ما سجدۂ حضوریم محوِ جنابِ مطلق | گمگشتہ ہمچو نوریم در آفتابِ مطلق |
ترجمہ ہم حضور کا سجدہ ہیں اور مطلق بارگاہ میں محو ہیں، ہم نور کی طرح مطلق آفتاب میں گم ہو گئے ہیں۔ | |
در عالمِ تجرد یارب چہ وانماییم | او صد جمالِ جاوید ما یک نقابِ مطلق |
ترجمہ یارب، تجرد کے عالم میں ہم کیا دکھائیں، وہ سو جاوداں جمال ہے اور ہم محض ایک نقاب۔ | |
ای خلق پوچ ہیچید بر وہم و ظن مپیچید | کافیست بر دو عالم این یک جوابِ مطلق |
ترجمہ اے مخلوق، تم کھوکھلی اور ہیچ ہو، وہم و گمان میں نہ الجھو، دونوں عالم کے لیے یہی ایک مطلق جواب کافی ہے۔ | |
کم نیست گر بہ نامی از ما رسد پیامی | شخصِ عدم چہ دارد بیش از خطابِ مطلق |
ترجمہ اگر کسی نام کے ذریعے ہماری طرف سے کوئی پیغام پہنچ جائے تو یہ کم نہیں، عدم کا وجود محض ایک خطاب سے زیادہ کیا رکھتا ہے۔ | |
اوراقِ اعتبارات چندان کہ سیر کردیم | در نسخۂ مقیّد بود انتخابِ مطلق |
ترجمہ ہم نے اعتبارات کے اوراق کی جتنی بھی سیر کی، مطلق کا انتخاب مقید ہی کے نسخے میں تھا۔ | |
خواہی بر آسمان بین خواہی بہ خاک بنشین | زیر و زبر جز این نیست وقفِ کتابِ مطلق |
ترجمہ چاہے آسمان پر نظر کر، چاہے خاک پر بیٹھ جا، زیر و زبر اس کے سوا کچھ نہیں کہ مطلق کی کتاب پر وقف ہیں۔ | |
افسانہ ہای ہستی در خلوتِ عدم ماند | کس وا نکرد مژگان از بندِ خوابِ مطلق |
ترجمہ ہستی کے افسانے عدم کی خلوت میں رہ گئے، کسی نے مطلق نیند کے بند سے پلکیں نہیں کھولیں۔ | |
شاید بہ برقِ عشقی از وہم پاک گردیم | این نقشِ سنگ نتوان شستن بہ آبِ مطلق |
ترجمہ شاید کسی عشق کی بجلی سے ہم وہم سے پاک ہو جائیں، پتھر کا یہ نقش خالی پانی سے دھویا نہیں جا سکتا۔ | |
تقریرِ بیش و کم چند چشمی گشا و بنگر | جز صفر بر نیاید ہیچ از حسابِ مطلق |
ترجمہ کمی بیشی کی تقریر کب تک، ذرا آنکھ کھول کر دیکھ، مطلق کے حساب سے صفر کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ | |
ہر چند وارسیدیم زین انجمن ندیدیم | با یک جہان عمارت غیر از خرابِ مطلق |
ترجمہ ہم نے جتنی بھی جستجو کی، اس انجمن میں ایک جہان بھر عمارت کے باوجود مطلق ویرانی کے سوا کچھ نہ دیکھا۔ | |
بیدل بہ رنگِ گوہر زین بحر بر نیاید | آبِ مقیدِ ما غیر از شرابِ مطلق |
ترجمہ بیدل، موتی کی طرح ہمارا مقید پانی اس سمندر سے مطلق شراب کے سوا کچھ بن کر نہیں نکلتا۔ | |
