اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

جان ہیچ وجسد ہیچ ونفس ہیچ وبقا ہیچ

جان ہیچ و جسد ہیچ و نفس ہیچ و بقا ہیچ

ای ہستیٔ تو ننگِ عدم تا بہ کجا ہیچ

ترجمہ جان ہیچ، جسم ہیچ، سانس ہیچ اور بقا ہیچ؛ اے وہ جس کی ہستی عدم کے لیے بھی ننگ ہے، آخر کہاں تک ہیچ؟

دیدی عدمِ ہستی و چیدی المِ دہر

با این ہمہ عبرت ندمید از تو حیا ہیچ

ترجمہ تو نے ہستی کا عدم دیکھا اور زمانے کے دکھ چنے؛ اتنی عبرت کے باوجود تجھ میں ذرا بھی حیا نہ پھوٹی۔

مستقبلِ اوہام چہ مقدار جنون داشت

رفتیم و نکردیم نگاہی بہ قفا ہیچ

ترجمہ وہموں کے مستقبل میں کس قدر جنون تھا کہ ہم چل دیے اور پیچھے مڑ کر ایک نگاہ بھی نہ ڈالی۔

آیینۂ امکان ہوس آبادِ خیال ست

تمثالِ جنون گر نکند زنگ و صفا ہیچ

ترجمہ امکان کا آئینہ خیال کی ہوس آباد بستی ہے؛ اگر جنون کی تصویر کارفرما نہ ہو تو زنگ اور صفا دونوں ہیچ ہیں۔

زنہار حذر کن ز فسونکاریٔ اقبال

جز بستنِ دستت نگشاید ز حنا ہیچ

ترجمہ خبردار، اقبال کی فسوں کاری سے بچ؛ حنا سے تیرے ہاتھ بندھ جانے کے سوا کچھ نہیں کھلتا۔

خلقی ست نمودار درین عرصۂ موہوم

مردی و زنی باختہ چون خواجہ سرا ہیچ

ترجمہ اس موہوم میدان میں ایک خلقت نمودار ہے جس نے خواجہ سرا کی طرح مردی اور زنی دونوں ہار دی ہیں، سب ہیچ۔

بر زلۂ این مایدہ ہرچند تنیدیم

جز حرص نچیدیم چو کشکولِ گدا ہیچ

ترجمہ اس دسترخوان کے بچے کھچے پر ہم نے کتنے ہی تانے بانے بنے، مگر گدا کے کشکول کی طرح حرص کے سوا کچھ نہ چنا۔

تا چند کند چارۂ عریانیٔ ما را

گردون کہ ندارد بہ جز این کہنہ ردا ہیچ

ترجمہ آسمان ہماری برہنگی کا علاج کب تک کرے گا، جس کے پاس اس پرانی چادر کے سوا کچھ بھی نہیں؟

منزل عدم و جادہ نفس ما ہمہ رہرو

رنجِ عبثی می کشد این قافلہ با ہیچ

ترجمہ منزل عدم ہے اور راستہ سانس، اور ہم سب راہ رو ہیں؛ یہ قافلہ ہیچ کے ساتھ بے کار رنج اٹھا رہا ہے۔

بیدل اگر این است سر و برگِ کمالت

تحقیقِ معانی غلط و فکرِ رسا ہیچ

ترجمہ اے بیدل، اگر تیرے کمال کا سر و سامان یہی ہے تو معانی کی تحقیق غلط اور بلند فکر ہیچ ہے۔