اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

جوش اشکیم وشکست آیینہ دار است اینجا

جوشِ اشکیم و شکست آیینہ دار است اینجا

رقصِ ہستی ہمہ دم شیشہ سوار است اینجا

ترجمہ ہم آنسوؤں کا جوش ہیں اور یہاں شکست ہی آئینہ دار ہے؛ یہاں ہستی کا رقص ہر دم شیشے پر سوار ہے۔

عرصۂ شوخیٔ ما گوشۂ ناپیدایی ست

ہرکہ رو تافت بہ آیینہ دچار است اینجا

ترجمہ ہماری شوخی کا میدان ناپیدائی کا ایک گوشہ ہے؛ یہاں جس نے بھی منہ موڑا وہ آئینے سے دوچار ہوا۔

عافیت چشم ز جمعیتِ اسباب مدار

ہرقدر ساغر و میناست خمار است اینجا

ترجمہ اسباب کی فراوانی سے عافیت کی امید نہ رکھ؛ یہاں جتنے ساغر و مینا ہیں، سب خمار ہیں۔

بہ غرورِ من و ما کلفتِ دلہا مپسند

ای جنون تاز نفس آینہ زار است اینجا

ترجمہ من و تو کے غرور میں دلوں کی کلفت پسند نہ کر؛ اے جنون میں دوڑنے والے! یہاں سانس آئینوں کا باغ ہے۔

نفیِ خود می کنم اثبات برون می آید

تا بہ کی رنگ توان باخت بہار است اینجا

ترجمہ میں اپنی نفی کرتا ہوں تو اثبات نکل آتا ہے؛ آخر کب تک رنگ ہارا جائے، یہاں تو بہار ہے۔

ہرچہ آید بہ نظر آن طرفش موہوم است

روز شب صورتِ پشت و رخِ کار است اینجا

ترجمہ جو کچھ نظر آتا ہے اس کی دوسری طرف موہوم ہے؛ یہاں دن اور رات کام کے الٹے اور سیدھے رخ کی صورت ہیں۔

سایہ ام با کہ دہم عرضہ سیہ بختیٔ خویش

روز ہم آینہ دارِ شبِ تار است اینجا

ترجمہ میں سایہ ہوں، اپنی سیاہ بختی کس کے سامنے پیش کروں؟ یہاں دن بھی اندھیری رات کا آئینہ دار ہے۔

دامنِ چیدہ در این دشت تنزہ دارد

خاکِ صیادِ گل از خونِ شکار است اینجا

ترجمہ اس دشت میں سمیٹا ہوا دامن پاکیزگی رکھتا ہے؛ یہاں شکاری کی خاک شکار کے خون سے پھول بنی ہوئی ہے۔

زندگی معبدِ شرمی ست چہ طاعت چہ گناہ

عرقِ جبہہ ہمان سبحہ شمار است اینجا

ترجمہ زندگی شرم کا ایک معبد ہے، کیا طاعت اور کیا گناہ؛ یہاں پیشانی کا پسینہ ہی تسبیح کے دانے گننے والا ہے۔

عشق می داند و بس قدرِ گرانجانیٔ من

سنگِ شیرازۂ اجزای شرار است اینجا

ترجمہ میری گراں جانی کی قدر بس عشق جانتا ہے؛ یہاں پتھر چنگاری کے اجزا کا شیرازہ ہے۔

چند بیدل بہ ہوا دست و گریبان بودن

جیبت از کف ندہی دامنِ یار است اینجا

ترجمہ بیدل! کب تک ہوا سے دست و گریباں رہے گا؟ اپنا گریبان ہاتھ سے نہ جانے دے، یہیں یار کا دامن ہے۔