جای آن است کہ بالد گہرِ شانِ صدف | بحر در قطرگی اینجا شدہ مہمانِ صدف |
ترجمہ بجا ہے کہ سیپ کی شان کا موتی اترائے؛ یہاں سمندر قطرہ بن کر سیپ کا مہمان ہوا ہے۔ | |
عزلت از حادثۂ دہر برون تاختن است | موجِ دریا نشود دست و گریبانِ صدف |
ترجمہ گوشہ نشینی زمانے کے حادثوں سے باہر نکل بھاگنا ہے؛ دریا کی موج سیپ سے دست و گریباں نہیں ہوتی۔ | |
نیست در عالمِ بی مطلبی اسبابِ دویی | دلِ صافیست ہمان دیدۂ حیرانِ صدف |
ترجمہ بے غرضی کے عالم میں دوئی کے اسباب نہیں؛ سیپ کی حیران آنکھ ہی ایک صاف دل ہے۔ | |
ظرفِ بیتابیٔ یک قطرہ ندارد این بحر | موجِ گوہر شو و میتاز بہ میدانِ صدف |
ترجمہ یہ سمندر ایک قطرے کی بیتابی کا ظرف نہیں رکھتا؛ موتی کی موج بن جا اور سیپ کے میدان میں دوڑ۔ | |
جہدِ افسوس طلب آبلہ واری دارد | سودنِ دست گہر ریخت بہ دامانِ صدف |
ترجمہ افسوس کی طلب والی کوشش چھالے کا سا حال رکھتی ہے؛ ہاتھ ملنے ہی نے سیپ کے دامن میں موتی بکھیر دیے۔ | |
قسمتت گر دمِ آبی ست غنیمت می دان | بحر بیجا نشکستہ ست لبِ نانِ صدف |
ترجمہ اگر تیری قسمت میں ایک گھونٹ پانی ہے تو اسے غنیمت جان؛ سمندر نے سیپ کی روٹی کا کنارہ بے سبب نہیں توڑا۔ | |
بر یتیمان چقدر سایہ فکن خواہد بود | بہ دو دیوارِ نگون خانۂ ویرانِ صدف |
ترجمہ سیپ کا ویران گھر اپنی دو اوندھی دیواروں سے یتیموں پر کتنا سایہ کر سکے گا؟ | |
صحبتِ مردہ دلان سخت سرایت دارد | آبِ گوہر ہمہ وقت است بہ زندانِ صدف |
ترجمہ مردہ دلوں کی صحبت بہت سرایت کرتی ہے؛ موتی کی آب ہر وقت سیپ کے زنداں میں رہتی ہے۔ | |
زلۂ مائدۂ حرص نیندوختہ ایم | استخوان خشکیٔ مغز است در انبانِ صدف |
ترجمہ ہم نے حرص کے دسترخوان کا بچا کھچا جمع نہیں کیا؛ سیپ کی زنبیل میں ہڈی بھی گودے سے خالی اور خشک ہے۔ | |
جوشِ یاسی ست بہارِ طربِ ما بیدل | می دمد چشمِ پر آب از لبِ خندانِ صدف |
ترجمہ بیدل! ہماری خوشی کی بہار مایوسی کا جوش ہے؛ سیپ کے ہنستے لب سے آنسو بھری آنکھ پھوٹتی ہے۔ | |
