کسی چہ شکر کند دولتِ تمنا را | بہ عالمی کہ تویی نالہ می کشد ما را |
ترجمہ کوئی تمنا کی دولت کا شکر کیسے ادا کرے؛ جس عالم میں تو ہے، نالہ ہمیں اسی طرف کھینچے لیے جاتا ہے۔ | |
ندارد انجمنِ یأسِ ما شرابِ دگر | ہم از شکست مگر پر کنیم مینا را |
ترجمہ ہماری یاس کی انجمن میں کوئی اور شراب نہیں؛ شاید ہم شکست ہی سے صراحی بھر لیں۔ | |
بہ عالمی کہ حلاوت نشانۂ ننگ است | دو نیم چون نشود دل ز غصہ خرما را |
ترجمہ جس دنیا میں مٹھاس ننگ کی نشانی ہو وہاں کھجور کا دل غصے سے دو ٹکڑے کیوں نہ ہو۔ | |
ہنوز ارۂ دندانِ موج در نظر است | گہر بہ دامنِ راحت چسان کشد پا را |
ترجمہ موج کے دانتوں کا آرا ابھی تک نظر میں ہے؛ موتی راحت کے دامن میں پاؤں کیسے سمیٹے۔ | |
درشت خو چہ خیال است نرم گو باشد؟ | شرارخیزی محض است طبعِ خارا را |
ترجمہ سخت مزاج نرم گو ہو، یہ کیا خیال ہے؟ سنگِ خارا کی طبیعت تو محض چنگاریاں اڑانا ہے۔ | |
سلامت آینۂ اعتبارِ امکان نیست | شکستہ اند بہ صد موج رنگِ دریا را |
ترجمہ سلامتی امکان کے اعتبار کا آئینہ نہیں؛ دریا کے رنگ کو سو موجوں سے توڑا گیا ہے۔ | |
صفای دل بہ کدورت مدہ ز فکرِ دویی | کہ عکس تنگ بر آیینہ کند جا را |
ترجمہ دوئی کی فکر سے دل کی صفائی کو کدورت کے حوالے نہ کر، کہ عکس آئینے پر جگہ تنگ کر دیتا ہے۔ | |
برونِ لفظ محال است جلوۂ معنی | ہمان ز کسوتِ اسما طلب مسما را |
ترجمہ لفظ سے باہر معنی کا جلوہ محال ہے؛ مسمّیٰ کو ناموں کے لباس ہی میں تلاش کر۔ | |
رسیدہ ایم ز اسما بہ فہمِ معنیٔ خویش | گرفتہ ایم ز عنقا سراغِ عنقا را |
ترجمہ ہم ناموں کے ذریعے اپنے معنی کے فہم تک پہنچے ہیں؛ ہم نے عنقا ہی سے عنقا کا سراغ پایا ہے۔ | |
ہزار معنیٔ پیچیدہ در تغافلِ تست | بہ ابروی تو چہ نسبت زبانِ گویا را |
ترجمہ تیرے تغافل میں ہزار پیچیدہ معنی ہیں؛ بولتی زبان کو تیرے ابرو سے کیا نسبت۔ | |
سبکروان بہ ہوایت چنان ز خود رفتند | کہ چون نفس نرساندند بر زمین پا را |
ترجمہ سبک رو لوگ تیری آرزو میں ایسے بے خود ہو کر گزرے کہ سانس کی طرح انہوں نے زمین پر پاؤں تک نہ رکھا۔ | |
