اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

محبوب شاہ مجذوب

زرا سی دھوتی باندھے ننگ دھڑنگ آدمی تھے کبھی کبھی ملیح آباد آتے اور ۔ میرے پھپھا نواب احمد خاں کی ڈیوڑھی میں ٹھہرا کرتے اور ایک ردی کاغذ لئے گلیوں میں پھرتے اور لوگوں سے کہا کرتے تھے بھیّا اس پر ’’دس کت‘‘ (دست خط) کر دو ، ہمری (ہماری) سادی (شادی) ٹھہری ہے ۔

ان کو روپے پیسے یا کھانے پینے سے کوئی سر و کار نہیں تھا ، جب کوئی ان کو روپیہ دیتا تھا تو وہ ’’ارے یُو کا ٹھیکرا دِیوَت ہو‘‘ ، (ارے یہ کیا ٹھیکرا دیتے ہو) کہہ کر ، اسے پھینک دیا کرتے تھے ۔ البتہ پھپھا جب اُن کے روبرو کھانا رکھ دیتے تو زرا سا چکھ کر ، سرکے کی فرمائش کیا کرتے تھے ۔

لوگ جب اُن سے اپنے بارے میں کوئی بات پوچھتے تھے تو وہ سیدھا جواب نہیں دیتے اور ’’وارے گنّے کے کھیت لاگے (لگے) ہیں ، کھوب (خوب) گنّے کھاؤ ، کھجانے (خزانے) بھرے ہوئے ہیں ۔ کھوب مجے (مزے) اڑاؤ‘‘ کہہ کر ٹال دیا کرتے تھے ۔

میں ایک زمانے میں ایک لڑکی پر ، جس کی منگنی ہو چکی تھی ، بہت بُری طرح عاشق ہو گیا تھا ، پہل اس لڑکی نے کی تھی ، اس لئے میرا عشق ، جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا کہ محبوب شاہ ملیح آباد آ گئے ۔ میں اُن کو اپنی نو تعمیر کوٹھی ’’قصرِ سحر‘‘ میں لے گیا۔ میری بیوی مائیکے گئی ہوئی تھیں ، میں نے محبوب شاہ سے کہا آؤ ، میرے لحاف میں لیٹ جاؤ ۔ وہ لیٹ گئے ۔ میں نے ان سے کہا دیکھو میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں ، اگر گنّے کے کھیتوں اور خزانوں کا نام لو گے ، تو یہ تمھاری کُچّو داڑھی نوچ کر رکھ دوں گا ، وہ مُسکُرائے اور کہا ۔ ’’یُو کا مُرّ ہی باتن کرت ہو ۔‘‘ (یہ کیا بیہودہ باتیں کرتے ہو) ہم پرائی مہریا کو تمھیں کیسے دلائی دیں ،‘‘ ۔ (ہم دوسرے کی بیوی کو تمھیں کیوں کر دلا دیں) ۔ یہ بات سن کر مجھے حیرت ہو گئی کہ اُنھیں میرے دل کی بات کا پتا کیسے چل گیا ۔

ایک روز میں نے اُن کو اپنے کمرے سے ملے ہوئے کمرے میں سُلایا ، صُبح چار بجے ان کے کمرے میں پہنچا تو دیکھا کہ جو گدّا اور لحاف میں نے ان کو دیا تھا وہ پائنتی لپٹا رکھا ہے ، اور وہ آدھے دھڑ سے ننگے چارپائی سے پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں ، میں نے کہا محبوب شاہ ارے اتنی سخت سردی میں اور ننگے بیٹھے ہو ،

اُنہوں نے کہا ’’بھیّا سوتے بن نہیں پڑت ہے ، ندیا کنارے ڈگن لگائے بیٹھن ہیں ، نہ جانے کب کھُٹکار ہو جاوے ۔‘‘ ، (بھیّا سوتے بن نہیں پڑ رہا ہے ، ندی کے کنارے مچھلی پکڑنے کی چھڑ لگائے بیٹھے ہیں ، نہ جانے کب مچھلی کے کانٹا نگل جانے کی کھُٹکار ہو جائے) ۔

میں نے کہا یہ سب بیوقوفی کی باتیں ہیں ، وہ بہت ہنسے اور کہنے لگے ’’اُبھئی تو اِن باتن کو بے وکوفی کہت ہو ، جب ہم تم کا مکّے مدینے ، اُڑائی کے لے جیبھا، تب تم کا پتا چلیہے گا ، ابھی تو کھوب مجے کرو ، کھوب کوٹھن پر چڑھو ، کھوب گنّے کھاؤ ۔‘‘ ، (ابھی تو اِن باتوں کو بے وقوفی کہہ رہے ہو ، جب ہم تم کو مکّے مدینے اڑا کر لے جائیں گے ، اُس وقت تم کو پتا چلے گا ، ابھی تو خوب مزے کرو ، خوب کوٹھوں پر چڑھو ، خوب گنّے کھاؤ ۔)

حِیدرآباد جانے سے کوئی ایک سال پہلے ، جب کہ حِیدرآباد جانے کا تصور بھی میرے دماغ میں نہیں تھا ، وہ میرے پاس آئے اور چھوٹتے ہی کہنے لگے ’’ہم نے تُمرے نام لکھ دینا ہے اکبرپور ، وہاں کھوب مجے کرنا‘‘ ، (ہم نے تمھارے نام اکبرپور لکھ دیا ہے ، وہاں خوب مزے کرنا) میں نے کہا اکبرپور تو میری بیوی کے نانا کے گاؤں کا نام ہے ، اُنہوں نے کہا ’’تمہرا اکبرپُور1 دکھن ماں ہے‘‘ ۔ (تمھارا اکبرپور دکن میں ہے ۔)

اس کے ایک سال کے بعد میں حیدرآباد روانہ ہو گیا ۔ اور جب دو چار برس کے بعد رخصت لے کر وطن آیا تو دیوسے‌دیوہ شریف کے عرس میں چلا گیا ، صبح کا وقت تھا دیکھا کہ محبوب شاہ چلے آ رہے ہیں ، اُنہوں نے جھپٹ کر مجھے گلے لگایا ۔ میں نے کہا یہاں کیسے آنا ہوا ، کہنے لگے ’’دعا سلامن کے لئے‘‘ ۔ میں نے کہا لو محبوب شاہ انگور کھاؤ ، اُنہوں نے دو ایک انگور کھا کر ، مجھے غور سے دیکھا اور ایک شہر کا نام لے کر کہا ’’بھیا وہاں قدم نہ رکھیو ، نہیں تو کانجی حوز میں بند کر دیئے جائیو‘‘ ۔ (بھیا ، وہاں قدم نہ رکھنا ، ورنہ کانجی حوز ، یعنی محبسِ مویشیانِ آوارہ ، میں بند کر2 دیئے جاؤ گے ۔)