اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

خار غفلت می نشانی در ریاض دل چرا

خارِ غفلت می نشانی در ریاضِ دل چرا

می نمایی چشمِ حق بین را رہِ باطل چرا

ترجمہ تو دل کے باغ میں غفلت کا کانٹا کیوں بوتا ہے، حق دیکھنے والی آنکھ کو باطل کی راہ کیوں دکھاتا ہے۔

مرغِ لاہوتی چہ محبوسِ طبایع ماندہ ای

شاہبازِ قدسی و بر جیفہ ای مایل چرا

ترجمہ تو لاہوتی پرندہ ہے، طبیعتوں کا قیدی کیوں بنا بیٹھا ہے، تو قدسی شہباز ہے، مردار کی طرف کیوں مائل ہے۔

بحرِ توفان جوشی و پروازِ شوخی موجِ تست

ماندہ ای افسردہ و لب خشک چون ساحل چرا

ترجمہ تو طوفان کے جوش والا سمندر ہے اور شوخی کی پرواز تیری موج ہے، پھر ساحل کی طرح افسردہ اور خشک لب کیوں پڑا ہے۔

چشم واکن گلخنِ ناسوت مأوای تو نیست

بر کفِ خاکسترِ افسردہ بندی دل چرا

ترجمہ آنکھ کھول، ناسوت کی بھٹی تیرا ٹھکانا نہیں، افسردہ راکھ کی مٹھی سے دل کیوں لگاتا ہے۔

نیستی یأجوج سدِّ جسم در راہِ تو چیست

نیستی ہاروت مردی در چہِ بابل چرا

ترجمہ تو یاجوج نہیں، پھر تیری راہ میں جسم کی دیوار کیا ہے، تو ہاروت نہیں، اے مرد، بابل کے کنویں میں کیوں پڑا ہے۔

غربتِ صحرای امکانت دو روزی بیش نیست

از وطن یکبارہ گشتی اینقدر غافل چرا

ترجمہ امکان کے صحرا میں تیری مسافرت دو دن سے زیادہ کی نہیں، تو وطن سے اس قدر یکسر غافل کیوں ہو گیا۔

زین قفس تا آشیانت نیم پروازست و بس

بالِ ہمت برنمی افشانی ای بسمل چرا

ترجمہ اس قفس سے تیرے آشیانے تک بس آدھی اڑان کا فاصلہ ہے، اے بسمل، تو ہمت کے پر کیوں نہیں پھڑپھڑاتا۔

قمریٔ یک سرو باش و عندلیبِ یک چمن

می شوی پروانہ گردِ شمعِ ہر محفل چرا

ترجمہ ایک سرو کی قمری بن اور ایک چمن کی بلبل، ہر محفل کی شمع کے گرد پروانہ کیوں بنتا ہے۔

ابر اینجا می کند از کیسۂ دریا کرم

ای توانگر برنیاری حاجتِ سایل چرا

ترجمہ یہاں بادل بھی سمندر کی تھیلی سے کرم کرتا ہے، اے دولت مند، تو سائل کی حاجت کیوں پوری نہیں کرتا۔

ناقۂ وحشت متاعان دوشِ آزادیٔ تست

چون شرر بر سنگ باید بستنت محمل چرا

ترجمہ وحشت کا سامان رکھنے والوں کی اونٹنی تیری آزادی کا کندھا ہے، پھر شرر کی طرح تجھے پتھر پر محمل کیوں باندھنا پڑے۔

خطِ سیرابی ندارد مسطرِ موجِ سراب

بیدل این دلبستگی بر نقشِ آب و گل چرا

ترجمہ سراب کی موج کا مسطر سیرابی کی لکیر نہیں رکھتا، اے بیدل، آب و گل کے نقش سے یہ دل بستگی کیوں۔