جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

جراءت پیریم این بس کہ بہ چندین تک وتاز

جراءتِ پیریم این بس کہ بہ چندین تک و تاز

قدمِ عجز رساندم بہ سرِ عمرِ دراز

ترجمہ میری پیری کی جرأت بس یہی ہے کہ اتنی بھاگ دوڑ کے بعد، میں نے اپنی طویل عمر کے سرے پر عجز کا قدم پہنچا دیا۔

کاش بی فکرِ سحر قطع شود فرصتِ شمع

وہمِ انجام گدازی ست بہ طبعِ آغاز

ترجمہ کاش شمع کی مہلت صبح کی فکر کے بغیر ہی ختم ہو جائے، کیونکہ انجام کا وہم آغاز کی طبیعت کو پگھلا دیتا ہے۔

فرصت از کف ندہی تا نشوی داغِ فسوس

قاصدِ ملکِ عدم نامہ نمی آرد باز

ترجمہ فرصت کو ہاتھ سے مت جانے دے تاکہ تو افسوس کا داغ نہ بنے، (کیونکہ) ملکِ عدم کا قاصد خط واپس نہیں لاتا۔

رحمت از شوخیٔ ابرامِ تقاضاست بری

آن در باز کہ بر روی کسی نیست فراز

ترجمہ اُس کی رحمت تقاضے کے اصرار کی شوخی سے پاک ہے، وہ ایک ایسا کھلا دروازہ ہے جو کسی کے منہ پر بند نہیں ہوتا۔

نفسِ کافر نشد آگاہ ز اقبالِ سجود

کلۂ ناز خمی داشت بہ محرابِ نماز

ترجمہ میرا کافر نفس سجدے کی خوش بختی سے آگاہ نہ ہو سکا، حالانکہ نماز کی محراب میں ناز کی کلاہ نے ایک خم تو رکھا تھا۔

بر کہ نالیم ز محرومی و بیباکیٔ طبع

ہمہ بودیم ز توفیقِ ادب محرمِ راز

ترجمہ ہم اپنی محرومی اور طبیعت کی بے باکی کا کس سے شکوہ کریں؟ ہم سب تو ادب کی توفیق کی بدولت راز کے محرم تھے۔

شورِ اغراضِ جہان برد خموشی ز عدم

سرمہ در کوہ نماند از تک و تازِ آواز

ترجمہ دنیاوی اغراض کے شور نے عدم سے بھی خاموشی چھین لی، آواز کی گونج کی بھاگ دوڑ سے پہاڑ میں سرمہ تک باقی نہ رہا۔

حسن و عشق انجمنِ رونقِ اسرارِ ہمند

بی نیاز است نیاز آور و بر خویش بناز

ترجمہ حسن اور عشق ایک دوسرے کے اسرار کی رونق کی انجمن ہیں، (عشق) بے نیاز بھی ہے اور نیاز پیدا کرنے والا بھی، تُو اپنے آپ پر ناز کر۔

پیش از ایجاد ز تشویشِ تعین رستیم

در دلِ بیضہ شکستیم دماغِ پرواز

ترجمہ ہم تخلیق سے پہلے ہی تعین (وجود میں آنے) کی تشویش سے نجات پا چکے تھے، ہم نے انڈے کے اندر ہی پرواز کا دماغ توڑ دیا تھا۔

نشئۂ فیضِ ریاضت نتوان سہل شمرد

ای بسا سنگ کہ مینا شد از اقبالِ گداز

ترجمہ ریاضت کے فیض کے نشے کو آسان نہیں سمجھنا چاہیے، کتنے ہی پتھر ہیں جو پگھلنے کی خوش قسمتی سے صراحی بن گئے۔

فکرِ جمعیتِ دل کوتہیٔ ہمت بود

عقدہ تا باز نشد رشتہ نگردید دراز

ترجمہ دل کی جمعیت (سکون) کی فکر کرنا ہمت کی کوتاہی تھی، جب تک گرہ نہیں کھلتی، دھاگا لمبا نہیں ہوتا۔

نشدم محرمِ انجامِ رعونت بیدل

شمع ہرچند بہ من گفت کہ گردن مفراز

ترجمہ اے بیدل! میں تکبر کے انجام کا رازداں نہ بن سکا، اگرچہ شمع نے مجھ سے بارہا کہا کہ گردن اونچی مت کر۔