مکن سراغِ غبارِ ز پا نشستۂ ما را | رسیدہ گیر بہ عنقا پرِ شکستۂ ما را |
ترجمہ ہم پاؤں سے بیٹھ جانے والے غبار کا سراغ نہ لگا، ہمارے ٹوٹے ہوئے پر کو عنقا تک پہنچا ہوا سمجھ لے۔ | |
گذشتہ ایم بہ پیری ز صیدگاہِ فضولی | بس است ناوکِ عبرت زہِ گسستۂ ما را |
ترجمہ بڑھاپے میں ہم فضولی کی شکارگاہ سے گزر چکے ہیں، ہماری ٹوٹی ہوئی کمان کی تانت کے لیے عبرت کا تیر ہی کافی ہے۔ | |
فراہم آمدنِ رنگ و بو ثبات ندارد | بہ رشتۂ رگِ گل بستہ اند دستۂ ما را |
ترجمہ رنگ و بو کے یکجا ہونے کو ثبات نہیں، ہمارا گلدستہ پھول کی رگ کے دھاگے سے باندھا گیا ہے۔ | |
ہوای گلشنِ فردوس در قفس بنشاند | خیال در پسِ زانوی دل نشستۂ ما را |
ترجمہ گلشنِ فردوس کی ہوس نے ہمارے اس خیال کو قفس میں بٹھا دیا جو دل کے زانو کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ | |
ز دامِ چرخ پس از مرگ ہم کجاست رہایی | حسابِ کیست بہ مجمر سپند جستۂ ما را |
ترجمہ آسمان کے جال سے مرنے کے بعد بھی رہائی کہاں ہے، انگیٹھی سے اچھل جانے والے ہمارے سپند کو پھر کون شمار میں لاتا ہے۔ | |
بہانہ جوی خیالیم واعظ این چہ جنون است | بہ حرف و صوت مسوزان دماغِ خستۂ ما را |
ترجمہ ہم تو خیال کے بہانے ڈھونڈنے والے ہیں، اے واعظ یہ کیسا جنون ہے، حرف و آواز سے ہمارے تھکے ہوئے دماغ کو نہ جلا۔ | |
مگیر خردہ بہ مضمونِ خون چکیدۂ بیدل | ستم فشار مکن زخمِ تازہ بستۂ ما را |
ترجمہ بیدل کے خون ٹپکتے مضمون پر نکتہ چینی نہ کر، ہمارے تازہ بندھے ہوئے زخم کو ستم سے نہ بھینچ۔ | |
