ماییم و دلی سرورقِ بی سر و پایی | چون آبلہ صحرایی و چون نالہ ہوایی |
ترجمہ ہم ہیں اور ایک دل جو بے سر و پائی کا سرِ ورق ہے؛ آبلے کی طرح صحرائی اور نالے کی طرح ہوائی۔ | |
از پردۂ ناموسیٔ افلاک کشیدیم | ننگی کہ کشد لاغری از تنگ قبایی |
ترجمہ ہم نے آسمانوں کی ناموس کے پردے سے وہ شرمندگی اٹھائی جو دبلا پن تنگ قبا سے اٹھاتا ہے۔ | |
گامی بہ رہت نازدہ در خاک نشستیم | چون اشک بہ این رنگ دمید آبلہ پایی |
ترجمہ تیری راہ میں ایک قدم بھی اٹھائے بغیر ہم خاک میں بیٹھ گئے؛ آنسو کی طرح اسی رنگ سے ہماری آبلہ پائی پھوٹی۔ | |
جرأتِ ہوسِ طاقتِ دوری نتوان بود | زخم است ہمہ گر مژہ واری ست جدایی |
ترجمہ دوری کی طاقت کی ہوس کرنے کی جرأت نہیں ہو سکتی؛ جدائی اگر پلک بھر بھی ہو تو سراسر زخم ہے۔ | |
دل مایلِ تحریرِ سجودی ست کہ امروز | نقشِ قدمِ او ورقی کردہ حنایی |
ترجمہ دل اس سجدے کی تحریر کا مشتاق ہے کہ آج اس کے نقشِ قدم نے ایک ورق کو حنائی کر دیا ہے۔ | |
ای آینہ گردِ نفسی بیش ندارم | زین بیش مرا در نظر من ننمایی |
ترجمہ اے آئینے! میں ایک سانس کی گرد سے زیادہ کچھ نہیں؛ اس سے زیادہ مجھے میری نظر میں نہ دکھا۔ | |
ہمت نپسندد کہ بہ این ہستیٔ موہوم | چون عکس در آیینہ کنم خانہ خدایی |
ترجمہ ہمت یہ پسند نہیں کرتی کہ اس موہوم ہستی کے ساتھ میں عکس کی طرح آئینے میں صاحبِ خانہ بن بیٹھوں۔ | |
در کشورِ یأسی کہ سحر خندۂ شام است | خفاش شوی بہ کہ دہی عرضِ ہمایی |
ترجمہ مایوسی کے اس ملک میں جہاں صبح شام کی ہنسی ہے، ہما ہونے کا دعویٰ کرنے سے چمگادڑ بن جانا بہتر ہے۔ | |
زین جوشِ غباری کہ گرفتہ ست جہان را | فتحِ درِ خیبر کن اگر چشم گشایی |
ترجمہ اس گرد کے جوش میں جس نے دنیا کو گھیر رکھا ہے، اگر تو آنکھ کھول لے تو (گویا) خیبر کا دروازہ فتح کر لے۔ | |
تا چند خراشد اثرِ لافِ گلویت | داوود نخواہی شدن از نغمہ سرایی |
ترجمہ کب تک شیخی کا اثر تیرا گلا چھیلتا رہے گا؛ نغمہ سرائی سے تو داؤد نہیں بن جائے گا۔ | |
گر چون مہِ نو سرکشی از منظرِ تسلیم | بوسد لبِ بامت فلک از عجز بنایی |
ترجمہ اگر تو نئے چاند کی طرح تسلیم کے دریچے سے سر نکالے تو آسمان عاجزی سے تیری چھت کی منڈیر چومے۔ | |
بر ہمزنِ کیفیتِ یکتاییٔ ما نیست | این سجدہ کہ بر پیکرِ ما بست دوتایی |
ترجمہ یہ سجدہ جس نے ہمارے پیکر کو دوہرا کر دیا، ہماری یکتائی کی کیفیت کو درہم برہم کرنے والا نہیں۔ | |
بیدل تہی از خویش شدی ما و منت چیست | ای صفر بر اعدادِ تعین نفزایی |
ترجمہ بیدل! تو اپنے آپ سے خالی ہو گیا، پھر تیرا ہم اور میں کیا ہے؛ اے صفر! تو تعین کے اعداد میں کچھ اضافہ نہیں کرتا۔ | |
