جان ہیچ و جسد ہیچ و نفس ہیچ و بقا ہیچ | ای ہستیٔ تو ننگِ عدم تا بہ کجا ہیچ |
ترجمہ جان ہیچ، جسم ہیچ، سانس ہیچ اور بقا ہیچ؛ اے وہ جس کی ہستی عدم کے لیے بھی ننگ ہے، آخر کہاں تک ہیچ؟ | |
دیدی عدمِ ہستی و چیدی المِ دہر | با این ہمہ عبرت ندمید از تو حیا ہیچ |
ترجمہ تو نے ہستی کا عدم دیکھا اور زمانے کے دکھ چنے؛ اتنی عبرت کے باوجود تجھ میں ذرا بھی حیا نہ پھوٹی۔ | |
مستقبلِ اوہام چہ مقدار جنون داشت | رفتیم و نکردیم نگاہی بہ قفا ہیچ |
ترجمہ وہموں کے مستقبل میں کس قدر جنون تھا کہ ہم چل دیے اور پیچھے مڑ کر ایک نگاہ بھی نہ ڈالی۔ | |
آیینۂ امکان ہوس آبادِ خیال ست | تمثالِ جنون گر نکند زنگ و صفا ہیچ |
ترجمہ امکان کا آئینہ خیال کی ہوس آباد بستی ہے؛ اگر جنون کی تصویر کارفرما نہ ہو تو زنگ اور صفا دونوں ہیچ ہیں۔ | |
زنہار حذر کن ز فسونکاریٔ اقبال | جز بستنِ دستت نگشاید ز حنا ہیچ |
ترجمہ خبردار، اقبال کی فسوں کاری سے بچ؛ حنا سے تیرے ہاتھ بندھ جانے کے سوا کچھ نہیں کھلتا۔ | |
خلقی ست نمودار درین عرصۂ موہوم | مردی و زنی باختہ چون خواجہ سرا ہیچ |
ترجمہ اس موہوم میدان میں ایک خلقت نمودار ہے جس نے خواجہ سرا کی طرح مردی اور زنی دونوں ہار دی ہیں، سب ہیچ۔ | |
بر زلۂ این مایدہ ہرچند تنیدیم | جز حرص نچیدیم چو کشکولِ گدا ہیچ |
ترجمہ اس دسترخوان کے بچے کھچے پر ہم نے کتنے ہی تانے بانے بنے، مگر گدا کے کشکول کی طرح حرص کے سوا کچھ نہ چنا۔ | |
تا چند کند چارۂ عریانیٔ ما را | گردون کہ ندارد بہ جز این کہنہ ردا ہیچ |
ترجمہ آسمان ہماری برہنگی کا علاج کب تک کرے گا، جس کے پاس اس پرانی چادر کے سوا کچھ بھی نہیں؟ | |
منزل عدم و جادہ نفس ما ہمہ رہرو | رنجِ عبثی می کشد این قافلہ با ہیچ |
ترجمہ منزل عدم ہے اور راستہ سانس، اور ہم سب راہ رو ہیں؛ یہ قافلہ ہیچ کے ساتھ بے کار رنج اٹھا رہا ہے۔ | |
بیدل اگر این است سر و برگِ کمالت | تحقیقِ معانی غلط و فکرِ رسا ہیچ |
ترجمہ اے بیدل، اگر تیرے کمال کا سر و سامان یہی ہے تو معانی کی تحقیق غلط اور بلند فکر ہیچ ہے۔ | |
