کنون کہ می گذرد عیش چون نسیم ز باغ | چو گل خوش آنکہ زنی دست در رکابِ ایاغ |
ترجمہ اب جب کہ عیش نسیم کی طرح باغ سے گزر رہا ہے، کیا خوب ہو کہ تو پھول کی طرح پیالے کی رکاب تھام لے۔ | |
ز شبنمِ گلم این نکتہ نقدِ آگاہیست | کہ گردِ آبلہ پایی شکستہ اند بہ باغ |
ترجمہ پھول کی شبنم سے مجھے یہ نکتہ نقد آگاہی کے طور پر ملا کہ باغ میں آبلہ پائی کی گرد بٹھا دی گئی ہے۔ | |
ز چشمکِ گلِ باغِ جنون مشو غافل | تنیدہ است نگاہی بہ خطِ ساغرِ داغ |
ترجمہ جنون کے باغ کے پھول کے اشارۂ چشم سے غافل نہ ہو؛ داغ کے ساغر کے خط پر ایک نگاہ بُنی ہوئی ہے۔ | |
گذشتہ است ز ہستی غبارِ وحشتِ ما | ز رنگِ رفتہ ہمان در عدم کنند سراغ |
ترجمہ ہماری وحشت کا غبار ہستی سے گزر چکا ہے؛ اب اڑے ہوئے رنگ ہی سے عدم میں اس کا سراغ لگائیں۔ | |
درین بساط کہ حیرت دلیلِ بینایی ست | بہ غیرِ سوختنِ خود چہ دید چشمِ چراغ |
ترجمہ اس بساط میں جہاں حیرت ہی بینائی کی دلیل ہے، چراغ کی آنکھ نے اپنے جلنے کے سوا کیا دیکھا۔ | |
چہ انجمن چہ گلستان فضای دلتنگی ست | مگر ز مزبلہ جوید کسی مقامِ فراغ |
ترجمہ کیا انجمن کیا گلستان، سب دل تنگی کی فضا ہے؛ کیا کوئی کوڑے کے ڈھیر میں فراغت کا مقام ڈھونڈے؟ | |
ز درسِ عشق بہ حرفِ ہوس قناعت کن | خمارِ نغمۂ بلبل شکن بہ بانگِ کلاغ |
ترجمہ عشق کے درس کے بجائے ہوس کے حرف پر قناعت کر لے، اور بلبل کے نغمے کا خمار کوے کی کائیں کائیں سے توڑ۔ | |
تلاشِ منصبِ پروانہ مشربی مفت است | بگرد گردِ سرِ ہر دلی کہ دارد داغ |
ترجمہ پروانہ مشربی کا منصب ڈھونڈنا مفت کا سودا ہے؛ ہر اس دل کے گرد پھیرے لے جس میں داغ ہے۔ | |
خمارِ مجلسیان عرضِ ساغر است اینجا | ز بیدماغیٔ مستان رساندہ گیر دماغ |
ترجمہ یہاں اہلِ مجلس کا خمار ہی ساغر کی پیشکش ہے؛ مستوں کی بے دماغی ہی سے دماغ کو پہنچا ہوا سمجھ۔ | |
دو روز در دلِ خون گشتہ جوش زن بیدل | نہ باغ درخورِ جولانِ آرزوست نہ راغ |
ترجمہ اے بیدل! دو دن اپنے خون ہوئے دل میں جوش مار لے؛ آرزو کی جولانی کے لائق نہ باغ ہے نہ سبزہ زار۔ | |
