لبِ جویی کہ از عکسِ تو پردازی ست آبش را | نفس در حیرتِ آیینہ می بالد حبابش را |
ترجمہ وہ ندی کا کنارہ جس کے پانی کو تیرے عکس سے آب و تاب ملی ہے، وہاں بلبلے کی سانس آئینے کی حیرت میں پھولتی ہے۔ | |
بہ صحرایی کہ من در یادِ چشمت خانہ بر دوشم | بہ ابرو نازِ شوخی می رسد موجِ سرابش را |
ترجمہ جس صحرا میں میں تیری آنکھ کی یاد میں خانہ بدوش ہوں، وہاں کے سراب کی موج کو ابرو کی شوخی کا ناز حاصل ہے۔ | |
ہماغوش جنون رنگ غفلت دیدہ ای دارم | کہ برہم بستنِ مژگان چو مخمل نیست خوابش را |
ترجمہ میں جنون رنگ ہم آغوش ایک غفلت دیدہ آنکھ رکھتا ہوں، جس کی نیند مخمل کی طرح پلکوں کا باہم بند ہونا نہیں۔ | |
ز شبنم ہم بہ باغِ حسن چشمِ شوخ می خندد | عرق گر شرم دارد بہ کہ نفروشد گلابش را |
ترجمہ حسن کے باغ میں شوخ آنکھ شبنم پر بھی ہنستی ہے؛ اگر پسینہ شرم رکھتا ہے تو بہتر ہے کہ اپنا گلاب نہ بیچے۔ | |
نگاہم بی تو چون آیینہ شد پامالِ حیرانی | بر این سرچشمہ رحمی کن کہ موجی نیست آبش را |
ترجمہ تیرے بغیر میری نگاہ آئینے کی طرح حیرانی سے پامال ہو گئی؛ اس سرچشمے پر رحم کر کہ اس کے پانی میں کوئی موج نہیں۔ | |
ز ہستی نبضِ دل چون موج رقصِ بسملی دارد | مباد آن جلوہ در آیینہ گیرد اضطرابش را |
ترجمہ ہستی کے سبب دل کی نبض موج کی طرح ایک بسمل کا رقص رکھتی ہے؛ خدا نہ کرے کہ وہ جلوہ آئینے میں اس کے اضطراب کو تھام لے۔ | |
ندارد نازِ لیلی شیوۂ بی پردہ گردیدن | مگر مجنون ز جیبِ خود درد طرفِ نقابش را |
ترجمہ لیلیٰ کا ناز بے پردہ ہونے کا شیوہ نہیں رکھتا؛ ہاں مجنون اپنے گریبان سے اس کے نقاب کا کنارہ چاک کرے تو کرے۔ | |
بہ ہر بزمی کہ لعلِ نوخطِ او حیرت انگیزد | رگِ یاقوت می گیرد عنانِ دودِ کبابش را |
ترجمہ جس محفل میں اس کا نئے خط والا لعل حیرت اٹھاتا ہے، وہاں یاقوت کی رگ اس کے کباب کے دھوئیں کی باگ تھام لیتی ہے۔ | |
بہ تسلیم از کمالِ نسخۂ ہستی مشو غافل | سرِ افتادہ شاید نقطہ باشد انتخابش را |
ترجمہ تسلیم کے ذریعے ہستی کے نسخے کے کمال سے غافل نہ ہو؛ جھکا ہوا سر شاید اس کے انتخاب کا نقطہ ہو۔ | |
بلندی آنقدر بالیدہ است از خیمۂ لیلی | کہ نتواند کشیدن نالۂ مجنون طنابش را |
ترجمہ لیلیٰ کے خیمے سے بلندی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ مجنون کا نالہ اس کی طناب نہیں کھینچ سکتا۔ | |
در آن وادی کہ از خود رفتنم پر می زند بیدل | شرر عرضِ خرامِ سنگ می داند شتابش را |
ترجمہ اے بیدل! جس وادی میں میری بے خودی پر مارتی ہے، وہاں چنگاری اپنی تیزی کو پتھر کی سست چال کا اظہار سمجھتی ہے۔ | |
