اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

انسان و حیوان

(تہذیب الاخلاق بابت جمادی الثانی 1297ھ‌مئی-جون 1880ء)

لوگوں نے جان دار مخلوق کی دو قسمیں کی ہیں، انسان اور حیوان، مگر سوچنا چاہیے کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے جس کے سبب سے دو قسمیں قرار دی ہیں۔ کیا چیز ایک میں ہے اور دوسرے میں نہیں یا دوسرے میں ہے اور پہلے میں نہیں۔ فطرت نے ہر ایک جاندار کو کسی نہ کسی چیز کا محتاج بنایا ہے اور اس احتیاج کے رفع کرنے کی تدبیر یا تمیز یا عقل اس کو عطا کی ہے۔ انسان کو خدا نے ننگا پیدا کیا، اُس کو لباس بناتے، سردی گرمی سے بچنے، لباس کے لیے عمدہ عمدہ نفیس سادے اور گلدار سنہری روپیلی‌چاندی کے رنگ کے کپڑے بننے کی تدبیر بتائی۔ حیوانوں کا لباس نہایت خوبصورت و نفیس رنگ برنگ سنہرا و روپیلا گلدار و پُر بہار اُن کے ساتھ پیدا کیا۔ قدرت نے جاڑے گرمی کی پوشاک کی تبدیلی کا خود ذمہ لیا۔ اُن میں وہ حاجت نہ تھی جو اس ننگی مخلوق میں تھی، اس لیے اُن کو وہ تدبیر نہیں بتائی جو اُس ننگی مخلوق کو سکھائی، گو ایک کو ایک تدبیر آئی اور دوسرے کو نہ آئی مگر نتیجے میں دونوں برابر ہیں، بلکہ پچھلا پہلے سے بہتر ہے۔

زندگی کے لیے دونوں غذا کے محتاج ہیں۔ ایک کے لیے خود فطرت نے خوانِ الوانِ نعمت چُن رکھا ہے، دوسرا اپنی عرق ریزی سے اسے مہیا کرتا ہے۔ اُس کو اس عرق ریزی کی حاجت نہ تھی، اس لیے اس کو اس کی کوئی تدبیر نہ بتائی اور اُس کو عرق ریزی کی حاجت تھی، اس کو اس کی سب تدبیریں سکھلائیں، مگر نتیجے میں دونوں برابر ہیں، بلکہ یہ اُس سے افضل ہے۔

کہتے ہیں کہ پہلا ذی عقل ہے۔ اگر عقل کے معنی وہ لو جو ہر روز برتنے میں آتے ہیں، یعنی وہ شیئ جس سے حاجت روا ہوتی ہے تو وہ تو دوسرے میں بھی پاتے ہیں۔ تمام حاجتیں جو فطرت نے اُس دوسری مخلوق میں رکھی ہیں اُس کے ساتھ وہ شیئ بھی رکھی ہے جس سے ان ضرورتوں کو رفع کر سکتا ہے اور اس طرح رفع کرتا ہے کہ پہلا، یعنی انسان اُس طرح رفع نہیں کر سکتا۔

اُس شئے کی کمی و بیشی کا دعویٰ کہ انسان میں زیادہ یا کامل ہے اور حیوان میں کم یا ناقص ایک بے معنی دعویٰ ہے۔ کامل یا ناقص، کم یا زیادہ، نسبتی مقولات ہیں جن میں کمی بیشی کا اطلاق نسبت کے مساوی ہونے پر محض لغو ہے۔ دس کو سو کے مقابل وہی نسبت ہے جو ایک کو دس کے مقابل، پھر یہ کہنا کہ دس زیادہ ہیں اور ایک کم بے معنی بات ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان مدرکِ کلیات و جزئیات ہے، اگر ہے تو اُس کو اس کی بھی حاجت ہے اور حیوان کو نہیں۔ اس صورت میں بھی دونوں نتیجے میں برابر ہوئے، بلکہ حیوان اچھا رہا۔

دین دار کہتے ہیں کہ انسان خاص عبادت کے لیے بنایا گیا۔ اگر عبادت کے یہ معنی ہیں کہ مخلوق وہ کرے جس کے لیے بنایا گیا ہے تو تو شجر و حجر، آب و خاک، آتش و ہوا، چرند و پرند سے زیادہ انسان عابد نہیں ہو سکتا۔

قومی ہمدردی بھی حیوانوں میں پائی جاتی ہے، پس قومی ہمدردی بھی انسان کی خاصیت نہیں ہے۔

ہاں ایک بات انسان میں ہے جو حیوان میں نہیں کہ وہ قومی ہمدردی کے ساتھ اُس قومی ضرورت کا تدارک بھی کر سکتا ہے، مگر حیوان نہیں کر سکتا۔ پس جو انسان کہ قومی ہمدردی نہیں کرتے وہ تو حیوانیت سے بھی خارج ہیں اور جو ہمدردی کی صرف باتیں بناتے ہیں اور عملی طور پر اس کو کام میں نہیں لاتے وہ ان جانوروں کی مانند ہیں جو کائیں کائیں کر کے جمع تو ہو جاتے ہیں، مگر کچھ کرتے نہیں۔

اس زمانے میں ہماری قوم کا یہی حال ہے کہ بعضے تو قومی ہمدردی کے نام سے بھی آشنا نہیں اور بعضے باتیں تو بہت لمبی چوڑی بناتے ہیں، مگر کرتے کچھ نہیں۔ خدا کرے کہ ہماری قوم انسان بنے اور سمجھے کہ اُن کی قوم کس حالت میں مبتلا ہے اور کس کس چیز کی، علی الخصوص تعلیم کی اس کو حاجت ہے۔ پس مقتضائے انسانیت یہی ہے کہ ہم سب مل کر اس میں مدد دیں اور جن چیزوں کی قوم کو ضرورت ہے اُن کو مہیا کریں۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ پنجم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 144 تا 146 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔