اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

عشق اگر در جلوہ آرد پرتو مقدور را

عشق اگر در جلوہ آرد پرتوِ مقدور را

از گدازِ دل دہد روغن چراغِ طور را

ترجمہ اگر عشق اپنی مقدور بھر روشنی کو جلوے میں لائے تو دل کے گداز سے طور کے چراغ کو تیل دیتا ہے۔

عشق چون گرمِ طلب سازد سرِ پرشور را

شعلۂ افسردہ پندارد چراغِ طور را

ترجمہ جب عشق پرشور سر کو طلب میں گرم کر دیتا ہے تو وہ طور کے چراغ کو بھی بجھا ہوا شعلہ سمجھتا ہے۔

بی نیازی بسکہ مشتاقِ لقای عجز بود

کرد خالِ روی دستِ خود سلیمان مور را

ترجمہ بے نیازی عجز کے دیدار کی اس قدر مشتاق تھی کہ سلیمان نے چیونٹی کو اپنے ہاتھ کی پشت کا تل بنا لیا۔

از فلک بی نالہ کامِ دل نمی آید بہ دست

شہد خواہی آتشی زن خانۂ زنبور را

ترجمہ آسمان سے نالے کے بغیر دل کی مراد ہاتھ نہیں آتی؛ شہد چاہتے ہو تو مکھیوں کے چھتے کو آگ دکھاؤ۔

از شکستِ دل چہ عشرتہا کہ برہم خورد و رفت

موی چینی شام جوشاند از سحر فغفور را

ترجمہ دل کے ٹوٹنے سے کتنے ہی عیش درہم برہم ہو کر چلے گئے؛ چینی برتن کی بال جیسی دراڑ نے فغفور کو صبح سے شام تک کھولائے رکھا۔

آرزومندِ ترا سیرِ گلستان آفت است

نکہتِ گل تیغ باشد صاحبِ ناسور را

ترجمہ تیرے آرزو مند کے لیے گلستان کی سیر آفت ہے؛ ناسور والے کے لیے پھول کی خوشبو تلوار ہوتی ہے۔

سوختن در ہر صفت منظورِ عشق افتادہ است

مشربِ پروانہ ز آتش نداند نور را

ترجمہ ہر حال میں جلنا ہی عشق کو منظور ہے؛ پروانے کا مشرب نور کو آگ سے الگ نہیں جانتا۔

صاف و دردی نیست در خمخانۂ تحقیق لیک

دار بالا برد شورِ نشئۂ منصور را

ترجمہ تحقیق کے میخانے میں صاف اور تلچھٹ کا فرق نہیں، لیکن دار نے منصور کے نشے کے شور کو بلند کر دیا۔

گر دلی داری تو ہم خون ساز و صاحب نشئہ باش

می شدن مخصوص نبود دانۂ انگور را

ترجمہ اگر تم بھی دل رکھتے ہو تو اسے خون کرو اور صاحبِ نشہ بنو؛ شراب بن جانا صرف انگور کے دانے ہی کے لیے مخصوص نہیں۔

در طریقِ نفعِ خود کس نیست محتاجِ دلیل

بی عصا راہِ دہن معلوم باشد کور را

ترجمہ اپنے فائدے کی راہ میں کوئی رہنما کا محتاج نہیں؛ اندھے کو بھی لاٹھی کے بغیر منہ کا راستہ معلوم ہوتا ہے۔

خوش نما نبود بہ پیری عرضِ اندازِ شباب

لافِ گرمی سرد باشد نکہتِ کافور را

ترجمہ بڑھاپے میں جوانی کی ادا کا اظہار خوش نما نہیں؛ کافور کی خوشبو کے لیے گرمی کا دعویٰ سرد ہوتا ہے۔

بر امیدِ وصل مشکل نیست قطعِ زندگی

شوقِ منزل می کند نزدیک راہِ دور را

ترجمہ وصل کی امید پر زندگی کی مسافت طے کرنا مشکل نہیں؛ منزل کا شوق دور کی راہ کو نزدیک کر دیتا ہے۔

نغمہ ہم در نشئہ پیمایی قیامت می کند

موجِ می تار است بیدل کاسۂ طنبور را

ترجمہ اے بیدل! نغمہ بھی نشہ پیمائی میں قیامت ڈھاتا ہے؛ طنبور کے کاسے کے لیے شراب کی موج ہی تار ہے۔