کسی در بندِ غفلت ماندہ ای چون من ندید اینجا | دو عالم یک درِ باز است و می جویم کلید اینجا |
ترجمہ یہاں کسی نے میرے جیسا غفلت کی قید میں پڑا ہوا نہیں دیکھا؛ دونوں عالم ایک کھلا دروازہ ہیں اور میں یہاں کنجی ڈھونڈ رہا ہوں۔ | |
سراغِ منزلِ مقصد مپرس از ما زمینگیران | بہ سعیِ نقشِ پا راہی نمی گردد سفید اینجا |
ترجمہ ہم زمین گیروں سے منزلِ مقصود کا سراغ نہ پوچھ؛ یہاں نقشِ پا کی کوشش سے کوئی راستہ روشن نہیں ہوتا۔ | |
تپیدن رہ ندارد در تجلیگاہِ حیرانی | توان گر پای تا سر اشک شد نتوان چکید اینجا |
ترجمہ حیرانی کی تجلی گاہ میں تڑپنے کی راہ نہیں؛ اگر سر سے پاؤں تک آنسو بھی بن جائیں تو یہاں ٹپک نہیں سکتے۔ | |
ز گلزارِ ہوس تا آرزو برگی بہ چنگ آرد | بہ مژگان عمرہا چون ریشہ می باید دوید اینجا |
ترجمہ ہوس کے گلزار سے آرزو ایک پتا ہاتھ میں لائے، اس کے لیے یہاں عمروں تک جڑ کی طرح پلکوں کے بل دوڑنا پڑتا ہے۔ | |
تحیر گر بہ چشمِ انتظارِ ما نپردازد | چہ وسعت می توان چیدن ز آغوشِ امید اینجا |
ترجمہ اگر حیرت ہماری منتظر آنکھ کو نہ سنوارے تو یہاں امید کی آغوش سے کیا وسعت سمیٹی جا سکتی ہے۔ | |
ترشرویی ندارد یمنِ جمعیت در این محفل | چو شیر این سرکہ ات از یکدگر خواہد برید اینجا |
ترجمہ اس محفل میں ترش روئی جمعیت کی برکت نہیں رکھتی؛ یہ سرکہ تجھے یہاں دودھ کی طرح ایک دوسرے سے پھاڑ دے گا۔ | |
بہ دل نقشی نمی بندد کہ با وحشت نپیوندد | نمی دانم کدامین بی وفا آیینہ چید اینجا |
ترجمہ دل پر کوئی نقش نہیں بنتا جو وحشت سے نہ جا ملے؛ نہیں جانتا کس بے وفا نے یہاں آئینہ سجایا ہے۔ | |
مرا از بی بری ہم راحتی حاصل نشد، ورنہ | بہارِ سایہ ای رنگینتر از گل داشت بید اینجا |
ترجمہ مجھے بے ثمری سے بھی کوئی راحت نہ ملی، ورنہ یہاں بید کے پاس پھول سے زیادہ رنگین سائے کی بہار تھی۔ | |
گواہِ کشتۂ تیغِ نگاہِ اوست حیرانی | کفن بردوشیٔ بسمل بود چشمِ سفید اینجا |
ترجمہ حیرانی اس کی نگاہ کی تلوار کے مقتول کی گواہ ہے؛ یہاں پتھرائی ہوئی آنکھ ہی بسمل کا کندھے پر رکھا کفن ہے۔ | |
کفن در مشہدِ ما بینوایان خونبہا دارد | ز عریانی برون آ گر توانی شد شہید اینجا |
ترجمہ ہم بے نواؤں کی شہادت گاہ میں کفن خوں بہا رکھتا ہے؛ اگر یہاں شہید ہو سکتا ہے تو عریانی سے باہر آ۔ | |
ہجومِ درد پیچیدہ ست ہستی تا عدم بیدل | تو ہم گر گوش داری نالہ ای خواہی شنید اینجا |
ترجمہ بیدل! ہستی سے عدم تک درد کا ہجوم لپٹا ہوا ہے؛ اگر تو بھی کان رکھتا ہے تو یہاں ایک نالہ سن لے گا۔ | |
