عنانم گر نگیرد خاطرِ آیینہ سیمایی | بہ قلبِ آسمانہا می زنم از آہِ ہیہایی |
ترجمہ اگر کسی آئینہ رُو کا خیال میری باگ نہ تھامے تو میں اپنی آہ سے آسمانوں کے قلب پر ہلّہ بول دوں۔ | |
ز سامانِ دو عالم آرزو مستغنی ام دارد | شبستانِ خطِ جام و حضورِ شمع و مینایی |
ترجمہ آرزو نے مجھے دونوں جہانوں کے سامان سے بے نیاز کر رکھا ہے؛ بس جام کی لکیر کا شبستان اور شمع و مینا کی صحبت کافی ہے۔ | |
دمیدن گو نباشد آبیارِ ریشۂ جہدم | نہالِ داغِ حرمان را زمینگیری است بالایی |
ترجمہ کہو کہ اُگنا میری کوشش کی جڑ کو سیراب نہ کرے؛ محرومی کے داغ کے پودے کے لیے زمین گیر رہنا ہی بلندی ہے۔ | |
نیازِ خاکِ راہِ ناامیدی بایدم کردن | دلِ خون گشتہ در دستی سرِ فرسودہ در پایی |
ترجمہ مجھے ناامیدی کی راہ کی خاک پر نذر کرنا ہے: ایک ہاتھ میں خون ہوا دل اور ایک پاؤں پر گِھسا ہوا سر۔ | |
سراغِ خونِ من از گردِ رنگِ گل چہ می پرسی | بہ یادِ دامنِ او می کشم آخر سر از جایی |
ترجمہ میرے خون کا سراغ پھول کے رنگ کی گرد سے کیا پوچھتا ہے؛ اس کے دامن کی یاد میں آخر میں کہیں نہ کہیں سے سر نکال ہی لوں گا۔ | |
چراغِ حیرتم چون لالہ در دست است معذورم | رہی گم کردہ ام در ظلمت آبادِ سویدایی |
ترجمہ لالے کی طرح حیرت کا چراغ میرے ہاتھ میں ہے، مجھے معذور سمجھو؛ میں دل کے سیاہ نقطے کی تاریک بستی میں ایک راہ کھو بیٹھا ہوں۔ | |
درین گلشن میسر نیست ترکِ احولی کردن | کہ در ہر برگِ گل آیینہ دارد حسنِ رعنایی |
ترجمہ اس گلشن میں بھینگے پن کو چھوڑنا ممکن نہیں، کیونکہ ہر پھول کی پتی میں ایک رعنا حسن آئینہ لیے کھڑا ہے۔ | |
ز نفیٔ ما و من اثباتِ وحدت کرد آگاہی | حبابی چند از خود رفت و بیرون ریخت دریایی |
ترجمہ آگہی نے ہم اور میں کی نفی سے وحدت کا اثبات کیا؛ چند بلبلے اپنے آپ سے گزرے اور باہر ایک دریا اُمڈ آیا۔ | |
نبود امیدی از جامِ سلامت غنچۂ ما را | ہم از جوشِ شکستِ رنگ پر کردیم مینایی |
ترجمہ ہماری کلی کو سلامتی کے جام سے کوئی امید نہ تھی؛ ہم نے رنگ ٹوٹنے کے جوش ہی سے ایک مینا بھر لی۔ | |
ندامت مایہ ایم ای یأس آتش زن بہ عقبا ہم | کہ امروزِ زیانکاران نمی ارزد بہ فردایی |
ترجمہ ہم سراپا ندامت ہیں؛ اے مایوسی! عاقبت کو بھی آگ لگا دے، کہ خسارہ اٹھانے والوں کا آج کسی کل کے برابر بھی نہیں۔ | |
دل از کف دادہ ام دیگر ز کلفتہا چہ می پرسی | بہ سامانِ غبارم دامن افشاندہ ست صحرایی |
ترجمہ میں دل ہاتھ سے دے چکا ہوں، اب کلفتوں کا کیا پوچھتے ہو؛ میری گرد کے سامان پر تو ایک صحرا نے دامن جھاڑ دیا ہے۔ | |
من بیدل حریفِ سعیٔ بیجا نیستم زاہد | تویی و قطعِ منزلہا من و یک لغزشِ پایی |
ترجمہ اے زاہد! میں بیدل بے جا کوشش کا حریف نہیں؛ تو ہے اور منزلوں کا طے کرنا، میں ہوں اور پاؤں کی ایک لغزش۔ | |
