کی رود از خاطر آشفتہ ام سودای ناز | مو بہ مویم ریشہ دارد از خطش غوغای ناز |
ترجمہ میرے پریشان دل سے ناز کا سودا کب نکلے گا؟ میرے ہر بال کی جڑ میں اس کے خطِ رخسار سے ناز کا شور برپا ہے۔ | |
عرش پرواز است معنی تا زمینگیرست لفظ | اینقدر از عجز من قد می کشد بالای ناز |
ترجمہ معنی تو عرش پر پرواز کرتا ہے جبکہ لفظ زمین پر پڑا ہے، میرے اسی عجز کی بدولت ناز کا قد اتنا بلند ہو رہا ہے۔ | |
دل نہ تنہا از تغافل ہای سرشارش گداخت | حیرت آیینہ ہم خون است ز استغنای ناز |
ترجمہ صرف دل ہی اس کے سرمست تغافلوں سے نہیں پگھلا، آئینے کی حیرت بھی ناز کی بے نیازی سے خون ہو گئی ہے۔ | |
نیست ممکن گل کند زین پردۂ عجز و غرور | عشق بی عرض نیاز و حسن بی ایمای ناز |
ترجمہ اس عجز و غرور کے پردے سے پھول کا کھلنا ممکن نہیں، (جیسے) عشق بغیر عرضِ نیاز کے اور حسن ناز کے اشارے کے بغیر (بے نتیجہ ہے)۔ | |
تا بہ شوخی می زند چشمت عرق گل می کند | نیست بی ایجاد گوہر موج این دریای ناز |
ترجمہ جب تک تیری آنکھ شوخی کرتی ہے، (حسن کا) پسینہ پھول بن کر کھلتا ہے۔ اس ناز کے دریا کی موج موتی پیدا کیے بغیر نہیں رہتی۔ | |
بسکہ ابرام نیاز از بیخودی بردیم پیش | چین ابرو شد تبسم بر لب گویای ناز |
ترجمہ چونکہ ہم نے بے خودی میں نیاز کا بے حد اصرار کیا، اس لیے ناز کی باتیں کرنے والے ہونٹوں پر بھنوؤں کی شکن ہی تبسم بن گئی۔ | |
گرچہ رنگ شوخ چشمی برنمی دارد حیا | در عرق یک سر نگہ می پرورد سیمای ناز |
ترجمہ اگرچہ حیا شوخ چشمی کا رنگ اختیار نہیں کرتی، لیکن ناز کا چہرہ پسینے (کی نمی) میں ایک مکمل نگاہ کی پرورش کرتا ہے۔ | |
در چمن رعنایی سرو لب جویم گداخت | ازکجا افتادہ است این سایۂ بالای ناز |
ترجمہ چمن میں نہر کے کنارے لگے سرو کی رعنائی ماند پڑ گئی، (معلوم نہیں) ناز کے اس بلند قد کا سایہ کہاں سے آ پڑا ہے۔ | |
تا بہ کی باشی فضول آرزوہای غرور | در نیازآباد ہستی نیست خالی جای ناز |
ترجمہ تو کب تک غرور کی فضول آرزوؤں میں مبتلا رہے گا؟ ہستی کے اس نیاز آباد میں ناز کے لیے کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔ | |
شعلۂ افسردہ رعنایی بہ خاکستر نہفت | موی پیری گشت آخر پنبۂ مینای ناز |
ترجمہ بجھے ہوئے شعلے نے اپنی رعنائی راکھ میں چھپا لی، آخرکار بڑھاپے کا سفید بال ہی ناز کی صراحی کا روئی کا گالا بن گیا۔ | |
گر تظلم دامنت گیرد بہ دل خون کن نفس | با تغافل توام است افتادہ ست سر تا پای ناز |
ترجمہ اگر ظلم تیرا دامن پکڑے تو صبر کر (سانس کو دل میں خون کر لے)، کیونکہ ناز سر سے پاؤں تک تغافل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ | |
چشم کو تا از قماش حیرت آگاہش کنند | سخت بیرنگ است بیدل صورت دیبای ناز |
ترجمہ وہ آنکھ کہاں ہے کہ اسے حیرت کے کپڑے (کی حقیقت) سے آگاہ کریں؟ اے بیدل! ناز کے ریشمی لباس کی صورت بہت بے رنگ (پھیکی) ہے۔ | |
