خط آوردی و ننوشتی براتِ مطلبِ ما را | بہ خود کردی دراز آخر زبانِ دودِ دلہا را |
ترجمہ تو خط لے آیا مگر ہمارے مطلب کی برات نہ لکھی؛ آخر دلوں کے دھویں کی زبان کو اپنے اوپر دراز کر لیا۔ | |
ہوایت نکہتِ گل را کند داغِ دلِ گلشن | تمنایت نگہ در دیدہ خون سازد تماشا را |
ترجمہ تیری آرزو پھول کی خوشبو کو گلشن کے دل کا داغ بنا دیتی ہے؛ تیری تمنا آنکھ میں نگاہ کو خون کر کے تماشے کو ختم کر دیتی ہے۔ | |
سفید از حسرتِ این انتظار است استخوانِ من | کہ یارب ناوکت در کوچۂ دل کی نہد پا را |
ترجمہ اس انتظار کی حسرت سے میری ہڈیاں سفید ہو گئیں کہ یا رب تیرا تیر دل کے کوچے میں کب قدم رکھے گا۔ | |
غبارِ رنگِ ما از عاجزی بالی نزد ورنہ | شکستِ طرہ ات عمری ست پیدا می کند ما را |
ترجمہ ہمارے رنگ کے غبار نے عاجزی کے سبب پر نہ مارے، ورنہ ایک عمر سے تیری زلف کی شکن ہمیں نمایاں کر رہی ہے۔ | |
حریفِ وحشتِ دل دیدۂ حیران نمی گردد | گہر مشکل فراہم آورد اجزای دریا را |
ترجمہ حیران آنکھ دل کی وحشت کی ہم سر نہیں ہو سکتی؛ موتی دریا کے اجزا کو مشکل ہی سے یکجا کر پاتا ہے۔ | |
سخن تا در جہان باقی ست از معدومی آزادم | زبانِ گفتگوہا بالِ پروازست عنقا را |
ترجمہ جب تک دنیا میں سخن باقی ہے میں معدوم ہو جانے سے آزاد ہوں؛ گفتگو کی زبان عنقا کے لیے پرواز کا پر ہے۔ | |
خزانِ چہرہ بس باشد بہارِ آبروی من | گواہِ فتحِ دل دارم شکستِ رنگِ سیما را |
ترجمہ چہرے کی خزاں ہی میری آبرو کی بہار کے لیے کافی ہے؛ رخسار کے رنگ کا اڑ جانا میرے پاس دل کی فتح کا گواہ ہے۔ | |
بلند و پستِ خارِ راہِ عجزِ ما نمی گردد | بہ پہلو قطع سازد سایہ چندین کوہ و صحرا را |
ترجمہ بلندی اور پستی ہمارے عجز کی راہ کا کانٹا نہیں بنتی؛ سایہ پہلو کے بل کتنے ہی پہاڑ اور صحرا طے کر لیتا ہے۔ | |
الہی از سرِ ما کم نگردد سایۂ مستی | کہ بی صہبا بہ پیشانی سجودی نیست مینا را |
ترجمہ الٰہی، ہمارے سر سے مستی کا سایہ کم نہ ہو، کہ شراب کے بغیر صراحی کی پیشانی پر کوئی سجدہ نہیں۔ | |
بہ بزمِ وصل از شوقِ فضول ایمن نی ام بیدل | مبادا ابرام تمہیدِ تغافل گردد ایما را |
ترجمہ بیدل، وصل کی بزم میں بھی میں فضول شوق سے بے خوف نہیں؛ ایسا نہ ہو کہ اصرار اشارے کے لیے تغافل کی تمہید بن جائے۔ | |
