(تہذیب الاخلاق بابت 1296ھ صفحہ 31، 33)
ہم اس امر کا ذکر نہیں کرتے جس کا وقوع اتفاقیہ نیچر کے قواعد کے موافق کسی دوسرے امر کے مقارن1 ہوا ہو اور جس کو ہم کرامت اور معجزہ تصور کرتے ہیں، بلکہ اس کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جس کو لوگ کرامت اور معجزہ کہتے ہیں اور گویا سپر نیچرل ہونا اُس کی ذاتیات میں سے ہے۔
انسان کے دین اور دنیا اور تمدن و معاشرت، بلکہ زندگی کی حالت کو کرامت اور معجزہ پر یقین یا اعتقاد رکھنے سے زیادہ خراب کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ کرامت اور معجزہ پر اعتقاد رکھنے والا بعض ایسے انسانوں پر جو مثل دیگر انسانوں کے ہیں، کراماتی ہونے کا یقین کرتا ہے اور اُن کا بے جا خوف اُس کی طبیعت پر غالب ہوتا ہے اور اُن کی بدی و بد اخلاقی کو نظرانداز کرتا ہے اور اُن کی پرفریب و مکر آمیز باتوں کے دھوکے میں آتا ہے اور دین و دنیا سب کو برباد کرتا ہے۔ ٹھیٹ مذہبِ اسلام میں جو سب سے زیادہ خوبی ہے وہ یہی ہے کہ اُس نے اپنی سچائی کے ثبوت میں کسی معجزے یا کرامت کا حیلہ و بہانہ نہیں کیا، گو کہ بعد کو اُس کے پیرووں نے اپنی غلطی اور کم فہمی سے اُس کے ساتھ کرامت اور معجزہ کا ایسا لا انتہا سلسلہ باندھ دیا اور ایسی باتیں اُس کی نسبت بیان کیں جن کو خود مذہبِ اسلام نہ جانتا تھا۔
آنحضرت صلعم کے بعد خود اسلام کے پیرووں میں بہت سے فرقے پیدا ہوئے۔ اُس کی ابتداء یہی ہوئی کہ ایک شخص اُس فرقہ کا سرگروہ پیدا ہوا اور صاحبِ کرامت و صاحبِ معجزہ ہونے کا دعویٰ کیا اور جو لوگ معجزہ و کرامت پر اعتقاد رکھنے والے تھے، وہ اُس کے معتقد اور پیرو ہو گئے اور ٹھیٹ اسلام کو چھوڑ دیا اور اپنے دین و مذہب کو برباد کیا۔
ہم بطور تمثیل کے اس قسم کے دو تین فرقوں کا ذکر کرتے ہیں، اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ اُس فرقہ کا سرگروہ یا اُس فرقے والے درحقیقت گمراہ تھے یا نہیں اور واقع میں اُن کے اقوال اور اعتقادات کیا تھے، کیونکہ اُن کے اصلی اقوال ہم تک نہیں پہنچے ہیں اور جو کچھ پہنچے ہیں، اُن کے دشمنوں اور اُن کے مخالفوں کی تحریرات کے ذریعہ سے پہنچے ہیں جو اعتماد کے لائق نہیں ہیں، مگر اس بیان سے ہم کو اس قدر ثابت کرنا ہے کہ اگر وہ فرقہ درحقیقت اس فرقہ کے سرگروہ کی پیروی کے سبب گمراہ ہوا تھا تو اُس کا باعث بھی کرامت و معجزہ پر اعتقاد رکھنا تھا۔
ابتدائے زمانۂ اسلام، یعنی دوسری صدی میں خلیفہ مہدی کے وقت میں ایک شخص ظاہر ہوا جو ’’ابن مقنع2‘‘ کے لقب سے مشہور ہے۔ وہ ہمیشہ منہ پر مقنع ڈالے رہتا تھا، اس لئے کہ دنیا کو اُس کے چہرے کے نور دیکھنے کی طاقت نہیں ہے، حالانکہ حد سے زیادہ بدصورت تھا۔ اُس نے طرح طرح کے معجزوں اور کرامتوں کا دعویٰ کیا۔ ہزاروں آدمی اُس کے معتقد ہو گئے۔ اصل بنائے اعتقاد کی یہی تھی کہ وہ لوگ معجزوں اور کرامات کے حق میں ہونے کا یقین رکھتے تھے۔ کہتے تھے کہ آخرکار اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اسلام میں بڑی خرابیاں ڈالیں۔ اُس کے معتقدوں کو لوگ مرتد سمجھتے تھے اور خلیفہ مہدی کو اُس سے متعدد لڑائیاں لڑنی پڑیں جن میں آخرکار ابن مقنع کو شکست ہوئی۔
اُس کے بعد، یعنی 277ھ میں ایک شخص عرب، کوفہ کے قریب کے رہنے والے ’’قرامط3‘‘ نام نے شہرت پائی۔ کہتے ہیں کہ اُس نے عجیب لقب اختیار کئے تھے اور اپنے تئیں بالقاب ہادی، مرشد، برہان، کلمتہ اللہ، روح القدس، ناقۂ صالح، منادیٔ مسیح ملقب کیا تھا اور اپنے تئیں محمد بن حنفیہ، حواری یوحنا اور جبرئیلِ امین کا وکیلِ مطلق کہتا تھا۔ ہزاروں آدمی اُس کو صاحبِ معجزہ و صاحبِ کرامات اعتقاد کر کے اُس پر ایمان لے آئے۔ اُس نے خلفائے عباسیہ کو زیر کر دیا، مکۂ معظمہ کو جا لوٹا اور قتلِ عام کر ڈالا۔ چاہِ زمزم سے خون اُبل گیا، حرم میں لاشوں کے تودے لگ گئے، غلافِ کعبہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے، حجرِ اسود کو وہاں سے اُکھاڑ لیا اور فخریہ اپنے دارالخلافہ کو لے گیا۔
اسی طرح ہر زمانہ میں اسی کرامت و معجزہ کے اعتقاد کے لوگ ہمیشہ ایسے شخص کے جس نے کرامت و معجزہ کا دھوکا دیا معتقد ہوتے رہے ہیں۔ اکبر کے وقت میں روشنیہ فرقہ اور قریبِ عہدِ فرخ سیر کے حسینیہ فرقہ، جو میر محمد حسین کے پیرو تھے اور جس نے اپنے پر ایک کتابِ آسمانی کے اُترنے کا بھی دعویٰ کیا تھا اور اپنے تئیں بارھواں پیکوک4 کہتا تھا، اسی اعتقاد کے سبب اس کے معتقد ہو گئے تھے۔
پچھلی باتوں کو جانے دو، اسی زمانہ میں ہماری سوسائٹی کا حال دیکھو، کس قدر لوگ فقیروں کے اور مشایخوں کے پیچھے اسی کرامت کے اعتقاد کے سبب خراب ہیں۔ حماقت سے دعائیں منگواتے پھرتے ہیں۔ مرے ہوئے بزرگوں کی قبروں پر اُن کے صاحبِ کرامات ہونے کے اعتقاد سے چلے باندھتے ہیں، منتیں مانتے ہیں، بیماروں کو لے جاتے ہیں، چوکھٹ پر ڈال دیتے ہیں، درخت سے باندھ دیتے ہیں، کیا کیا کچھ ذلت و خواری ہے جو نہیں بھگتتے۔
شریفوں کے بچوں کے گلوں میں، جوانوں کے بازوؤں پر، اسی اعتقاد کے سبب تعویذوں کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔ امراض کے لئے، مرادیں حاصل ہونے کے لئے عمل پڑھے جاتے ہیں۔ ہمارے شہر میں ایک بڑے خاندانی بزرگ تھے۔ اپنی بواسیر کی بیماری پر اپنے پیر سے دم ڈلوانے جاتے تھے، ہمارے ایک دوست ہیں، وہ نماز کے بعد کچھ پڑھتے ہیں اور اپنی پھونک اپنی ہی مٹھی میں بند کرتے ہیں اور آگے پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ ہر چند کہتے ہیں کہ یہ تو باد بمشت پیمردن کی مثل ہے، مگر وہی اعتقادِ معجزہ و کرامت کا اس لغو حرکت کا باعث ہے۔ فقیر کی دعا سے مرد کا عورت اور عورت کا مرد ہو جانا یقین کرتے ہیں۔
اسی قماش کے وہ لوگ ہیں جو سحر پر یقین رکھتے ہیں۔ صرف اتنا فرق جانتے ہیں کہ اعمال پاک اور سحر ناپاک ہے، مگر دونوں کا نتیجہ واحد ہے۔ ہندوستانی عدالتوں میں سحر کے مقدمات دائر ہوتے ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فلاں شخص مدعا علیہ نے سحر سے میرے بیٹے کو بیٹی بنا دیا ہے۔ اچھے اچھے مقدس آدمی گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے اسی حاضر ہٰذا کو جو اب بیٹی ہے، بیٹا دیکھا تھا۔ یہ تمام برائیاں مذہبی اور تمدنی جو مسلمانوں میں پھیل رہی ہیں، ان کا سبب وہی کرامات و معجزہ پر اعتقاد کا ہونا ہے۔
تمام جاہل و وحشی ناتربیت یافتہ ملک و قوم میں معجزے و کرامات کے خیال ہوتے ہیں، مگر جب علم کی روشنی سے ملک و قوم روشن ہو جاتی ہیں تو یہ سب باتیں مٹتی جاتی ہیں۔ فرنگستان بھی جب تک جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، اُس وقت وہاں بھی ہزاروں آدمی صاحبِ کرامات و صاحبِ معجزات تھے، مگر اب کسی کا نام و نشان بھی نہیں پایا جاتا، بلکہ اب ہزاروں آدمی ایسے پیدا ہو گئے جن کے کاموں سے معجزہ و کرامت بھی متحیر ہے۔
یہ اعتقاد مسلمانوں کی تہذیب کا بہت بڑا اور قوی مانع ہے اور نیز ٹھیٹ مذہبِ اسلام کے بالکل برخلاف ہے۔ خود مذہبِ اسلام اُس امر کا جس کو لوگ معجزہ و کرامت کہتے ہیں، سخت مخالف ہے۔ قرآن مجید میں بہت سے معجزوں کا ذکر ہے، مگر وہ کیا ہیں؟ انسان کا پیدا کرنا، مینہ کا برسانا، اناج کا میووں کا اُگانا، سورج، چاند، ستاروں کا پیدا کرنا اور یہی درحقیقت معجزے ہیں۔ پس جب تک کہ مسلمانوں میں سے معجزے و کرامت کا اعتقاد نہیں جاتا، اُن کا کامل طور پر مہذب ہونا محالات سے ہے۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 123 تا 127 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

