اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

می دہد دل را نفس آخر بہ سیل اضطراب

می دہد دل را نفس آخر بہ سیلِ اضطراب

خانۂ آیینہ ای داریم و می گردد خراب

ترجمہ سانس آخرکار دل کو اضطراب کے سیلاب کے حوالے کر دیتا ہے؛ ہمارا ایک آئینہ خانہ ہے جو ویران ہوتا جا رہا ہے۔

در محیطِ عشق تا سر در گریبان بردہ ایم

نیست چون گرداب رزقِ ما بہ غیر از پیچ و تاب

ترجمہ عشق کے سمندر میں جب سے ہم نے سر گریبان میں ڈالا ہے، بھنور کی طرح ہمارا رزق پیچ و تاب کے سوا کچھ نہیں۔

کاش با اندیشۂ ہستی نمی پرداختیم

خوابِ دیگر شد غبارِ بینش از تعبیرِ خواب

ترجمہ کاش ہم ہستی کی فکر میں نہ پڑتے؛ خواب کی تعبیر سے بصیرت کا غبار ایک اور خواب بن گیا۔

یک گرہ وار از تعلق مانعِ وارستگی ست

موج اینجا آبلہ در پاست از نقشِ حباب

ترجمہ تعلق کی ایک گرہ بھر بھی آزادی میں رکاوٹ ہے؛ یہاں حباب کے نقش سے موج کے پاؤں میں آبلہ ہے۔

بسملِ شوقِ گل اندامی ست سر تا پای من

می توان چون گل گرفت از خندۂ زخمم گلاب

ترجمہ میں سر سے پاؤں تک ایک گل اندام کے شوق کا بسمل ہوں؛ پھول کی طرح میرے زخم کی ہنسی سے گلاب کھینچا جا سکتا ہے۔

در محبت چہرۂ زردی بہ دست آوردہ ام

زین گلستان کردہ ام برگِ خزانی انتخاب

ترجمہ محبت میں میں نے ایک زرد چہرہ کمایا ہے؛ اس گلستان سے میں نے خزاں کا ایک پتا چن لیا ہے۔

پیش روی او کہ آتش رنگ می بازد ز شرم

آینہ از سادہ لوحی می زند نقشی بر آب

ترجمہ اس کے چہرے کے سامنے، جس سے آگ بھی شرم کے مارے رنگ ہار دیتی ہے، آئینہ اپنی سادہ لوحی سے پانی پر نقش بناتا ہے۔

در تماشاگاہِ بوی گل نگہ را بار نیست

آب دہ چشمِ ہوس ای شبنم از سیرِ نقاب

ترجمہ پھول کی خوشبو کے تماشاگاہ میں نگاہ کو باریابی نہیں؛ اے شبنم، نقاب کی سیر سے ہوس کی آنکھ کو سیراب کر۔

تا بہ کی بیکار باشد جوہرِ شمشیرِ ناز

گرچہ می دانم نگاہت فتنہ است اما مخواب

ترجمہ ناز کی تلوار کا جوہر کب تک بے کار رہے؛ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ تیری نگاہ فتنہ ہے، مگر اسے سونے نہ دے۔

در دبستانِ تماشای جمالت ہر سحر

دارد از خطِ شعاعی مشقِ حیرت آفتاب

ترجمہ تیرے جمال کے تماشے کے مکتب میں ہر صبح سورج شعاعوں کے خط سے حیرت کی مشق کرتا ہے۔

شورِ حشر انگیخت دل از سعیٔ خاکستر شدن

سوخت چندانی کہ سر تا پا نمک شد این کباب

ترجمہ دل نے راکھ ہونے کی کوشش سے حشر کا شور اٹھا دیا؛ یہ کباب اتنا جلا کہ سر سے پاؤں تک نمک ہو گیا۔

ناقصان را بیدل آسان نیست تعلیمِ کمال

تا دمد یک دانہ چندین آبرو ریزد سحاب

ترجمہ بیدل، ناقصوں کو کمال سکھانا آسان نہیں؛ ایک دانہ اگنے تک بادل کتنی ہی آبرو بہا دیتا ہے۔