اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کسی چہ شکرکند دولت تمنا را

کسی چہ شکر کند دولتِ تمنا را

بہ عالمی کہ تویی نالہ می کشد ما را

ترجمہ کوئی تمنا کی دولت کا شکر کیسے ادا کرے؛ جس عالم میں تو ہے، نالہ ہمیں اسی طرف کھینچے لیے جاتا ہے۔

ندارد انجمنِ یأسِ ما شرابِ دگر

ہم از شکست مگر پر کنیم مینا را

ترجمہ ہماری یاس کی انجمن میں کوئی اور شراب نہیں؛ شاید ہم شکست ہی سے صراحی بھر لیں۔

بہ عالمی کہ حلاوت نشانۂ ننگ است

دو نیم چون نشود دل ز غصہ خرما را

ترجمہ جس دنیا میں مٹھاس ننگ کی نشانی ہو وہاں کھجور کا دل غصے سے دو ٹکڑے کیوں نہ ہو۔

ہنوز ارۂ دندانِ موج در نظر است

گہر بہ دامنِ راحت چسان کشد پا را

ترجمہ موج کے دانتوں کا آرا ابھی تک نظر میں ہے؛ موتی راحت کے دامن میں پاؤں کیسے سمیٹے۔

درشت خو چہ خیال است نرم گو باشد؟

شرارخیزی محض است طبعِ خارا را

ترجمہ سخت مزاج نرم گو ہو، یہ کیا خیال ہے؟ سنگِ خارا کی طبیعت تو محض چنگاریاں اڑانا ہے۔

سلامت آینۂ اعتبارِ امکان نیست

شکستہ اند بہ صد موج رنگِ دریا را

ترجمہ سلامتی امکان کے اعتبار کا آئینہ نہیں؛ دریا کے رنگ کو سو موجوں سے توڑا گیا ہے۔

صفای دل بہ کدورت مدہ ز فکرِ دویی

کہ عکس تنگ بر آیینہ کند جا را

ترجمہ دوئی کی فکر سے دل کی صفائی کو کدورت کے حوالے نہ کر، کہ عکس آئینے پر جگہ تنگ کر دیتا ہے۔

برونِ لفظ محال است جلوۂ معنی

ہمان ز کسوتِ اسما طلب مسما را

ترجمہ لفظ سے باہر معنی کا جلوہ محال ہے؛ مسمّیٰ کو ناموں کے لباس ہی میں تلاش کر۔

رسیدہ ایم ز اسما بہ فہمِ معنیٔ خویش

گرفتہ ایم ز عنقا سراغِ عنقا را

ترجمہ ہم ناموں کے ذریعے اپنے معنی کے فہم تک پہنچے ہیں؛ ہم نے عنقا ہی سے عنقا کا سراغ پایا ہے۔

ہزار معنیٔ پیچیدہ در تغافلِ تست

بہ ابروی تو چہ نسبت زبانِ گویا را

ترجمہ تیرے تغافل میں ہزار پیچیدہ معنی ہیں؛ بولتی زبان کو تیرے ابرو سے کیا نسبت۔

سبکروان بہ ہوایت چنان ز خود رفتند

کہ چون نفس نرساندند بر زمین پا را

ترجمہ سبک رو لوگ تیری آرزو میں ایسے بے خود ہو کر گزرے کہ سانس کی طرح انہوں نے زمین پر پاؤں تک نہ رکھا۔