کردہ ام باز بہ آن گریۂ سودا، سودا | کہ ز ہر اشک زدم بر سرِ دریا، دریا |
ترجمہ میں نے پھر اس سودائی گریے سے ایسا سودا کیا ہے کہ ہر آنسو سے دریا کے سر پر ایک دریا بہا دیا۔ | |
ساقی امشب چہ جنون ریخت بہ پیمانۂ ہوش | کہ شکستم بہ دل از قلقلِ مینا، مینا |
ترجمہ ساقی نے آج رات ہوش کے پیمانے میں کیسا جنون انڈیلا کہ صراحی کی قلقل سے میں نے دل میں صراحیاں توڑ ڈالیں۔ | |
محوِ او گشتم و رازم بہ ملاء توفان کرد | ہست حیرانیٔ عاشق لبِ گویا گویا |
ترجمہ میں اس میں محو ہو گیا اور میرا راز سرِ عام طوفان بن گیا؛ گویا عاشق کی حیرانی ہی بولنے والا لب ہے۔ | |
داغِ معماریٔ اشکم کہ بہ یک لغزیدن | عافیتہا شد ازین آبلہ برپا، برپا |
ترجمہ میں اپنے آنسو کی معماری پر حیران و داغ ہوں کہ ایک ہی لغزش میں اس آبلے سے عافیتوں کی عمارتیں کھڑی ہو گئیں۔ | |
دردِ عشقم من و خلوتگہِ رازم وطن است | گشتہ ام اینقدر از نالۂ رسوا، رسوا |
ترجمہ میں عشق کا درد ہوں اور راز کی خلوت گاہ میرا وطن ہے، پھر بھی رسوا کن نالے سے اس قدر رسوا ہو گیا ہوں۔ | |
نذرِ آوارگیٔ شوقِ ہوایت دارم | مشتِ خاکی کہ دہد طرح بہ صحرا، صحرا |
ترجمہ تیری آرزو کے شوق کی آوارگی کی نذر کے لیے میرے پاس ایک مٹھی خاک ہے جو صحرا میں صحرا کی بنیاد ڈال دے۔ | |
دلِ آشفتۂ ما را سرِ مویی دریاب | ای سرِ موی تو سرکوبِ ختنہا تنہا |
ترجمہ ہمارے پریشان دل کی بال برابر بھی خبر لے، اے وہ کہ تیرا ایک سرِ مو اکیلا ہی ختن کے سارے مشک کو مات دیتا ہے۔ | |
دورِ انسان بہ میانِ دو قدح مشترک است | تا چہ اقبال کند جامِ لدن یا دنیا |
ترجمہ انسان کا دور دو پیالوں کے درمیان مشترک ہے؛ دیکھیے کون قبول کرتا ہے، عالمِ لدنی کا جام یا دنیا کا۔ | |
تا تقاضا بہ میان آمدہ مطلب رفتہ ست | نیست غیر از کفِ افسوس طلبہا، لبہا |
ترجمہ جوں ہی تقاضا درمیان آیا، مطلب چلا گیا؛ طلبوں کے لب افسوس سے ملے ہاتھ کے سوا کچھ نہیں۔ | |
بیدل این نقد بہ تاراجِ غمِ نسیہ مدہ | کارِ امروز کن امروز، ز فردا، فردا |
ترجمہ بیدل! یہ نقد، ادھار کے غم کی لوٹ کے حوالے نہ کر؛ آج کا کام آج کر، اور کل کا کل۔ | |
