خدا چو شمع دہد جرأت آب دیدۂ ما را | کہ افکند تہِ پا گردنِ کشیدۂ ما را |
ترجمہ خدا شمع کی طرح ہماری اشک بار آنکھ کو ایسی جرأت دے کہ وہ ہماری تنی ہوئی گردن کو پاؤں تلے ڈال دے۔ | |
شہیدِ تیغِ تغافل بر آستانِ کہ نالد | تظلمی ست چو اشک از نظر چکیدۂ ما را |
ترجمہ تغافل کی تلوار کا شہید کس کے آستانے پر فریاد کرے؟ ہم نظر سے ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح ایک فریاد رکھتے ہیں۔ | |
چہ دشت و در کہ نکردیم قطع در پیِ فرصت | کسی نداد سراغ آہوی رمیدۂ ما را |
ترجمہ فرصت کے پیچھے ہم نے کون سا دشت و در طے نہ کیا، مگر کسی نے ہمارے بھاگے ہوئے ہرن کا سراغ نہ دیا۔ | |
نداشتیم بہ وہم آنقدر دماغِ تپیدن | بہ باد داد نفس خاکِ آرمیدۂ ما را |
ترجمہ ہم وہم میں بھی تڑپنے کا اتنا دماغ نہ رکھتے تھے، سانس نے ہماری آسودہ خاک کو ہوا میں اڑا دیا۔ | |
بہ انفعال رسیدیم از فسونِ تعلق | بہ رخ فکند حیا دامنِ نچیدۂ ما را |
ترجمہ تعلق کے فسوں سے ہم شرمندگی تک جا پہنچے، حیا نے ہمارا نہ سمیٹا ہوا دامن ہمارے چہرے پر ڈال دیا۔ | |
مگر بہ محکمۂ دل یقین شود حق و باطل | گواہِ کیست حدیثِ ز خود شنیدۂ ما را |
ترجمہ شاید دل کی عدالت ہی میں حق و باطل کا یقین ہو، ورنہ خود اپنے آپ سے سنی ہوئی ہماری بات کا گواہ کون ہے۔ | |
نبرد ہمتِ کس از تلاشِ گوی تسلی | بیفکنید درین رہ سرِ بریدۂ ما را |
ترجمہ کسی کی ہمت کوشش سے تسلی کی گیند نہ لے جا سکی، ہمارا کٹا ہوا سر اس راہ میں ڈال دو۔ | |
ز ریشہ تا بہ ثمر صد ہزار مرحلہ طی شد | کہ کرد این ہمہ قاصد بہ خود رسیدۂ ما را |
ترجمہ جڑ سے پھل تک لاکھوں منزلیں طے ہوئیں، تب جا کر اس سب نے ہمارے قاصد کو خود اپنے تک پہنچایا۔ | |
مژہ ز ہم نگشودیم تا چکد نمِ اشکی | گداخت شرم رقم کلکِ شق ندیدۂ ما را |
ترجمہ ہم نے پلکیں نہ کھولیں کہ آنسو کی کچھ نمی ٹپکے، شرم نے ہمارے شق نہ ہوئے قلم کو پگھلا کر تحریر بنا دیا۔ | |
مباد تا بہ ابد نالد و خموش نگردد | بہ یادِ شمع مدہ صبحِ نادمیدۂ ما را |
ترجمہ ایسا نہ ہو کہ وہ ابد تک نالہ کرتی رہے اور خاموش نہ ہو، ہماری نہ پھوٹی ہوئی صبح کو شمع کی یاد کے حوالے نہ کر۔ | |
مقیمِ گوشۂ نقشِ قدم شویم وگرنہ | درِ کہ حلقہ کند پیکرِ خمیدۂ ما را |
ترجمہ ہم نقشِ قدم کے گوشے میں ہی مقیم ہو جائیں، ورنہ کس کا دروازہ ہمارے جھکے ہوئے پیکر کو اپنا حلقہ بنائے گا۔ | |
نہفتہ است قضا سرنوشتِ معنیٔ بیدل | رقم کجاست مگر خط کشی جریدۂ ما را |
ترجمہ قضا نے بیدل کے معنی کی سرنوشت چھپا رکھی ہے، تحریر کہاں ہے، سوائے اس کے کہ تو ہمارے دفتر پر خط کھینچ دے۔ | |
