اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

جای آن است کہ بالد گہر شان صدف

جای آن است کہ بالد گہرِ شانِ صدف

بحر در قطرگی اینجا شدہ مہمانِ صدف

ترجمہ بجا ہے کہ سیپ کی شان کا موتی اترائے؛ یہاں سمندر قطرہ بن کر سیپ کا مہمان ہوا ہے۔

عزلت از حادثۂ دہر برون تاختن است

موجِ دریا نشود دست و گریبانِ صدف

ترجمہ گوشہ نشینی زمانے کے حادثوں سے باہر نکل بھاگنا ہے؛ دریا کی موج سیپ سے دست و گریباں نہیں ہوتی۔

نیست در عالمِ بی مطلبی اسبابِ دویی

دلِ صافیست ہمان دیدۂ حیرانِ صدف

ترجمہ بے غرضی کے عالم میں دوئی کے اسباب نہیں؛ سیپ کی حیران آنکھ ہی ایک صاف دل ہے۔

ظرفِ بیتابیٔ یک قطرہ ندارد این بحر

موجِ گوہر شو و میتاز بہ میدانِ صدف

ترجمہ یہ سمندر ایک قطرے کی بیتابی کا ظرف نہیں رکھتا؛ موتی کی موج بن جا اور سیپ کے میدان میں دوڑ۔

جہدِ افسوس طلب آبلہ واری دارد

سودنِ دست گہر ریخت بہ دامانِ صدف

ترجمہ افسوس کی طلب والی کوشش چھالے کا سا حال رکھتی ہے؛ ہاتھ ملنے ہی نے سیپ کے دامن میں موتی بکھیر دیے۔

قسمتت گر دمِ آبی ست غنیمت می دان

بحر بیجا نشکستہ ست لبِ نانِ صدف

ترجمہ اگر تیری قسمت میں ایک گھونٹ پانی ہے تو اسے غنیمت جان؛ سمندر نے سیپ کی روٹی کا کنارہ بے سبب نہیں توڑا۔

بر یتیمان چقدر سایہ فکن خواہد بود

بہ دو دیوارِ نگون خانۂ ویرانِ صدف

ترجمہ سیپ کا ویران گھر اپنی دو اوندھی دیواروں سے یتیموں پر کتنا سایہ کر سکے گا؟

صحبتِ مردہ دلان سخت سرایت دارد

آبِ گوہر ہمہ وقت است بہ زندانِ صدف

ترجمہ مردہ دلوں کی صحبت بہت سرایت کرتی ہے؛ موتی کی آب ہر وقت سیپ کے زنداں میں رہتی ہے۔

زلۂ مائدۂ حرص نیندوختہ ایم

استخوان خشکیٔ مغز است در انبانِ صدف

ترجمہ ہم نے حرص کے دسترخوان کا بچا کھچا جمع نہیں کیا؛ سیپ کی زنبیل میں ہڈی بھی گودے سے خالی اور خشک ہے۔

جوشِ یاسی ست بہارِ طربِ ما بیدل

می دمد چشمِ پر آب از لبِ خندانِ صدف

ترجمہ بیدل! ہماری خوشی کی بہار مایوسی کا جوش ہے؛ سیپ کے ہنستے لب سے آنسو بھری آنکھ پھوٹتی ہے۔