اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کجا الوان نعمت زین بساط آسان شود پیدا

کجا الوانِ نعمت زین بساط آسان شود پیدا

کہ آدم از بہشت آید برون تا نان شود پیدا

ترجمہ اس بساط سے رنگا رنگ نعمتیں آسانی سے کہاں میسر آتی ہیں؛ آدم کو بہشت سے باہر آنا پڑتا ہے تب کہیں روٹی ہاتھ آتی ہے۔

تمیزِ لذتِ دنیا ہم آسان نیست ای غافل

چو طفلان خون خوری یک عمر تا دندان شود پیدا

ترجمہ اے غافل، دنیا کی لذت کی پہچان بھی آسان نہیں؛ بچوں کی طرح ایک عمر خون پیتے ہو تب کہیں دانت نکلتے ہیں۔

سحر تا شام باید تک زدن چون آفتاب اینجا

کہ خشکاری بہ چشمِ حرص این انبان شود پیدا

ترجمہ یہاں سورج کی طرح صبح سے شام تک دوڑنا پڑتا ہے تب کہیں حرص کی آنکھ کو اس تھیلے میں روٹی کا ایک سوکھا ٹکڑا دکھائی دیتا ہے۔

سحابِ کشتِ ما صد رہ شکافد چشمِ گریانش

کہ گندم یک تبسم با لبِ خندان شود پیدا

ترجمہ ہماری کھیتی کا بادل سو بار اپنی روتی آنکھ کو چیرتا ہے تب کہیں گندم ایک تبسم کی طرح ہنستے لبوں کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔

تلاشِ موج در گوہر شدن امیدِ آن دارد

کہ گردِ ساحلی زین بحرِ بی پایان شود پیدا

ترجمہ موج کی موتی بن جانے کی کوشش یہ امید رکھتی ہے کہ اس بے کنار سمندر سے ساحل کی کچھ گرد نمایاں ہو۔

جنون ہم جہدہا باید کہ دامانش بہ چنگ افتد

دری صد پیرہن تا پیکرِ عریان شود پیدا

ترجمہ جنون کو بھی بڑی کوششیں درکار ہیں کہ اس کا دامن ہاتھ آئے؛ سو پیراہن چاک کرو تب کہیں عریاں پیکر نظر آتا ہے۔

عیوب آید برون تا گل کند حسنِ کمال اینجا

کلف بی پردہ گردد تا مہِ تابان شود پیدا

ترجمہ یہاں عیب باہر آتے ہیں تب کمال کا حسن کھلتا ہے؛ داغ بے پردہ ہوتا ہے تب چمکتا ہوا چاند ظاہر ہوتا ہے۔

پریشان است از بی التفاتی سبحۂ الفت

ز دل بستن مگر جمعیتِ باران شود پیدا

ترجمہ الفت کی تسبیح بے التفاتی سے بکھری ہوئی ہے؛ شاید دل باندھنے ہی سے اس کے دانوں کی جمعیت پیدا ہو جائے۔

امان خواہ از گزندِ خلق در گرم اختلاطی ہا

کہ عقرب بیشتر در فصلِ تابستان شود پیدا

ترجمہ گرم میل جول میں لوگوں کے گزند سے پناہ مانگ، کہ بچھو زیادہ تر گرمیوں کے موسم ہی میں نکلتا ہے۔

بنای وحشتِ این کہنہ منزل عبرتی دارد

کہ صاحبخانہ گر پیدا شود مہمان شود پیدا

ترجمہ اس پرانی منزل کی وحشت کی بنیاد میں ایک عبرت ہے کہ صاحبِ خانہ اگر ظاہر ہو تو مہمان بن کر ظاہر ہوتا ہے۔

ز پیدایی بہ نامِ محض چون عنقا قناعت کن

فراغ اینجا کسی دارد کزین عنوان شود پیدا

ترجمہ ظاہر ہونے میں عنقا کی طرح محض نام پر قناعت کر؛ یہاں فراغت اسی کو ملتی ہے جو اسی عنوان سے ظاہر ہو۔

چو صبح آن بہ کہ گم باشد نفس در گردِ معدومی

وگر پیدا تواند گشت بال افشان شود پیدا

ترجمہ صبح کی طرح بہتر یہی ہے کہ سانس معدومی کی گرد میں گم رہے، اور اگر ظاہر ہو ہی سکے تو پر افشاں ہو کر ظاہر ہو۔

درین صحرا بہ وضعِ خضر باید زندگی کردن

نگردد گم کسی کز مردمان پنہان شود پیدا

ترجمہ اس صحرا میں خضر کے طور پر زندگی کرنی چاہیے؛ جو لوگوں سے پنہاں رہے وہ گم نہیں ہوتا بلکہ نمایاں ہو جاتا ہے۔

حریفِ گوہرِ نایاب نبود سعیِ غواصان

مگر این کامِ دل از ہمتِ مردان شود پیدا

ترجمہ غوطہ خوروں کی کوشش نایاب موتی کی ہم سر نہیں؛ شاید دل کی یہ مراد مردوں کی ہمت ہی سے حاصل ہو۔

خیالاتِ پری بی شیشہ نقشِ طاقِ نسیان کن

محال است اینکہ ہرجا جسم گم شد جان شود پیدا

ترجمہ شیشے کے بغیر پری کے خیالات کو طاقِ نسیان کا نقش بنا دے؛ یہ محال ہے کہ جہاں جسم گم ہو وہاں جان ظاہر ہو جائے۔

تماشاگاہِ عبرت پا بہ دامن سیر می خواہد

نگہ می باید اینجا توامِ مژگان شود پیدا

ترجمہ عبرت کی تماشا گاہ دامن میں پاؤں سمیٹ کر سیر چاہتی ہے؛ یہاں نگاہ کو پلکوں کی جڑواں بن کر ظاہر ہونا چاہیے۔

ردیفِ بارِ دنیا رنجِ عقبا ساختن بیدل

ز گاو و خر نمی آید مگر انسان شود پیدا

ترجمہ بیدل، دنیا کے بوجھ کے ساتھ آخرت کا رنج بھی جوڑ لینا گائے اور گدھے سے نہیں ہوتا، یہ کام انسان ہی سے ہو سکتا ہے۔