جز پیشِ ما مخوانید افسانۂ فنا را | ہرکس نمی شناسد آوازِ آشنا را |
ترجمہ فنا کا افسانہ ہمارے سوا کسی کے سامنے نہ پڑھو؛ ہر کوئی آشنا کی آواز نہیں پہچانتا۔ | |
از طاق و قصرِ دنیا کز خاک و خشت چینید | حیف است پست گیرید معراجِ پشتِ پا را |
ترجمہ دنیا کے طاق و قصر کے سبب، جنہیں تم مٹی اور اینٹ سے چنتے ہو، ٹھوکر مار دینے کی معراج کو پست سمجھنا افسوس کی بات ہے۔ | |
چشمِ طمع مدوزید بر کیسۂ خسیسان | باور نمی توان داشت سگ نان دہد گدا را |
ترجمہ کمینوں کی تھیلی پر لالچ کی آنکھ نہ گاڑو؛ یہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ کتا فقیر کو روٹی دے۔ | |
روزی دو زین بضاعت مردن کفیلِ ہستی ست | برگِ معاشِ ما کرد تقدیر خونبہا را |
ترجمہ اس پونجی کے ساتھ دو دن کے لیے مرنا ہی ہستی کا کفیل ہے؛ تقدیر نے خون بہا کو ہماری روزی کا سامان بنا دیا۔ | |
در چشمِ کس نماندہ ست گنجایشِ مروت | زین خانہ ہا چہ مقدار تنگی گرفت جا را |
ترجمہ کسی کی آنکھ میں مروت کی گنجائش نہیں رہی؛ ان گھروں کی تنگی نے جگہ کو کس قدر گھیر لیا۔ | |
از دستبردِ حاجت نم در جبین نداریم | آخر ہجومِ مطلب شست از عرق حیا را |
ترجمہ حاجت کی دست برد سے ہماری پیشانی پر نمی نہیں رہی؛ آخر مطلب کے ہجوم نے پسینے سے حیا کو دھو ڈالا۔ | |
جز نشئۂ تجرد شایستۂ جنون نیست | صرفِ بہارِ ما کن رنگی ز گل جدا را |
ترجمہ تجرد کے نشے کے سوا کچھ جنون کے شایان نہیں؛ پھول سے جدا ہو جانے والے رنگ کو ہماری بہار پر صرف کر۔ | |
تا زندہ ایم باید در فکرِ خویش مردن | گردونِ بی مروت بر ما گماشت ما را |
ترجمہ جب تک ہم زندہ ہیں اپنی ہی فکر میں مرنا ہے؛ بے مروت آسمان نے ہمیں ہم ہی پر مسلط کر دیا ہے۔ | |
آہم ز نارسایی شد اشک و با عرق ساخت | پستی ست گر خجالتِ شبنم کند ہوا را |
ترجمہ میری آہ نارسائی سے آنسو بن گئی اور پسینے سے نبھا کر لیا؛ اگر شبنم کی خجالت ہوا کو بھی نم کر دے تو یہ پستی ہی ہے۔ | |
بیکاری آخرِ کار دست مرا بہ خون بست | رنگین نمی توان کرد زین بیشتر حنا را |
ترجمہ بے کاری نے آخرکار میرا ہاتھ خون سے باندھ دیا؛ حنا کو اس سے زیادہ رنگین نہیں کیا جا سکتا۔ | |
دست در آستینم بی دامنِ غنا نیست | صبح است با اجابت نامحرم دعا را |
ترجمہ آستین میں چھپا ہوا ہاتھ بے نیازی کے دامن سے خالی نہیں؛ دعا کے لیے قبولیت سے ناآشنا رہنا ہی اس کی صبح ہے۔ | |
از ہرکہ خواہی امداد اول تلافی اش کن | دستی اگر نداری زحمت مدہ عصا را |
ترجمہ جس سے بھی مدد چاہو پہلے اس کا بدلہ چکا دو؛ اگر اپنا ہاتھ نہیں رکھتے تو عصا کو زحمت نہ دو۔ | |
خاکِ زمینِ آداب گر پی سپر توان کرد | ای تخمِ آدمیت بر سر گذار پا را |
ترجمہ اگر آداب کی سرزمین کی خاک پر چلنا ہی ہے تو اے آدمیت کے بیج، پاؤں سر کے بل رکھ۔ | |
ہنگامِ شیب بیدل کفر است شعلہ خویی | محرابِ کبر نتوان کردن قدِ دوتا را |
ترجمہ بیدل، بڑھاپے کے وقت شعلہ مزاجی کفر ہے؛ دہرے ہو چکے قد کو تکبر کی محراب نہیں بنایا جا سکتا۔ | |
