اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

خط آوردی و ننوشتی برات مطلب ما را

خط آوردی و ننوشتی براتِ مطلبِ ما را

بہ خود کردی دراز آخر زبانِ دودِ دلہا را

ترجمہ تو خط لے آیا مگر ہمارے مطلب کی برات نہ لکھی؛ آخر دلوں کے دھویں کی زبان کو اپنے اوپر دراز کر لیا۔

ہوایت نکہتِ گل را کند داغِ دلِ گلشن

تمنایت نگہ در دیدہ خون سازد تماشا را

ترجمہ تیری آرزو پھول کی خوشبو کو گلشن کے دل کا داغ بنا دیتی ہے؛ تیری تمنا آنکھ میں نگاہ کو خون کر کے تماشے کو ختم کر دیتی ہے۔

سفید از حسرتِ این انتظار است استخوانِ من

کہ یارب ناوکت در کوچۂ دل کی نہد پا را

ترجمہ اس انتظار کی حسرت سے میری ہڈیاں سفید ہو گئیں کہ یا رب تیرا تیر دل کے کوچے میں کب قدم رکھے گا۔

غبارِ رنگِ ما از عاجزی بالی نزد ورنہ

شکستِ طرہ ات عمری ست پیدا می کند ما را

ترجمہ ہمارے رنگ کے غبار نے عاجزی کے سبب پر نہ مارے، ورنہ ایک عمر سے تیری زلف کی شکن ہمیں نمایاں کر رہی ہے۔

حریفِ وحشتِ دل دیدۂ حیران نمی گردد

گہر مشکل فراہم آورد اجزای دریا را

ترجمہ حیران آنکھ دل کی وحشت کی ہم سر نہیں ہو سکتی؛ موتی دریا کے اجزا کو مشکل ہی سے یکجا کر پاتا ہے۔

سخن تا در جہان باقی ست از معدومی آزادم

زبانِ گفتگوہا بالِ پروازست عنقا را

ترجمہ جب تک دنیا میں سخن باقی ہے میں معدوم ہو جانے سے آزاد ہوں؛ گفتگو کی زبان عنقا کے لیے پرواز کا پر ہے۔

خزانِ چہرہ بس باشد بہارِ آبروی من

گواہِ فتحِ دل دارم شکستِ رنگِ سیما را

ترجمہ چہرے کی خزاں ہی میری آبرو کی بہار کے لیے کافی ہے؛ رخسار کے رنگ کا اڑ جانا میرے پاس دل کی فتح کا گواہ ہے۔

بلند و پستِ خارِ راہِ عجزِ ما نمی گردد

بہ پہلو قطع سازد سایہ چندین کوہ و صحرا را

ترجمہ بلندی اور پستی ہمارے عجز کی راہ کا کانٹا نہیں بنتی؛ سایہ پہلو کے بل کتنے ہی پہاڑ اور صحرا طے کر لیتا ہے۔

الہی از سرِ ما کم نگردد سایۂ مستی

کہ بی صہبا بہ پیشانی سجودی نیست مینا را

ترجمہ الٰہی، ہمارے سر سے مستی کا سایہ کم نہ ہو، کہ شراب کے بغیر صراحی کی پیشانی پر کوئی سجدہ نہیں۔

بہ بزمِ وصل از شوقِ فضول ایمن نی ام بیدل

مبادا ابرام تمہیدِ تغافل گردد ایما را

ترجمہ بیدل، وصل کی بزم میں بھی میں فضول شوق سے بے خوف نہیں؛ ایسا نہ ہو کہ اصرار اشارے کے لیے تغافل کی تمہید بن جائے۔