اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

جسم غافل را بہ اندوہ رم فرصت چہ کار

جسمِ غافل را بہ اندوہِ رمِ فرصت چہ کار

کاروان ہر سو رود بر خویش می بالد غبار

ترجمہ غافل جسم کو فرصت کے بھاگ جانے کے غم سے کیا کام؛ قافلہ جدھر بھی جائے، غبار اپنے آپ پر پھولتا ہے۔

عیشِ این گلشن دلیلِ طبعِ خرسند است و بس

ورنہ از کس بیدماغی برنمی دارد بہار

ترجمہ اس گلشن کا عیش صرف قانع طبیعت کی دلیل ہے؛ ورنہ بہار کسی کی بد دماغی برداشت نہیں کرتی۔

طاقتِ خودداری از امواجِ دریا بردہ اند

داد ما را عشق در بی اختیاری اختیار

ترجمہ دریا کی موجوں سے خودداری کی طاقت چھین لی گئی ہے؛ عشق نے ہمیں بے اختیاری ہی میں اختیار دے دیا۔

ہمنوایی کو کہ از ما واکشد دردِ دلی

آب ہم در نالہ می آید بہ ذوقِ کوہسار

ترجمہ کوئی ہم نوا کہاں کہ ہم سے دل کا کچھ درد نکلوائے؛ کہسار کے ذوق میں پانی بھی نالہ کرنے لگتا ہے۔

دیدہ نتوان یافتن روشن سوادِ جلوہ اش

تا غبارت برنمی خیزد ز راہِ انتظار

ترجمہ جب تک انتظار کی راہ سے تیرا غبار نہ اٹھے، اس کے جلوے کی تحریر پڑھنے والی روشن آنکھ نہیں مل سکتی۔

دل بہ ذوقِ وصل نقشی می زند بر روی آب

ای ہوس آیینہ بشکن سخت بیرنگ است یار

ترجمہ دل وصل کے ذوق میں پانی پر نقش بناتا ہے؛ اے ہوس! آئینہ توڑ دے، یار بہت بے رنگ ہے۔

بی نگاہِ واپسینی نیست از خود رفتنم

چون رمِ آہوست گردِ وحشتم دنبالہ دار

ترجمہ میرا اپنے آپ سے جانا کسی آخری نگاہ کے بغیر نہیں؛ ہرن کی دوڑ کی طرح میری وحشت کی گرد دنبالہ دار ہے۔

عشرتِ گلزارِ بیرنگی مہیا کردہ ام

در خزانم رنگہای رفتہ می آید بہ کار

ترجمہ میں نے بے رنگی کے گلزار کا عیش مہیا کر لیا ہے؛ میری خزاں میں گزرے ہوئے رنگ کام آتے ہیں۔

نخلِ آہم آبیارِ من گدازِ دل بس است

بحرِ رحمت گو مجوش و ابرِ احسان گو مبار

ترجمہ میں آہ کا درخت ہوں، میری آبیاری کو دل کا گداز کافی ہے؛ رحمت کا سمندر جوش نہ مارے اور احسان کا بادل نہ برسے۔

تا نباشم خجلت آلودِ زمینگیری چو سنگ

محملِ پروازِ من بستند بر دوشِ شرار

ترجمہ تاکہ میں پتھر کی طرح زمین گیری کی شرمندگی میں آلودہ نہ رہوں، میری پرواز کا محمل چنگاری کے کندھے پر باندھ دیا گیا۔

سر متاب از چاکِ جیب و دامنِ دیوانگی

شانہ ای در کار دارد ریشخندِ روزگار

ترجمہ دیوانگی کے گریبان اور دامن کے چاک سے منہ نہ موڑ؛ زمانے کے ریشخند کو ایک کنگھی درکار ہے۔

برقِ راحتہاست بیدل اعتباراتِ جہان

نعل در آتش ز جوشِ رنگ می گردد بہار

ترجمہ بیدل! جہان کے اعتبارات راحتوں کے لیے بجلی ہیں؛ رنگ کے جوش سے بہار بے قرار پھرتی ہے۔