خط (125) — 1914ء
1914ء میں اولڈ بوائز ایسوسی ایشن ایم۔ اے۔ او کالج علی گڑھ کے سالانہ اجلاس میں دعوتِ شمولیت کے جواب میں
بھائی شوکت1! اقبال عزلت نشین ہے اور اس طوفانِ بے تمیزی کے زمانہ میں گھر کی چار دیواری کو کشتیٔ نوح سمجھتا ہے۔ دنیا اور اہلِ دنیا کے ساتھ تھوڑا بہت تعلّق ضرور ہے مگر محض اس وجہ سے کہ روٹی کمانے کی مجبوری ہے۔ تم مجھے علی گڑھ بلاتے ہو میں ایک عرصہ سے خدا گڑھ میں رہتا ہوں اور اس مقام کی سیر کئی عمروں میں ختم نہیں ہوسکتی۔ علی گڑھ والوں سے میرا سلام کہیے۔ مجھے اُن سے غائبانہ محبّت ہے۔ اور اس قدر کہ ملاقاتِ ظاہری سے اس میں کچھ اضافہ ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ یہ چند اشعار میری طرف سے ان کی خدمت میں عرض کر دیجیے۔
والسّلام
|
کبھی اے نوجواں مسلم تدبّر بھی کیا تونے |
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا |
|
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبّت میں |
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا |
|
تمدّن آفریں خلّاقِ آئینِ جہاں داری |
وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا |
|
سماں ’’الفقر فخری‘‘ کا رہا شانِ امارت میں2 |
’’بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روئے زیبا را‘‘ |
|
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے |
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا |
|
غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے |
جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا |
|
اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں |
مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا |
|
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی |
کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت وہ سیّارا |
|
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی |
ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا |
|
حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی |
نہیں دنیا کے آئینِ مُسلَّم سے کوئی چارا |
|
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی |
جو دیکھو اُن کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا |
|
غنیؔ روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کن |
کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را3 |
(اقبال نامہ)
