خط (1) — 1903ء (جلد اوّل، خط 5)
’’ماہِ رواں کے کسی اخبار میں میں نے پڑھا تھا کہ فنِ سخن کے استاد اور ملکِ نظم کے بادشاہ حضرت امیر مینائی کی لائف ابھی تک نہیں لکھی گئی۔ راقمِ مضمون نے جناب امیر مرحوم کے اکثر تلامذہ اور بالخصوص حضرت جلیل، ریاض، مضطر، کوثر، عابد اور اُن کے خلفِ ارشد حضرتِ اختر وغیرہ کو متوجّہ کیا ہے کہ ایسا شاعرِ بے نظیر اور اُن کی لائف اب تک نہ لکھی جائے۔ بے شک یہ حیرانی کی بات ہے کہ کیوں اب تک فنِ سخن کے قدردان بزرگوں نے امیرؔ مرحوم کی شاعرانہ اور پبلک زندگی کو کاغذی جامہ نہیں پہنایا، جس کے دیکھنے کے لیے سخن فہم طبیعتیں بے چینی سے منتظر ہیں۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ ایسے صاحبِ کمال کی سوانح عمریاں ایک نہیں کئی لکھی جاتیں اور کئی کئی بار چھپتیں، مگر: ع1
|
اے کمال افسوس ہے تجھ پر کمال افسوس ہے |
حضرت امیر کے کلام کا مطالعہ کرنے والوں سے مخفی نہیں کہ وہ صرف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ اُن کا درجہ شاعری سے بہت بڑھا ہوا تھا۔ اُن کے کلام میں ایک خاص قسم کا درد اور ایک خاص قسم کی لے پائی جاتی ہے، جو صاحب دلوں کو بے چین کر دیتی ہے اور وہ کلیجہ پکڑ کر رہ جاتے ہیں۔ آہ! ایسے بے نظیر شخص کے حالات، جو اصلی معنوں میں تلمیذ الرحمن کہلانے کا مستحق ہو، ابھی تک گمنامی میں پڑے رہیں، اندھیر نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر یہی شخص یورپ یا امریکہ میں ہوتا تو اس کی زندگی میں ہی اس کی کئی سوانح عمریاں نکل جاتیں۔ مگر افسوس ہے ہندوستان میں ان کی زندگی میں تو درکنار، اُن کی وفات کے بعد بھی اُن کی کوئی لائف نہ لکھی گئی۔ میرا ایک عرصے سے خیال تھا کہ حضرت امیر کی زندگی کے جستہ جستہ واقعات قلم بند کروں، مگر اب مرحوم کی لائف کے متعلق ایک تازہ مضمون دیکھ کر پھر اُمنگ آئی ہے کہ جس طرح ہو میں اپنے کام کو پورا کروں اور بہت جلد۔
میرا مقصد اصل میں حضرت امیر کی شاعری اور شاعرانہ لائف پر بحث کرنے کا ہے، اس لیے چند باتیں حضرت امیر کے تلامذہ اور دیگر واقف کاروں سے دریافت کرنا چاہتا ہوں:
(1) حضرت امیر کی کوئی ایسی بات جس نے ان کی زندگی یا شاعری پر کوئی خاص اثر کیا ہو۔
(2) اُن کے زبانی مقولے۔
(3) اُن کے بچپن کی بعض بعض باتیں، جن سے اُن کی آیندہ عظمت کا پتہ چلتا ہو۔
(4) انہوں نے کس کس مقام کا سفر کیا اور کیوں؟
(5) کس کس استاد سے کیا کیا حاصل کیا؟
(6) اُن کی عام عادات۔
(7) چند ایک مشاعروں کی مفصّل کیفیت۔
یہ جتا دینا ضروری ہے کہ یہ مضمون انگریزی میں لکھا جائے گا اور ولایت کے کسی مشہور اخبار یا رسالے میں چھپوایا جائے گا۔ امید ہے کہ حضرت امیر کے نام لیوا اور اُن کے تلامذہ مجھے امداد دے کر ممنون فرمائیں گے۔
راقم محمد اقبال ایم۔ اے
اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور۔
(معاصرینِ اقبال کی نظر میں)
اردو جریدہ نے یہ خط «کلیاتِ مکاتیبِ اقبال» (مرتبہ سید مظفر حسین برنی، اردو اکادمی، دہلی)، جلد اوّل (نومبر 1989ء)، صفحہ 69 تا 71 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

