عشق اگر در جلوہ آرد پرتوِ مقدور را | از گدازِ دل دہد روغن چراغِ طور را |
ترجمہ اگر عشق اپنی مقدور بھر روشنی کو جلوے میں لائے تو دل کے گداز سے طور کے چراغ کو تیل دیتا ہے۔ | |
عشق چون گرمِ طلب سازد سرِ پرشور را | شعلۂ افسردہ پندارد چراغِ طور را |
ترجمہ جب عشق پرشور سر کو طلب میں گرم کر دیتا ہے تو وہ طور کے چراغ کو بھی بجھا ہوا شعلہ سمجھتا ہے۔ | |
بی نیازی بسکہ مشتاقِ لقای عجز بود | کرد خالِ روی دستِ خود سلیمان مور را |
ترجمہ بے نیازی عجز کے دیدار کی اس قدر مشتاق تھی کہ سلیمان نے چیونٹی کو اپنے ہاتھ کی پشت کا تل بنا لیا۔ | |
از فلک بی نالہ کامِ دل نمی آید بہ دست | شہد خواہی آتشی زن خانۂ زنبور را |
ترجمہ آسمان سے نالے کے بغیر دل کی مراد ہاتھ نہیں آتی؛ شہد چاہتے ہو تو مکھیوں کے چھتے کو آگ دکھاؤ۔ | |
از شکستِ دل چہ عشرتہا کہ برہم خورد و رفت | موی چینی شام جوشاند از سحر فغفور را |
ترجمہ دل کے ٹوٹنے سے کتنے ہی عیش درہم برہم ہو کر چلے گئے؛ چینی برتن کی بال جیسی دراڑ نے فغفور کو صبح سے شام تک کھولائے رکھا۔ | |
آرزومندِ ترا سیرِ گلستان آفت است | نکہتِ گل تیغ باشد صاحبِ ناسور را |
ترجمہ تیرے آرزو مند کے لیے گلستان کی سیر آفت ہے؛ ناسور والے کے لیے پھول کی خوشبو تلوار ہوتی ہے۔ | |
سوختن در ہر صفت منظورِ عشق افتادہ است | مشربِ پروانہ ز آتش نداند نور را |
ترجمہ ہر حال میں جلنا ہی عشق کو منظور ہے؛ پروانے کا مشرب نور کو آگ سے الگ نہیں جانتا۔ | |
صاف و دردی نیست در خمخانۂ تحقیق لیک | دار بالا برد شورِ نشئۂ منصور را |
ترجمہ تحقیق کے میخانے میں صاف اور تلچھٹ کا فرق نہیں، لیکن دار نے منصور کے نشے کے شور کو بلند کر دیا۔ | |
گر دلی داری تو ہم خون ساز و صاحب نشئہ باش | می شدن مخصوص نبود دانۂ انگور را |
ترجمہ اگر تم بھی دل رکھتے ہو تو اسے خون کرو اور صاحبِ نشہ بنو؛ شراب بن جانا صرف انگور کے دانے ہی کے لیے مخصوص نہیں۔ | |
در طریقِ نفعِ خود کس نیست محتاجِ دلیل | بی عصا راہِ دہن معلوم باشد کور را |
ترجمہ اپنے فائدے کی راہ میں کوئی رہنما کا محتاج نہیں؛ اندھے کو بھی لاٹھی کے بغیر منہ کا راستہ معلوم ہوتا ہے۔ | |
خوش نما نبود بہ پیری عرضِ اندازِ شباب | لافِ گرمی سرد باشد نکہتِ کافور را |
ترجمہ بڑھاپے میں جوانی کی ادا کا اظہار خوش نما نہیں؛ کافور کی خوشبو کے لیے گرمی کا دعویٰ سرد ہوتا ہے۔ | |
بر امیدِ وصل مشکل نیست قطعِ زندگی | شوقِ منزل می کند نزدیک راہِ دور را |
ترجمہ وصل کی امید پر زندگی کی مسافت طے کرنا مشکل نہیں؛ منزل کا شوق دور کی راہ کو نزدیک کر دیتا ہے۔ | |
نغمہ ہم در نشئہ پیمایی قیامت می کند | موجِ می تار است بیدل کاسۂ طنبور را |
ترجمہ اے بیدل! نغمہ بھی نشہ پیمائی میں قیامت ڈھاتا ہے؛ طنبور کے کاسے کے لیے شراب کی موج ہی تار ہے۔ | |
