خارِ غفلت می نشانی در ریاضِ دل چرا | می نمایی چشمِ حق بین را رہِ باطل چرا |
ترجمہ تو دل کے باغ میں غفلت کا کانٹا کیوں بوتا ہے، حق دیکھنے والی آنکھ کو باطل کی راہ کیوں دکھاتا ہے۔ | |
مرغِ لاہوتی چہ محبوسِ طبایع ماندہ ای | شاہبازِ قدسی و بر جیفہ ای مایل چرا |
ترجمہ تو لاہوتی پرندہ ہے، طبیعتوں کا قیدی کیوں بنا بیٹھا ہے، تو قدسی شہباز ہے، مردار کی طرف کیوں مائل ہے۔ | |
بحرِ توفان جوشی و پروازِ شوخی موجِ تست | ماندہ ای افسردہ و لب خشک چون ساحل چرا |
ترجمہ تو طوفان کے جوش والا سمندر ہے اور شوخی کی پرواز تیری موج ہے، پھر ساحل کی طرح افسردہ اور خشک لب کیوں پڑا ہے۔ | |
چشم واکن گلخنِ ناسوت مأوای تو نیست | بر کفِ خاکسترِ افسردہ بندی دل چرا |
ترجمہ آنکھ کھول، ناسوت کی بھٹی تیرا ٹھکانا نہیں، افسردہ راکھ کی مٹھی سے دل کیوں لگاتا ہے۔ | |
نیستی یأجوج سدِّ جسم در راہِ تو چیست | نیستی ہاروت مردی در چہِ بابل چرا |
ترجمہ تو یاجوج نہیں، پھر تیری راہ میں جسم کی دیوار کیا ہے، تو ہاروت نہیں، اے مرد، بابل کے کنویں میں کیوں پڑا ہے۔ | |
غربتِ صحرای امکانت دو روزی بیش نیست | از وطن یکبارہ گشتی اینقدر غافل چرا |
ترجمہ امکان کے صحرا میں تیری مسافرت دو دن سے زیادہ کی نہیں، تو وطن سے اس قدر یکسر غافل کیوں ہو گیا۔ | |
زین قفس تا آشیانت نیم پروازست و بس | بالِ ہمت برنمی افشانی ای بسمل چرا |
ترجمہ اس قفس سے تیرے آشیانے تک بس آدھی اڑان کا فاصلہ ہے، اے بسمل، تو ہمت کے پر کیوں نہیں پھڑپھڑاتا۔ | |
قمریٔ یک سرو باش و عندلیبِ یک چمن | می شوی پروانہ گردِ شمعِ ہر محفل چرا |
ترجمہ ایک سرو کی قمری بن اور ایک چمن کی بلبل، ہر محفل کی شمع کے گرد پروانہ کیوں بنتا ہے۔ | |
ابر اینجا می کند از کیسۂ دریا کرم | ای توانگر برنیاری حاجتِ سایل چرا |
ترجمہ یہاں بادل بھی سمندر کی تھیلی سے کرم کرتا ہے، اے دولت مند، تو سائل کی حاجت کیوں پوری نہیں کرتا۔ | |
ناقۂ وحشت متاعان دوشِ آزادیٔ تست | چون شرر بر سنگ باید بستنت محمل چرا |
ترجمہ وحشت کا سامان رکھنے والوں کی اونٹنی تیری آزادی کا کندھا ہے، پھر شرر کی طرح تجھے پتھر پر محمل کیوں باندھنا پڑے۔ | |
خطِ سیرابی ندارد مسطرِ موجِ سراب | بیدل این دلبستگی بر نقشِ آب و گل چرا |
ترجمہ سراب کی موج کا مسطر سیرابی کی لکیر نہیں رکھتا، اے بیدل، آب و گل کے نقش سے یہ دل بستگی کیوں۔ | |
