جوشِ اشکیم و شکست آیینہ دار است اینجا | رقصِ ہستی ہمہ دم شیشہ سوار است اینجا |
ترجمہ ہم آنسوؤں کا جوش ہیں اور یہاں شکست ہی آئینہ دار ہے؛ یہاں ہستی کا رقص ہر دم شیشے پر سوار ہے۔ | |
عرصۂ شوخیٔ ما گوشۂ ناپیدایی ست | ہرکہ رو تافت بہ آیینہ دچار است اینجا |
ترجمہ ہماری شوخی کا میدان ناپیدائی کا ایک گوشہ ہے؛ یہاں جس نے بھی منہ موڑا وہ آئینے سے دوچار ہوا۔ | |
عافیت چشم ز جمعیتِ اسباب مدار | ہرقدر ساغر و میناست خمار است اینجا |
ترجمہ اسباب کی فراوانی سے عافیت کی امید نہ رکھ؛ یہاں جتنے ساغر و مینا ہیں، سب خمار ہیں۔ | |
بہ غرورِ من و ما کلفتِ دلہا مپسند | ای جنون تاز نفس آینہ زار است اینجا |
ترجمہ من و تو کے غرور میں دلوں کی کلفت پسند نہ کر؛ اے جنون میں دوڑنے والے! یہاں سانس آئینوں کا باغ ہے۔ | |
نفیِ خود می کنم اثبات برون می آید | تا بہ کی رنگ توان باخت بہار است اینجا |
ترجمہ میں اپنی نفی کرتا ہوں تو اثبات نکل آتا ہے؛ آخر کب تک رنگ ہارا جائے، یہاں تو بہار ہے۔ | |
ہرچہ آید بہ نظر آن طرفش موہوم است | روز شب صورتِ پشت و رخِ کار است اینجا |
ترجمہ جو کچھ نظر آتا ہے اس کی دوسری طرف موہوم ہے؛ یہاں دن اور رات کام کے الٹے اور سیدھے رخ کی صورت ہیں۔ | |
سایہ ام با کہ دہم عرضہ سیہ بختیٔ خویش | روز ہم آینہ دارِ شبِ تار است اینجا |
ترجمہ میں سایہ ہوں، اپنی سیاہ بختی کس کے سامنے پیش کروں؟ یہاں دن بھی اندھیری رات کا آئینہ دار ہے۔ | |
دامنِ چیدہ در این دشت تنزہ دارد | خاکِ صیادِ گل از خونِ شکار است اینجا |
ترجمہ اس دشت میں سمیٹا ہوا دامن پاکیزگی رکھتا ہے؛ یہاں شکاری کی خاک شکار کے خون سے پھول بنی ہوئی ہے۔ | |
زندگی معبدِ شرمی ست چہ طاعت چہ گناہ | عرقِ جبہہ ہمان سبحہ شمار است اینجا |
ترجمہ زندگی شرم کا ایک معبد ہے، کیا طاعت اور کیا گناہ؛ یہاں پیشانی کا پسینہ ہی تسبیح کے دانے گننے والا ہے۔ | |
عشق می داند و بس قدرِ گرانجانیٔ من | سنگِ شیرازۂ اجزای شرار است اینجا |
ترجمہ میری گراں جانی کی قدر بس عشق جانتا ہے؛ یہاں پتھر چنگاری کے اجزا کا شیرازہ ہے۔ | |
چند بیدل بہ ہوا دست و گریبان بودن | جیبت از کف ندہی دامنِ یار است اینجا |
ترجمہ بیدل! کب تک ہوا سے دست و گریباں رہے گا؟ اپنا گریبان ہاتھ سے نہ جانے دے، یہیں یار کا دامن ہے۔ | |
