو بھیگی آنکھ سے گزر جاتا ہے، ہم دنیا کی آلودگی سے خشک دامن گزر گئے۔ | |
حقِ شمشیرِ تو ساقط نشود از سرِ ما | پیشِ خورشید نگردد عرقِ سیما خشک |
ترجمہ تیری تلوار کا حق ہمارے سر سے ساقط نہیں ہوتا؛ سورج کے سامنے بھی پیشانی کا پسینہ خشک نہیں ہوتا۔ | |
بیدل از دیدۂ حیران غم اشکی خون کرد | خشکیٔ شیشہ مبادا کندم صہبا خشک |
ترجمہ بیدل! غم نے حیران آنکھ سے ایک آنسو کو خون کر دیا؛ ایسا نہ ہو کہ شیشے کی خشکی میری شراب کو خشک کر دے۔ | |
