اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

مولانا محمد قاسم نانوتوی

(علیگڈھ انسٹیٹیوٹ گزٹ مورخہ 24 اپریل 1880ء)

افسوس ہے کہ جنابِ ممدوح حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نے 15 اپریل 1880ء کو ضیق النفس کی بیماری میں بمقام دیو بند انتقال فرمایا۔ زمانہ بہتوں کو رویا ہے اور آئندہ بھی بہتوں کو روئے گا۔ لیکن ایسے شخص کے لیے رونا جس کے بعد اُس کا کوئی جانشین نظر نہ آئے۔ نہایت رنج و غم اور افسوس کا باعث ہوتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ دلی کے علماء میں سے بعض لوگ جیسے کہ اپنے علم و فضل اور تقویٰ اور ورع میں مصروف و مشہور تھے۔ ایسے ہی نیک مزاجی اور سادہ وضعی اور مسکینی میں بے مثل تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ بعد جناب مولوی اسحاق کے کوئی شخص اُن کی مثل ان تمام صفات میں پیدا ہونے والا نہیں ہے۔ مگر مولوی محمد قاسم مرحوم نے اپنی کمال نیکی اور دینداری اور تقویٰ اور ورع اور مسکینی سے ثابت کر دیا کہ اس دلی کی تعلیم و تربیت کی بدولت مولوی محمد اسحاق صاحب کی مثل ایک اور شخص کو بھی خدا نے پیدا کیا ہے۔ بلکہ چند باتوں میں اُن سے زیادہ ہے۔

ابھی بہت سے لوگ زندہ ہیں جنھوں نے مولوی محمد قاسم صاحب کو نہایت کم عمری میں دلی میں تعلیم پاتے دیکھا ہے۔ اُنھوں نے جناب مولوی مملوک علی صاحب سے تمام کتابیں پڑھی تھیں۔ ابتدا ہی سے آثارِ تقویٰ اور ورع اور نیک بختی اور خدا پرستی کے اُن کے اوضاع اور اطوار سے نمایاں تھے اور یہ شعر اُن کے حق میں بالکل صادق تھا ؎

بالائے سرش ز ہوش مندی

می تافت ستارۂ بلندی

ترجمہ اُس کے سر کے اوپر ہوش مندی کے سبب بلندی کا ستارہ چمک رہا تھا۔

زمانۂ تحصیلِ علم میں جیسے کہ وہ ذہانت اور عالی دماغی اور فہم و فراست میں مصروف و مشہور تھے ویسے ہی نیکی اور خدا پرستی میں بھی زبان زدِ اہلِ فضل و کمال تھے۔ اُن کو جناب مولوی مظفر حسین صاحب کاندھلوی کی صحبت نے اتباعِ سنت پر بہت زیادہ راغب کر دیا تھا اور حاجی امداد اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضِ صحبت نے اُن کے دل کو ایک نہایت عالی رتبہ کا دل بنا دیا تھا۔ خود بھی پابندِ شریعت تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی پابندِ سنت و شریعت کرنے میں زائد از حد کوشش کرتے تھے۔ بایں ہمہ عام مسلمانوں کی بھلائی کا اُن کو خیال تھا۔ اُن ہی کی کوشش سے علومِ دینیہ کی تعلیم کے لیے نہایت مفید مدرسہ دیوبند میں قائم ہوا اور ایک نہایت عمدہ مسجد بنائی گئی۔ علاوہ اس کے اور چند مقامات میں بھی اُن کی سعی اور کوشش سے مسلمانی مدرسے قائم ہوئے۔ وہ کچھ خواہش پیر و مرشد بننے کی نہیں کرتے تھے۔ لیکن ہندوستان میں اور خصوصاً اضلاعِ شمال و مغرب میں ہزار ہا آدمی اُن کے معتقد تھے اور اُن کو اپنا پیشوا و مقتدا جانتے تھے۔

مسائلِ خلافیہ میں بعض لوگ اُن سے ناراض تھے اور بعضوں سے وہ ناراض تھے۔ مگر جہاں تک ہماری سمجھ ہے ہم مولوی محمد قاسم مرحوم کے کسی فعل کو خواہ کسی سے ناراضی کا ہو۔ خواہ کسی سے خوشی کا ہو۔ کسی طرح ہوائے نفس یا ضد یا عداوت پر محمول نہیں کر سکتے۔ اُن کے تمام کام اور افعال جس قدر کہ تھے بلا شبہ للّٰہیت اور ثوابِ آخرت کی نظر سے تھے اور جس بات کو وہ حق اور سچ سمجھتے تھے اُس کی پیروی کرتے تھے۔ اُن کا کسی سے ناراض ہونا صرف خدا کے لیے تھا اور کسی سے خوش ہونا بھی صرف خدا کے واسطے تھا۔ کسی شخص کو مولوی محمد قاسم صاحب اپنے ذاتی تعلقات کے سبب اچھا یا برا نہیں جانتے تھے۔ مسئلۂ حب للّٰہ اور بغض للّٰہ خاص اُن کے برتاؤ میں تھا۔ اُن کی تمام خصلتیں فرشتوں کی سی خصلتیں تھیں۔ ہم اپنے دل سے اُن کے ساتھ محبت رکھتے تھے اور ایسا شخص جس نے ایسی نیکی سے اپنی زندگی بسر کی ہو بلا شبہ نہایت محبت کے لائق ہے۔

اس زمانہ میں سب لوگ تسلیم کرتے ہوں گے کہ مولوی محمد قاسم اس دنیا میں بے مثل تھے۔ اُن کا پایہ اس زمانہ میں شاید معلوماتی علم میں شاہ عبدالعزیز کے کچھ کم ہو۔ اِلاّ اور تمام باتوں میں اُن سے بڑھ کر تھا۔ مسکینی، نیکی اور سادہ مزاجی میں اگر اُن کا پایہ مولوی اسحاق سے بڑھ کر نہ تھا تو کم بھی نہ تھا۔ وہ در حقیقت فرشتہ سیرت اور ملکوتی خصلت کے شخص تھے اور ایسے آدمی کے وجود سے زمانے کا خالی ہو جانا اُن لوگوں کے لیے جو اُن کے بعد زندہ ہیں نہایت رنج اور افسوس کا باعث ہے۔

افسوس ہے کہ ہماری قوم بہ نسبت اس کے کہ عملی طور پر کوئی کام کرے زبانی عقیدت اور ارادت بہت زیادہ ظاہر کرتی ہے۔ ہماری قوم کے لوگوں کا یہ کام نہیں ہے کہ ایسے شخص کے دنیا سے اُٹھ جانے کے بعد صرف چند کلمے حسرت اور افسوس کے کہہ کر خاموش ہو جائیں۔ یا چند آنسو آنکھ سے بہا کر اور رومال سے پونچھ کر چہرہ صاف کر لیں۔ بلکہ اُن کا فرض ہے کہ ایسے شخص کی یادگار کو قائم رکھیں۔

دیوبند کا مدرسہ اُن کی ایک نہایت عمدہ یادگار ہے اور سب لوگوں کا فرض ہے کہ ایسی کوشش کریں کہ وہ مدرسہ ہمیشہ قائم اور مستقل رہے اور اُس کے ذریعے سے تمام قوم کے دل پر اُن کی یادگاری کا نقش جما رہے۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ ہفتم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 205 تا 208 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔