اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کنون کہ می گذرد عیش چون نسیم زباغ

کنون کہ می گذرد عیش چون نسیم ز باغ

چو گل خوش آنکہ زنی دست در رکابِ ایاغ

ترجمہ اب جب کہ عیش نسیم کی طرح باغ سے گزر رہا ہے، کیا خوب ہو کہ تو پھول کی طرح پیالے کی رکاب تھام لے۔

ز شبنمِ گلم این نکتہ نقدِ آگاہیست

کہ گردِ آبلہ پایی شکستہ اند بہ باغ

ترجمہ پھول کی شبنم سے مجھے یہ نکتہ نقد آگاہی کے طور پر ملا کہ باغ میں آبلہ پائی کی گرد بٹھا دی گئی ہے۔

ز چشمکِ گلِ باغِ جنون مشو غافل

تنیدہ است نگاہی بہ خطِ ساغرِ داغ

ترجمہ جنون کے باغ کے پھول کے اشارۂ چشم سے غافل نہ ہو؛ داغ کے ساغر کے خط پر ایک نگاہ بُنی ہوئی ہے۔

گذشتہ است ز ہستی غبارِ وحشتِ ما

ز رنگِ رفتہ ہمان در عدم کنند سراغ

ترجمہ ہماری وحشت کا غبار ہستی سے گزر چکا ہے؛ اب اڑے ہوئے رنگ ہی سے عدم میں اس کا سراغ لگائیں۔

درین بساط کہ حیرت دلیلِ بینایی ست

بہ غیرِ سوختنِ خود چہ دید چشمِ چراغ

ترجمہ اس بساط میں جہاں حیرت ہی بینائی کی دلیل ہے، چراغ کی آنکھ نے اپنے جلنے کے سوا کیا دیکھا۔

چہ انجمن چہ گلستان فضای دلتنگی ست

مگر ز مزبلہ جوید کسی مقامِ فراغ

ترجمہ کیا انجمن کیا گلستان، سب دل تنگی کی فضا ہے؛ کیا کوئی کوڑے کے ڈھیر میں فراغت کا مقام ڈھونڈے؟

ز درسِ عشق بہ حرفِ ہوس قناعت کن

خمارِ نغمۂ بلبل شکن بہ بانگِ کلاغ

ترجمہ عشق کے درس کے بجائے ہوس کے حرف پر قناعت کر لے، اور بلبل کے نغمے کا خمار کوے کی کائیں کائیں سے توڑ۔

تلاشِ منصبِ پروانہ مشربی مفت است

بگرد گردِ سرِ ہر دلی کہ دارد داغ

ترجمہ پروانہ مشربی کا منصب ڈھونڈنا مفت کا سودا ہے؛ ہر اس دل کے گرد پھیرے لے جس میں داغ ہے۔

خمارِ مجلسیان عرضِ ساغر است اینجا

ز بیدماغیٔ مستان رساندہ گیر دماغ

ترجمہ یہاں اہلِ مجلس کا خمار ہی ساغر کی پیشکش ہے؛ مستوں کی بے دماغی ہی سے دماغ کو پہنچا ہوا سمجھ۔

دو روز در دلِ خون گشتہ جوش زن بیدل

نہ باغ درخورِ جولانِ آرزوست نہ راغ

ترجمہ اے بیدل! دو دن اپنے خون ہوئے دل میں جوش مار لے؛ آرزو کی جولانی کے لائق نہ باغ ہے نہ سبزہ زار۔