(تہذیب الاخلاق بابت یکم شوال 1288ھ)
کسی مسئلہ یا طریقہ یا عادت یا رسم و رواج پر بحث کرنے میں وہ اقوال انسان کو بڑی غلطی میں ڈالتے ہیں جو حدیث کے نام سے مشہور ہیں جو کہ اب تمام حدیثیں کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں، اس لئے ہم کو دیکھنا چاہئے کہ علمائے متقدمین و متاخرین نے کتبِ حدیث کی بلحاظِ اعتبار و عدمِ اعتبار کے کس طرح تقسیم کی ہے؟
شاہ ولی اللہ صاحب کہ علمائے متاخرین میں، جامعِ سلف اور مقتدائے خلف تھے، انہوں نے نہایت عمدہ طرح پر کتبِ حدیث کی تفصیل بیان کی ہے۔ اسی کو ہم بھی اس مقام پر بیان کرتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ کتبِ احادیث باعتبارِ صحت و شہرت اور قبول کے کئی درجہ پر ہیں۔
صحت کے معنی انہوں نے یہ لئے ہیں کہ مصنف نے احادیثِ صحیحہ اس میں لکھی ہوں اور اس کے سوا جو حدیث لکھی ہو اس کا نقص بھی اس کے ساتھ لکھ دیا ہو۔
شہرت کے انہوں نے یہ معنی لئے ہیں کہ ہر زمانہ میں اہلِ حدیث اس کو پڑھتے پڑھاتے رہے ہوں اور اس کی ہر چیز بیان میں آ گئی ہو۔
قبول سے وہ یہ مراد لیتے ہیں کہ علمائے حدیث نے اس کتاب کو معتبر و مستند سمجھا ہو اور کسی نے اس سے انکار نہ کیا ہو۔
پھر وہ لکھتے ہیں کہ ان باتوں میں سب سے اول درجہ کی تین کتابیں ہیں: مؤطا امام مالکؒ، صحیحِ بخاری، صحیحِ مسلم۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان تینوں کتابوں کی حدیثیں اصح الاحادیث ہیں، اگرچہ انہی میں بعضی حدیثیں بعض سے زیادہ تر صحیح ہیں۔
ان کتابوں کے بعد دوسرے درجہ میں انہوں نے، جامعِ ترمذی، سننِ ابوداؤد، سننِ نسائی کو قرار دیا ہے۔
وہ انہی چھ کتابوں کو صحاحِ ستہ کہتے ہیں، لیکن اکثروں نے مؤطا کو صحاح میں سے خارج رکھا ہے اور ابن ماجہ کو داخل کیا ہے۔
شاہ ولی اللہ صاحب کا یہ بھی قول ہے کہ مسندِ امام احمد بھی اسی دوسرے درجہ میں داخل ہونے کے لائق ہے، مگر اُس میں ضعیف حدیثیں بہت ہیں۔
تیسرے درجہ میں انہوں نے ان کتابوں کو شمار کیا ہے: مسندِ شافعی، سننِ ابن ماجہ، مسندِ دارمی، مسندِ ابو یعلیٰ موصلی، مصنفِ عبدالرزاق، مصنفِ ابوبکر بن ابی شیبہ، مسندِ عبد بن حمید، مسندِ ابو داؤد طیالسی، سننِ دار قطنی، صحیحِ ابن حبان، مستدرکِ حاکم، کتبِ بیہقی، کُتبِ طحاوی، تصانیفِ طبرانی۔
وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ ان کتابوں کے مصنف عالمِ متبحر تھے، لیکن ان میں اچھی بری، یہاں تک کہ موضوع حدیثیں بھی شامل ہیں۔
چوتھے درجہ میں انہوں نے ان کتابوں کو گنا ہے: کتاب الضعفا لابن حبان، تصانیف الحاکم، کتاب الضعفا للعقیلی، کتاب الکامل لابن عدی، تصانیفِ ابن مردویہ، تصانیفِ خطیب، تصانیفِ ابن شاہین، تفسیرِ ابن جریر، فردوسِ دیلمی، سائر تصانیفِ دیلمی، تصانیفِ ابی نعیم، تصانیفِ جوزقانی، تصانیفِ ابن عساکر، تصانیفِ ابوالشیخ، تصانیفِ ابن نجار۔
وہ لکھتے ہیں کہ یہ کتابیں محض نامعتمد ہیں اور اس لائق نہیں ہیں کہ کسی عقیدہ کے اثبات میں یا کسی عمل کے جواز میں ان کتابوں سے سند لی جائے۔ عمدہ بات جو شاہ صاحب نے لکھی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت شیخ جلال الدین سیوطی کے رسائل و نوادر کا مادہ یہی کتابیں ہیں اور اس قدر میں اور لکھتا ہوں کہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی بھی تمام تصنیفات انہی نامعتمد کتابوں پر مبنی ہیں۔
اسی بیان کے ساتھ مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں کہ وضعی، یعنی بنائی ہوئی حدیثوں کے پہچاننے کی یہ صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ تاریخی واقعہ کے بر خلاف ہو۔ دوسرے یہ کہ صرف کسی دشمن نے روایت کی ہو۔ تیسرے یہ کہ ایسی بات کہی ہو کہ جس کا جاننا اور ادا کرنا سب پر فرض ہو، مگر صرف وہی ایک شخص روایت کرتا ہو۔ چوتھے یہ کہ قرینۂ حالیہ اس کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرے۔ پانچویں یہ کہ عقل اور قواعدِ شرع کے برخلاف ہو۔ چھٹے یہ کہ ایک قصہ مذکور ہو کہ اگر درحقیقت وہ ہوا ہوتا تو ہزاروں آدمی اس کو دیکھتے، مگر اس کو صرف وہی شخص بیان کرتا ہے۔ ساتویں یہ کہ الفاظ خلافِ محاورہ اور مضمون نامعقول ہو۔ آٹھویں یہ کہ چھوٹے سے گناہ میں نہایت سخت عذاب یا چھوٹے سے نیک کام میں بہت زیادہ ثواب کا ہونا بیان ہوا ہو۔ نویں یہ کہ چھوٹے چھوٹے کاموں پر حج عمرہ کے ثواب ملنے کا بیان ہو۔ دسویں یہ کہ کسی کو مثل انبیاء کے مستحقِ ثواب کا کسی کام میں بیان کیا ہو۔ گیارھویں یہ کہ حدیث بیان کرنے والے نے اس کے جھوٹے ہونے کا خود اقرار کیا ہو۔
بعد اس کے شاہ صاحب ارقام فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے مختلف سببوں سے جھوٹی حدیثیں بنا لی ہیں۔ بعضوں نے اس خیال سے کہ لوگوں کو قرآنِ مجید کے پڑھنے و تلاوت کرنے کا شوق پیدا ہو، ہر ایک سورۃ کی فضیلت میں حدیثیں بنالیں۔ بے دینوں نے اسلام کی ہنسی اڑانے کو مضامینِ دور از قیاس کی حدیثیں مشہور کر دیں۔ مشہور ہے کہ چودہ ہزار حدیثیں ہیں جو اہلِ زندقہ کی بنائی ہوئی مشہور ہیں۔ اسی طرح ایک فرقہ کے متعصب نے اپنی تائید یا دوسرے کی تذلیل کے لیے حدیثیں بنا لی ہیں۔ وعظ لکھنے والوں نے بہت سی حدیثیں اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں اور بعض دفعہ اولیاء اللہ بھی اس خرابی میں پڑ گئے ہیں کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ یہ بات رسولِ خدا صلعم نے ان سے کہی۔ پس مثل حدیثِ مسموع کے بیان کر دی۔ بعض لوگوں نے بزرگوں اور عالموں سے کوئی بات سنی اور اس کو یہ سمجھ گئے کہ یہ حدیث ہے اور مثل حدیث کے مشہور ہو گئی۔ چنانچہ اس قسم کے بہت سے اقوال بطور حدیث مشہور ہیں۔ پس صرف حدیث کا نام سن کر گھبرانا اور توہماتِ مذہبی میں پڑ جانا نہیں چاہئے، بلکہ اول اس حدیث کی تحقیقات اور تفتیش کرنی چاہئے کہ وہ کیسی حدیث ہے اور کس قدر اعتبار رکھتی ہے۔ پھر جب سب طرح امتحان میں پوری نکلے اور معلوم ہو کہ در حقیقت یہ پوری اور پکی صحیح حدیث ہے، اس کو سر اور آنکھوں پر رکھے، ورنہ دودھ کی مکھی کی طرح اس کو نکال کر پھینک دے، کیوں کہ شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کا قول ہے کہ ’’حدیث بے سند گوز شتر است‘‘1۔ اگر ہم مسلمان ایسی لغو اور بے سند باتوں کو اپنے مذہب میں شامل کریں اور پوچ اور واہیات قصوں کو جن کی کچھ اصل نہیں ہے مذہبی قصہ اور الہامی واقعات سمجھنے لگیں تو ہمارا مذہب ہنسی ٹھٹھا ہو جائے گا اور لون کے گھر سے بھی زیادہ ناپائدار اور مکڑی کے جال سے بھی زیادہ بودا بن جائے گا۔ علمائے متقدمین نے نہایت سختی سے بطور ایک دشمن کے حدیثوں کا امتحان کرنے میں کوشش کی ہے۔ پس یہ بات کہ حدیثِ بے سند یا ضعیف یا مشتبہ کو حدیث نہ سمجھا جائے اور مذہبی باتوں میں اسے داخل نہ کیا جائے، بے دینی کی بات نہیں ہے، بلکہ نہایت ایمانداری اور اسلام کی بڑی دوستی کا کام ہے۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 60 تا 64 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

