خطِ جبینِ ماست ہماغوشِ نقشِ پا | دارد ہجومِ سجدۂ ما جوشِ نقشِ پا |
ترجمہ ہماری پیشانی کی لکیر نقشِ پا سے ہم آغوش ہے؛ ہمارے سجدوں کا ہجوم نقشِ پا کا جوش رکھتا ہے۔ | |
راہِ عدم بہ سعیِ نفس قطع می کنیم | افکندہ ایم بارِ خود از دوشِ نقشِ پا |
ترجمہ ہم عدم کی راہ سانس کی کوشش سے طے کرتے ہیں؛ ہم نے اپنا بوجھ نقشِ پا کے کندھے سے اتار پھینکا ہے۔ | |
رنجِ خمار تا نرسد در سراغِ دوست | بستم سبوی آبلہ بر دوشِ نقشِ پا |
ترجمہ تاکہ دوست کی تلاش میں خمار کا رنج نہ پہنچے، میں نے آبلے کا سبو نقشِ پا کے کندھے پر باندھ دیا۔ | |
چون جادہ تا بہ راہِ رضا سر نہادہ ایم | موجِ گل است بر سرِ ما جوشِ نقشِ پا |
ترجمہ جب سے ہم نے راستے کی لکیر کی طرح رضا کی راہ میں سر رکھ دیا ہے، ہمارے سر پر نقشِ پا کا جوش پھولوں کی موج ہے۔ | |
سامانِ عیشِ ما نشود کم ز بعدِ مرگ | تا مشتِ خاکِ ماست قدح نوشِ نقشِ پا |
ترجمہ موت کے بعد بھی ہمارے عیش کا سامان کم نہ ہوگا، جب تک ہماری مٹھی بھر خاک نقشِ پا کا جام پیتی رہے۔ | |
ماییم و آرزوی جبین ساییٔ دری | افسر چہ می کند سرِ مدہوشِ نقشِ پا |
ترجمہ ہم ہیں اور کسی در پر پیشانی رگڑنے کی آرزو؛ نقشِ پا پر مدہوش سر کو تاج سے کیا کام۔ | |
چشمِ اثر ندیدہ ز رفتارِ ما نشان | چون سایہ ام خرابِ فراموشِ نقشِ پا |
ترجمہ اثر کی آنکھ نے ہماری رفتار کا کوئی نشان نہیں دیکھا؛ میں سائے کی طرح نقشِ پا کی فراموشی میں برباد ہوں۔ | |
ہر سر کہ پخت دیگِ خیالِ رعونتی | پوشیدش آسمان تہِ سرپوشِ نقشِ پا |
ترجمہ جس سر نے غرور کے خیال کی دیگ پکائی، آسمان نے اسے نقشِ پا کے سرپوش تلے ڈھانپ دیا۔ | |
مستانہ می خرامی و ترسم کہ در رہت | با رنگِ چہرہ ام بپرد ہوشِ نقشِ پا |
ترجمہ تو مستانہ خرام کرتا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ تیری راہ میں میرے چہرے کے رنگ کے ساتھ نقشِ پا کے ہوش بھی اڑ جائیں۔ | |
در ہر قدم ز شوقِ خرامِ تو می کشد | خمیازۂ فغان لبِ خاموشِ نقشِ پا |
ترجمہ تیرے خرام کے شوق میں ہر قدم پر نقشِ پا کا خاموش لب فریاد کی انگڑائی لیتا ہے۔ | |
گاہِ خرام می چکد از پای نازکت | رنگِ حنا بہ گرمیٔ آغوشِ نقشِ پا |
ترجمہ خرام کے وقت تیرے نازک پاؤں سے مہندی کا رنگ نقشِ پا کی آغوش کی گرمی میں ٹپکتا ہے۔ | |
رنگِ بنایم از خطِ تسلیم ریختند | یک جبہہ سجدہ است بر و دوشِ نقشِ پا |
ترجمہ میری بنیاد کا رنگ تسلیم کی لکیر سے ڈالا گیا؛ نقشِ پا کا سینہ و شانہ ایک پیشانی بھر سجدہ ہے۔ | |
بیدل ز جوشِ آبلہ ام در رہِ طلب | گوہرفروش شد چو صدف گوشِ نقشِ پا |
ترجمہ بیدل! طلب کی راہ میں میرے آبلوں کے جوش سے نقشِ پا کا کان سیپ کی طرح موتی بیچنے والا بن گیا۔ | |
