اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ماییم و دلی سرورق بی سر و پایی

ماییم و دلی سرورقِ بی سر و پایی

چون آبلہ صحرایی و چون نالہ ہوایی

ترجمہ ہم ہیں اور ایک دل جو بے سر و پائی کا سرِ ورق ہے؛ آبلے کی طرح صحرائی اور نالے کی طرح ہوائی۔

از پردۂ ناموسیٔ افلاک کشیدیم

ننگی کہ کشد لاغری از تنگ قبایی

ترجمہ ہم نے آسمانوں کی ناموس کے پردے سے وہ شرمندگی اٹھائی جو دبلا پن تنگ قبا سے اٹھاتا ہے۔

گامی بہ رہت نازدہ در خاک نشستیم

چون اشک بہ این رنگ دمید آبلہ پایی

ترجمہ تیری راہ میں ایک قدم بھی اٹھائے بغیر ہم خاک میں بیٹھ گئے؛ آنسو کی طرح اسی رنگ سے ہماری آبلہ پائی پھوٹی۔

جرأتِ ہوسِ طاقتِ دوری نتوان بود

زخم است ہمہ گر مژہ واری ست جدایی

ترجمہ دوری کی طاقت کی ہوس کرنے کی جرأت نہیں ہو سکتی؛ جدائی اگر پلک بھر بھی ہو تو سراسر زخم ہے۔

دل مایلِ تحریرِ سجودی ست کہ امروز

نقشِ قدمِ او ورقی کردہ حنایی

ترجمہ دل اس سجدے کی تحریر کا مشتاق ہے کہ آج اس کے نقشِ قدم نے ایک ورق کو حنائی کر دیا ہے۔

ای آینہ گردِ نفسی بیش ندارم

زین بیش مرا در نظر من ننمایی

ترجمہ اے آئینے! میں ایک سانس کی گرد سے زیادہ کچھ نہیں؛ اس سے زیادہ مجھے میری نظر میں نہ دکھا۔

ہمت نپسندد کہ بہ این ہستیٔ موہوم

چون عکس در آیینہ کنم خانہ خدایی

ترجمہ ہمت یہ پسند نہیں کرتی کہ اس موہوم ہستی کے ساتھ میں عکس کی طرح آئینے میں صاحبِ خانہ بن بیٹھوں۔

در کشورِ یأسی کہ سحر خندۂ شام است

خفاش شوی بہ کہ دہی عرضِ ہمایی

ترجمہ مایوسی کے اس ملک میں جہاں صبح شام کی ہنسی ہے، ہما ہونے کا دعویٰ کرنے سے چمگادڑ بن جانا بہتر ہے۔

زین جوشِ غباری کہ گرفتہ ست جہان را

فتحِ درِ خیبر کن اگر چشم گشایی

ترجمہ اس گرد کے جوش میں جس نے دنیا کو گھیر رکھا ہے، اگر تو آنکھ کھول لے تو (گویا) خیبر کا دروازہ فتح کر لے۔

تا چند خراشد اثرِ لافِ گلویت

داوود نخواہی شدن از نغمہ سرایی

ترجمہ کب تک شیخی کا اثر تیرا گلا چھیلتا رہے گا؛ نغمہ سرائی سے تو داؤد نہیں بن جائے گا۔

گر چون مہِ نو سرکشی از منظرِ تسلیم

بوسد لبِ بامت فلک از عجز بنایی

ترجمہ اگر تو نئے چاند کی طرح تسلیم کے دریچے سے سر نکالے تو آسمان عاجزی سے تیری چھت کی منڈیر چومے۔

بر ہمزنِ کیفیتِ یکتاییٔ ما نیست

این سجدہ کہ بر پیکرِ ما بست دوتایی

ترجمہ یہ سجدہ جس نے ہمارے پیکر کو دوہرا کر دیا، ہماری یکتائی کی کیفیت کو درہم برہم کرنے والا نہیں۔

بیدل تہی از خویش شدی ما و منت چیست

ای صفر بر اعدادِ تعین نفزایی

ترجمہ بیدل! تو اپنے آپ سے خالی ہو گیا، پھر تیرا ہم اور میں کیا ہے؛ اے صفر! تو تعین کے اعداد میں کچھ اضافہ نہیں کرتا۔