خودسری گرد دل تنگ نگردد ہرگز | غنچہ تا وانشود رنگ نگردد ہرگز |
ترجمہ خود سری کبھی بھی تنگ دل کے گرد نہیں گھومتی، جس طرح کلی جب تک کھل نہ جائے اس میں رنگ نہیں آتا۔ | |
سرمۂ چشم ادب پرور جمعیت ماست | ساز ما خفت آہنگ نگردد ہرگز |
ترجمہ ہماری جمعیت (یکسوئی) کی پرورش کرنے والا ادب کا سرمہ ہے، (اس لیے) ہمارا ساز کبھی بھی پست آہنگ (بے سُرا) نہیں ہوتا۔ | |
بی سخن عذر ضعیفی ہمہ جا مقبول است | سعی رنج قدم لنگ نگردد ہرگز |
ترجمہ خاموشی کے ساتھ کمزوری کا عذر ہر جگہ مقبول ہے، لنگڑے قدم کی کوشش کبھی بھی تکلیف کا باعث نہیں بنتی۔ | |
سایہ خفت کش اندیشۂ پامالی نیست | خاکساری سبب ننگ نگردد ہرگز |
ترجمہ سائے کو پامال ہونے کے اندیشے کی ذلت نہیں اٹھانی پڑتی، اسی طرح عاجزی کبھی بھی شرمندگی کا سبب نہیں بنتی۔ | |
ترک ہستی کن اگر صافی دل می خواہی | از نفس آینہ بیرنگ نگردد ہرگز |
ترجمہ اگر تُو دل کی صفائی چاہتا ہے تو ہستی کو ترک کر دے، کیونکہ سانس (کی بھاپ) سے آئینہ کبھی بے رنگ (صاف شفاف) نہیں ہوتا۔ | |
دور وہمی ست کہ بر جام سپہر افتادہ ست | بی تکلف سر بی ننگ نگردد ہرگز |
ترجمہ یہ ایک وہم کا دَور ہے جو آسمان کے جام پر چھا گیا ہے، بے تکلفی کے بغیر کوئی سر بے ننگ و عار نہیں ہوتا۔ | |
ہرکہ دارد تپشی در جگر از شعلۂ عشق | گر ہمہ سنگ شود دنگ نگردد ہرگز |
ترجمہ جس کسی کے جگر میں عشق کے شعلے کی تپش ہو، وہ اگر مکمل طور پر پتھر بھی بن جائے تب بھی کبھی بے حس و حرکت نہیں ہوتا۔ | |
پستی طبع کہ چون آبلۂ پا ازلی ست | گر تناسخ زند اورنگ نگردد ہرگز |
ترجمہ طبیعت کی پستی جو پاؤں کے چھالے کی طرح ازلی ہے، اگر وہ بار بار جنم بھی لے تب بھی کبھی تخت (بلندی) حاصل نہیں کر سکتی۔ | |
فکر روزی ست کہ پر می کشد از مغز وقار | آسیا تا نشود سنگ نگردد ہرگز |
ترجمہ یہ روزی کی فکر ہے جو وقار کے دماغ سے پر اُڑا دیتی ہے، جس طرح چکی جب تک پتھر نہیں بنتی، گھومتی نہیں ہے۔ | |
کلفت ہر دو جہان درگرہ حسرت ماست | دل اگر جمع شود تنگ نگردد ہرگز |
ترجمہ دونوں جہانوں کی کلفت (پریشانی) ہماری حسرت کی گرہ میں بند ہے، (لیکن) اگر دل یکسو ہو جائے تو وہ کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ | |
بیدل از طور کلامت ہمہ حیرت زدہ ایم | در بہاری کہ تویی رنگ نگردد ہرگز |
ترجمہ اے بیدل! ہم سب تیرے اندازِ کلام سے حیرت زدہ ہیں، جس بہار میں تُو ہو اُس کا رنگ کبھی پھیکا نہیں پڑتا۔ | |
