اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

مصر میں علوم کی تعلیم

(علیگڈھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 19 مئی 1883ء)

ہم نے آج کے اخبار میں عربی اخبار الاہرام سے، جو اسکندریہ میں چھپتا ہے، لارڈ ڈفرن‌Lord Dufferin کی اسپیچ کا ترجمہ، جو مصر کے مدرسوں اور علوم کی تعلیم سے متعلق ہے، چھاپی ہے اور اُس کے چند فقروں پر اپنے ملک کے لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے ریویو لکھنا چاہتے ہیں۔

ہمارے ملک کے سب لوگ اس بات کو تسلیم کریں گے کہ علوم و فنونِ جدیدہ کے ترجموں میں اور اُن کے ذریعہ سے ملک میں اعلی درجہ کی تعلیم پھیلانے میں مصر میں جو کوشش ہوئی وہ بے نظیر ہے اور در حقیقت نہایت عمدہ ترجمے ہوئے اور مفید مفید کتابیں لکھیں گئیں۔ لیکن اب وہ سب بے کار ہیں، اس لیے کہ اُن کے ترجمے ہوتے ہوتے اور درس میں آتے آتے تک علوم و فنون نے ایسی ترقی کر لی کہ وہ کتابیں مثل تقویمِ پارینہ کے بے کار ہو گئیں۔ لارڈ ڈفرن نے فرمایا کہ ’’جو کتابیں صنائع اور فنون کے مدارس میں زیرِ درس ہیں وہ تقویمِ پارینہ ہو گئیں اور یہ اس وجہ سے کہ کتابوں کے عربی میں ترجمہ ہونے اور اُن کے مشہور ہونے میں بے موقع تاخیر ہوئی ہے‘‘۔

پس جو لوگ ہمارے ملک میں بذریعہ ترجموں کے اعلی درجہ کی تعلیم دینا خیال کرتے ہیں وہ کیسی غلطی میں ہیں۔ علوم میں دن رات اس قدر ترقی ہوتی جاتی ہے جس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ پس جب تک کہ اُسی زبان میں کافی لیاقت حاصل نہ ہو جس زبان میں وہ علم پیدا ہوتے ہیں اور ترقی پاتے ہیں، اعلی درجہ کی تعلیم حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔

ایک اور مثال ہم خود اپنے ہاں کی دیتے ہیں۔ ہمارے علوم و فنون جو ہمارے باپ دادا نے حاصل کیے تھے وہ ایک درجہ پر پہنچ کر ٹھہر گئے تھے۔ اُن کی ترقی بند ہو گئی تھی۔ وہ تمام علوم عربی زبان میں تھے اور جہاں تک اُنھوں نے ترقی پائی تھی عربی زبان میں پائی تھی۔ اُس کے بعد فارسی زبان میں بہت سے ترجمے ہوئے اور کتابیں بھی تالیف ہوئیں۔ مگر کیا اُن ترجموں کو پڑھ کر کوئی عالم ہو گیا ہے۔ پس یہ خیال کہ ہم علوم و فنونِ جدیدہ کو اعلی درجہ پر بذریعہ ترجموں کے حاصل کر لیں گے، محض ایک لغو اور بیہودہ خیال ہے۔

مصر کے مشہور مدرسۂ ازہریہ کا ذکر لارڈ ڈفرن نے اپنی اسپیچ میں کیا ہے جس میں تین سو مدرس ہیں اور آٹھ ہزار طالب علم پڑھتے ہیں۔ اس مدرسہ میں اُسی قدیم طریقہ پر تعلیم ہوتی ہے جس طریقہ پر ہمارے ملک کے علماء اس زمانہ میں طالب علموں کو تعلیم دیتے ہیں۔ اس مدرسہ میں علمِ کلام، فقہ، صرف، نحو، منطق، فلسفہ، علمِ ادب عربی میں پڑھایا جاتا ہے۔

اب ہم کو غور کرنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا ہے؟ اس کا نتیجہ خود لارڈ ڈفرن کی سپیچ سے، جو بالکل صحیح و درست طور پر انھوں نے بیان کیا ہے، پایا جاتا ہے، جہاں انھوں نے یہ کہا ہے کہ ’’مصریوں کو اس شکایت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ عموماً مصر کے محکمہ جات میں بہت سے یورپین موجود ہیں کیونکہ خاص مصر کے لوگوں میں ایسے اشخاص کا سردست دستیاب ہونا جن میں ہر ایک قسم کی ضروری لیاقتیں پائی جاتی ہوں اور جو اُن تمام کاموں کو سنجیدگی سے چلا سکیں جن کی باگ مجبورانہ غیر ملک کے لوگوں میں ہے محال سے کم نہیں‘‘۔ پس ہمارے ملک کے لوگوں کو جو اُسی پرانی قسم کی تعلیم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کونسا پھل اُٹھانے کی توقع ہے۔

یہی مصیبت سر سالار جنگ مرحوم کو تھی کہ اُس ملک کے لوگوں کو کسی قسم کے کام کی لیاقت نہیں تھی اور گورنمنٹِ انگریزی کے عہدہ دار جیسی لیاقت رکھتے تھے اتنی بھی لیاقت دکن کے لوگوں میں نہ تھی۔ لاچار وہ گورنمنٹِ انگریزی کے عہدہ داروں کو بلا بلا کر نوکر رکھتے تھے۔ جن کی لیاقت کے سبب اُس ملک میں کسی قدر صورتِ انتظام ظاہر ہونے لگی تھی۔ پس دکن کے لوگوں کو لارڈ ڈفرن کی اُس گفتگو سے نصیحت پکڑنی لازم ہے۔

ایک اور عجیب بات مصر کے طالب علموں میں پائی جاتی ہے جو بعینہ ہمارے ملک کے لڑکوں میں بھی اکثر موجود ہے۔ لارڈ ڈفرن نے کہا کہ ’’مصر کا ایک لڑکا چھوٹے ہی سن میں سمجھ دار نظر آتا ہے اور اُس کو خاص قسم کی قابلیت، ریاضیات اور علمِ لغات میں ہوتی ہے مگر جب وہ ترقی کے ایک محدود درجہ تک پہنچتا ہے تو اُس کی عقل اُس قدر علومِ عالیہ کے سیکھنے میں ترقی نہیں کرتی جتنا کہ اُس کا جسم ترقی کرتا ہے‘‘۔ یہی حال ہمارے ملک کے اکثر مسلمان لڑکوں کا ہے۔

اسی سلسلہ میں لارڈ ڈفرن نے کہا کہ ’’کم سنی میں شادی کا ہونا ایک بہت بڑا سبب ہے جو اُس کو ترقی کے سلسلہ سے جدا کر دیتا ہے۔ بہت سے طالب علم ہیں جن کو تعلیم کی بینچوں پر بیٹھا دیکھو گے مگر وہ اپنے کندھوں پر جورو کا بوجھ لادے ہوئے ہیں‘‘، میں اس قدر اور اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ دو تین بچے بھی گھر میں رو رہے ہیں۔

ہمارا مقصد ان تحریروں سے اپنی قوم کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ یہ جو مقدس اشخاص علومِ مفیدہ کے حاصل کرنے سے قوم کو باز رکھتے ہیں اور مذہبی تعصب کو کام میں لاتے ہیں اور مذہبی ٹٹی‌اوٹ، پردہ کی آڑ میں لوگوں کو اغوا کرتے ہیں وہ قوم کے، اسلام کے، مسلمانوں کے در حقیقت دشمن ہیں۔ بعضے تو صرف اپنی دوکانداری اور مشیخت قائم رکھنے کو اور بعضے صرف اپنا تقویٰ اور تقدس لوگوں میں جتانے کو قوم کو غارت کرتے ہیں۔ اُن کا دعویٰ دینداری ادعائے تقدس محض جھوٹا ہے۔ اسلام ایک نہایت روشن اور سچا جوہر ہے۔ اُس کو علوم سے اور حقائقِ اشیاء کے معلوم ہونے سے جہاں تک کہ طاقتِ بشری میں ہے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔ البتہ علماء کی دوکانداری اور مقدسین کے بناوٹی تقدس اور متوہمین‌وہم پرست کے توہمِ باطل کو ضرور نقصان پہنچتا ہے۔ پس قوم کو اپنے حال پر خود غور کرنا چاہیے کہ در حقیقت ان کو کیا کرنا چاہیے۔

علاوہ اس کے یہ بات نہایت غور طلب ہے کہ باوجود یہ کہ مسلمان مختلف آب و ہوا کے ملکوں میں آباد ہیں اور مختلف قوموں کے لوگ ہیں۔ مختلف عملداریوں میں رہتے ہیں۔ اُن کی حیثیت بھی مختلف ہے۔ کہیں خود مختار بادشاہ ہیں، کہیں خود مسلمان بادشاہ کی رعیت ہیں۔ کہیں غیر قوم و مذہب کے سُلاطین کی رعایا ہیں مگر کیا سبب ہے کہ حالت سب کی یکساں ہے۔ جو خراب حالت کہ ہم ہندوستان کے مسلمانوں کی پاتے ہیں وہی بجنسہ مصر کے مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اور اسی حالت کا نمونہ ٹونس، مراکو‌Morocco، ترکی میں دیکھتے ہیں۔ شام و روم ایران و بخارا سب یکساں حالت میں ہیں۔ اس پر غور کرنا مسلمانوں کی بہبودی چاہنے والوں کو نہایت ضرور ہے اور قوم کے لیے نہایت مفید، خدا کرے کہ علمائے کرام میں سے کوئی شخص اس کے اسباب بیان کرنے پر اور اس عقدہ کے حل کرنے پر متوجہ ہو۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ ہشتم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 159 تا 163 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔