اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

لب جویی کہ از عکس توپردازی ست آبش را

لبِ جویی کہ از عکسِ تو پردازی ست آبش را

نفس در حیرتِ آیینہ می بالد حبابش را

ترجمہ وہ ندی کا کنارہ جس کے پانی کو تیرے عکس سے آب و تاب ملی ہے، وہاں بلبلے کی سانس آئینے کی حیرت میں پھولتی ہے۔

بہ صحرایی کہ من در یادِ چشمت خانہ بر دوشم

بہ ابرو نازِ شوخی می رسد موجِ سرابش را

ترجمہ جس صحرا میں میں تیری آنکھ کی یاد میں خانہ بدوش ہوں، وہاں کے سراب کی موج کو ابرو کی شوخی کا ناز حاصل ہے۔

ہماغوش جنون رنگ غفلت دیدہ ای دارم

کہ برہم بستنِ مژگان چو مخمل نیست خوابش را

ترجمہ میں جنون رنگ ہم آغوش ایک غفلت دیدہ آنکھ رکھتا ہوں، جس کی نیند مخمل کی طرح پلکوں کا باہم بند ہونا نہیں۔

ز شبنم ہم بہ باغِ حسن چشمِ شوخ می خندد

عرق گر شرم دارد بہ کہ نفروشد گلابش را

ترجمہ حسن کے باغ میں شوخ آنکھ شبنم پر بھی ہنستی ہے؛ اگر پسینہ شرم رکھتا ہے تو بہتر ہے کہ اپنا گلاب نہ بیچے۔

نگاہم بی تو چون آیینہ شد پامالِ حیرانی

بر این سرچشمہ رحمی کن کہ موجی نیست آبش را

ترجمہ تیرے بغیر میری نگاہ آئینے کی طرح حیرانی سے پامال ہو گئی؛ اس سرچشمے پر رحم کر کہ اس کے پانی میں کوئی موج نہیں۔

ز ہستی نبضِ دل چون موج رقصِ بسملی دارد

مباد آن جلوہ در آیینہ گیرد اضطرابش را

ترجمہ ہستی کے سبب دل کی نبض موج کی طرح ایک بسمل کا رقص رکھتی ہے؛ خدا نہ کرے کہ وہ جلوہ آئینے میں اس کے اضطراب کو تھام لے۔

ندارد نازِ لیلی شیوۂ بی پردہ گردیدن

مگر مجنون ز جیبِ خود درد طرفِ نقابش را

ترجمہ لیلیٰ کا ناز بے پردہ ہونے کا شیوہ نہیں رکھتا؛ ہاں مجنون اپنے گریبان سے اس کے نقاب کا کنارہ چاک کرے تو کرے۔

بہ ہر بزمی کہ لعلِ نوخطِ او حیرت انگیزد

رگِ یاقوت می گیرد عنانِ دودِ کبابش را

ترجمہ جس محفل میں اس کا نئے خط والا لعل حیرت اٹھاتا ہے، وہاں یاقوت کی رگ اس کے کباب کے دھوئیں کی باگ تھام لیتی ہے۔

بہ تسلیم از کمالِ نسخۂ ہستی مشو غافل

سرِ افتادہ شاید نقطہ باشد انتخابش را

ترجمہ تسلیم کے ذریعے ہستی کے نسخے کے کمال سے غافل نہ ہو؛ جھکا ہوا سر شاید اس کے انتخاب کا نقطہ ہو۔

بلندی آنقدر بالیدہ است از خیمۂ لیلی

کہ نتواند کشیدن نالۂ مجنون طنابش را

ترجمہ لیلیٰ کے خیمے سے بلندی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ مجنون کا نالہ اس کی طناب نہیں کھینچ سکتا۔

در آن وادی کہ از خود رفتنم پر می زند بیدل

شرر عرضِ خرامِ سنگ می داند شتابش را

ترجمہ اے بیدل! جس وادی میں میری بے خودی پر مارتی ہے، وہاں چنگاری اپنی تیزی کو پتھر کی سست چال کا اظہار سمجھتی ہے۔