انسانی عقل کیسی محدود ہے؟ دنیا کیسی بے اعتبار ہے؟ یہ حقیقت ٹائٹینک جہاز کے غرق ہونے سے ظاہر ہو گئی۔ وہ تیرنے والا محل جس کی تیاری میں سائنس کی پوری طاقت صرف ہوئی تھی۔ جو انسانی کمالات کا نمونہ سمجھا جاتا تھا اور جس کی بابت یقین تھا کہ کوئی آفت ناگہانی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ آج صدہا جانوں اور ہزار ہا کے مال و متاع کو ساتھ لیے ہوئے سمندر کی چار میل کی گہرائی میں جا پڑا ہے۔ یہ آہنی محل بھی طلسمِ دنیا کا ایک فریبِ نظر تھا۔ جہاز کیا تھا اس ہستیِ ناپائدار کا ایک کرشمہ تھا۔ کیسی کیسی عزیز جانیں اس کے ساتھ غرقاب ہو گئیں۔ کیسے کیسے لوگ بے نام و نشان ہو گئے۔ ان سب کا خیال کر کے دل سروِ دنیا سے بیزار ہو جاتا ہے۔ آن کی آن میں سولہ سو سے زائد آدمی تہہ آب ہو گئے۔ ہزار ہا خاندان تباہ و برباد ہو گئے۔ مگر شاید سب سے زیادہ عزیز جان جو اس قیامت خیز حادثہ کی نذر ہوئی۔ مشہور و معروف ایڈیٹر مسٹر اسٹیڈ کی تھی۔ مسٹر اسٹیڈ کی مفید زندگی کا آغاز و انجام یکساں رہا۔ تمام عمر رفاہ عام میں کٹی اور آخر خدمتِ خلق ہی میں اُن کی جان گئی۔ اور اب اُن کے بغیر خالق کے نیک بندوں کی دنیا سونی ہے۔ انگلستان کیا تمام دنیا میں مسٹر اسٹیڈ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ 5 جولائی 1849ء میں شہر ایمبلٹن میں پیدا ہوئے۔ اُن کے پدر بزرگوار کا نام پادری ڈبلو اسٹیڈ تھا۔ بچپن عسرت و تنگدستی میں کٹا۔ جب وہ چودہ برس کے ہوئے تو اسکولی تعلیم کو خیرباد کہہ کر نیو کاسل کے ایک تجارتی کارخانے میں ملازمت شروع کی۔ خاندانی تعلقات کی وجہ سے اوائلِ عمر ہی سے طبیعت میں مذہب کا رنگ غالب تھا۔ اور لڑکپن ہی سے وہ اپنے والد ماجد کے ساتھ گرجے کے کاموں میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔ رفتہ رفتہ قرب و جوار کی مذہبی و سوشیل سوسائٹوں میں بھی آپ حصہ لینے لگے۔ اور اسی سلسلے میں اخبار نویسی کا شوق بھی شروع ہو گیا۔ پہلے اخبار ناردرن ایکو میں متفرق مضامین لکھتے رہے۔ اور اس میں اتنی توجہ و ترقی کی کہ 23 برس کی عمر میں اس کے ایڈیٹر مقرر ہو گئے۔ پھر کیا تھا آپ کی آزاد خیالی کی شہرت پھیلنے لگی۔
گذشتہ صدی کے مشہور نقادِ سُخن مسٹر آرنالڈ اکثر کہا کرتے تھے کہ جرنلزم میں اسٹیڈ نے ایک عجیب انداز پیدا کر دیا ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ عوام الناس میں پاک جذبات ابھارنا، ان کے خیالات کو نیک تحریکوں کی جانب رجوع کرنا اور سیدھے سچے راستے پر لگانا مسٹر اسٹیڈ کا خاص مشن تھا۔ ان کا طرزِ تحریر علمی لحاظ سے تو بہت رفیع نہ ہوتا تھا مگر اس میں سچائی کا زور اور جوش کا اثر پورے طور پر موجود رہتا تھا۔ صاف سیدھے سچے الفاظ میں وہ ہر معاملہ کی حقیقت کھول کر رکھ دیتے تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ اُن کی سادہ تحریر دلوں پر اثر کرتی تھی۔ غرض اخبار نویسی میں اُن کی قابلیت کی شہرت قایم ہونے لگی۔ اور 1880ء میں مسٹر جان مازلے جو اب لارڈ مارلے کے نام سے مشہور ہیں، جو اس وقت پال مال گزٹ کے ایڈیٹر تھے، نے مسٹر اسٹیڈ کو اپنا اسسٹنٹ ایڈیٹر بنایا۔ تین ہی برس میں مسٹر اسٹیڈ نے اپنی قابلیت کا سکہ بٹھا دیا۔ اور مسٹر مارلے نے ایڈیٹر کی کرسی اُن کے لیے خالی کر دی۔ چھے برس تک اُنھوں نے اس اخبار کو نہایت کامیابی اور ناموری کے ساتھ چلایا۔
مسٹر اسٹیڈ نے اپنی الوالعزمی اور جفا کشی سے نہ صرف اپنے اخبار کو ترقی دی بلکہ اخبار نویسی کا معیار بھی بہت بلند کر دیا۔ اُنھوں نے اس صفت میں اپنی جدتِ طبع کا بھی ثبوت دیا۔ بڑے بڑے مدبرانِ ملک سے اُن کے انتظامات ملکی کے متعلق دو بدو ملاقات کرنے اور پبلک کو ساری گفتگو کی اطلاع دینے کا طریقہ مسٹر اسٹیڈ ہی کی بدولت جاری ہوا۔ ضروری اور موجودہ معاملات ملکی پروسیس اور مفید عام پمفلٹ لکھ کر اہل ملک کو مصالحِ ملکی سے واقفیت کرانا بھی اُنھوں نے اپنا فرض سمجھا۔ ان مفید عام پمفلٹوں کا بعض اوقات ایسا اثر پڑا ہے کہ حکامِ وقت کو محض اُن کی وجہ سے اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا پڑا ہے۔ مگر یہ سرگرمی مسٹر اسٹیڈ کے لیے ذاتی خطرات سے خالی نہ تھی۔ گو پبلک خدمات انجام دیتے وقت آخر تک اُنھوں نے ذاتی نفع و نقصان اور اپنی جسمانی تکلیف و آرام کا کبھی خیال نہیں کیا۔ بہر حال پمفلٹ کی بدولت آپ کو جیل خانے کی مصیبت جھیلنی پڑی۔ مگر اس سے اُن کی سرگرمی اور آزاد خیالی و صاف بیانی میں کوئی فرق نہ آیا۔ سچ ہے کہ مسٹر اسٹیڈ کی قوتِ ارادی نہایت زبردست تھی۔ اور کسی قسم کا بھی تشدد انھیں زیر نہ کر سکتا تھا۔
دسمبر 1889ء میں آپ نے پال مال گزٹ سے قطعِ تعلق کر کے اپنا مشہور معروف رسالہ ریویو آف ریویوز نکالا۔ جو اب بھی بڑی شان سے ہر ماہ شائع ہوئے جاتا ہے۔
ہندوستان پر مسٹر اسٹیڈ کا خاص احسان ہے۔ یہاں کی ہر مفید تحریک سے اُن کو دلچسپی رہی۔ کانگرس کے بڑے حامی و مدد گار تھے۔ اور دو برس ہوئے وہ اس میں شریک ہونے کے لیے یہاں آنا چاہتے تھے مگر پھر بوجوہ مجبور رہے۔
ہندوستان میں بھی وہ ایک پارلیمنٹ قایم ہونے کے حامی تھے۔ گذشتہ بد امنی کے زمانہ میں جب دوست دشمن کی بھی تمیز مشکل ہو رہی تھی۔ اور جب سرکار ہر طرح کی سختی پر آمادہ نظر آتی تھی۔ اور انگریز لوگ ہر طرح کے تشدد کے طرفدار نظر آتے تھے۔ مسٹر اسٹیڈ نے بڑے زور و شور سے نرمی کے برتاوے کا مشورہ دیا۔ اور اپنی پوری طاقت سے آزادانہ تحریرات اور آزادانہ تقریروں کے حق کی حمایت کرتے رہے۔ ذاتی طور بھی وہ لندن میں ہندوستانیوں کی پوری امداد پر کمر بستہ رہتے تھے۔ ان کا مکان ہر وقت محتاجوں اور مظلوموں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ تمام دنیا میں بھی جس کسی کا بھی کچھ کام اٹکا ہو اور اُن کے ذریعہ نکل سکتا ہو۔ اور اُس کی اطلاع آپ کو پہنچ جائے تو وہ اُس کے لیے اپنا وقت اور روپیہ صرف کرنے سے کبھی دریغ نہ کرتے تھے۔
مثال کے طور پر ایک واقعہ کا ذکر کافی ہے، جس کو فخرِ قوم بابو سریندر و ناتھ صاحب بنر جی نے اپنی ایک حال کی اسپیچ میں بیان فرمایا ہے۔
ہادڑہ گینگ کیس میں ایک معزز دیش بھگت بالکل بے گناہ پھانس لیے گئے تھے اور اُن کو سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کھانا بُرا اور وہ بھی کافی نہیں۔ کال کوٹھری کی سزا وغیرہ ملنا تھا۔ مزید براں وہ بالکل نڈھال ہو گئے تھے۔ مگر آخر کار بے گناہی کی فتح ہوئی۔ اور وہ رہا ہو گئے۔ اور بابو سریندر و ناتھ بنر جی سے ملے اور کل رام کہانی کہہ سنائی۔ اُنھوں نے اپنے دوست سے کہا کہ آپ اس کو ایک مضمون کی شکل میں لکھ لیجئے اور اُس کو میں حکام بالا تک پہنچا دوں گا۔ مسٹر سریندر و ناتھ بنر جی فرماتے ہیں کہ میں نے سوائے مسٹر اسٹیڈ کے اور کسی کے پاس اس مضمون کو بھیجنا مناسب نہ سمجھا اور اس لیے اس کو اُن کے پاس روانہ کر دیا۔ مسٹر اسٹیڈ کا بواپسی ڈاک جواب آیا کہ میں اس مضمون کے متعلق لارڈ مارلے سے خاص طور پر ملا اور عرصہ تک بحث مباحثہ ہونے کے بعد اُنھوں نے مجھ کو یقین دلایا ہے کہ اب آیندہ ایسی کارروائی ہندوستان میں نہ ہونے پائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ روز بروز ان باتوں میں کمی اور احتیاط ہونے لگی۔ اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ مسٹر اسٹیڈ انصاف و آزادی کے کیسے سچے دوست اور ظلم و جفا کے کیسے جانی دشمن تھے۔ ان کی ہمدردی کسی خاص حصہِ دنیا یا کسی خاص قوم کے ساتھ محدود نہ تھی۔ تمام دنیا ان کی تھی اور تمام دنیا کی خدمت اُن کا کام تھا۔ مسٹر اسٹیڈ دنیا میں صلح کے زبر دست حامی تھے۔ باہمی جنگ و جدل سے ان کو طبعًا سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ صلح جوئی کے خیالات کی اشاعت کی غرض سے وہ شاہنشاہ روس اور دیگر والیان ملک سے ملے اور اُنھیں کی کوشش کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کے ملکی جھگڑوں اور سیاسی نزاعوں کے فیصلہ کرنے کے لیے ہیگ ٹریبونل موجود ہے۔ اُن کی زبردست شخصیت اُن کے عقائد کی سچائی اُن کے مقاصد کی پاکیزگی نے اُن کے قلم میں دلوں کی تسخیر کی طاقت بخشی تھی۔ مسٹر اسٹیڈ ضرور ایک عظیم القدر مدبّر اور پالٹیشن تھے۔ مگر اُن کی پالیٹکس دنیا بھر پر حاوی تھی۔ وہ بنی آدم از اعضائے یک دیگر اند کے سچے دل سے قائل تھے۔ وہ عملی طور پر مساوات اور آزادی کے پیرو کار تھے۔ وہ مادہ پرستی کے مرض سے جو مغرب میں ایک عالمگیر وبا کی طرح پھیلا ہوا ہے سخت بیزار رہتے تھے۔ اور مشرق کے مذہبی معیاروں کو اس کا علاج سمجھتے تھے۔ بڑہاپے میں وہ عالمِ ارواح سے نامہ و پیام کے بھی قائل ہو گئے تھے۔ اور اکثر اسی قسم کے روحانی مکاشفات کی بنا پر ملکی مسائل و سیاسی واقعات کے متعلق رائیں اور متثیلین پیشن گوئیاں شائع کیا کرتے تھے۔ اور ان میں سے اکثر صحیح بھی ثابت ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ 1909ء میں انھوں نے بجٹِ انگلستان کے متعلق مسٹر گلیڈ اسٹون مرحوم کی روح سے اپنی بات چیت کر کے مختلف اخباروں میں شائع کرائی تھی۔ اس طرف آپ کا شوق اس درجہ بڑھ گیا تھا کہ “بوڑڈر لینڈ” نامی اس قسم کے ایک اخبار کی اُنھوں نے 1891ء سے 97ء تک ایڈیٹری کی۔ ان فضولیات کے باوجود مسٹر اسٹیڈ نہایت سادہ اور پاک صاف زندگی بسر کرتے تھے۔ اور محض اپنی آزاد خیالی کی وجہ سے دنیا کی پالیٹکس پر اپنا اثر ڈالتے رہتے تھے۔ گذشتہ تیس سال کے اندر انگلستان میں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا جس پر مسٹر اسٹیڈ کی زبردست شخصیت کا عکس نہ پڑا ہو۔ کئی اہم تجویزیں محض اُن کی مخالفت کی وجہ سے دب گئیں۔ اور کئی خاص تحریکیں صرف اُن کی سرگرم کوشش کی بدولت کامیاب ہوئیں۔ جنگِ بوئر کی اُنھوں نے جیسی سخت مخالفت کی اُس کا نتیجہ ہے کہ لبرل گورنمنٹ کو افریقہ کو فتح کے بعد حکومتِ خود اختیاری عطا کرنی پڑی۔ انگلستان کی بحری فوج کی تقویت کی طرف اپنی قوم اور ملک کا خیال مسٹر اسٹیڈ ہی نے مبذول کیا اور اس بارے میں انگلستان کا موجودہ معیار انھیں کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کے لیے ہزاروں کی تعداد میں سستی اور عمدہ کتابیں چھاپنے کا سہرا بھی مسٹر اسٹیڈ ہی کے سر ہے۔ غرض صدہا تحریکوں کو محض اُن کے دم سے تقویت تھی۔ ان کی ذات ایک مجموعہِ صفات تھی۔ اور آج اُن کی بیوقت وفات سے تمام دنیا کو ایک نقصان عظیم پہنچا ہے جس کی تلافی اس وقت بالکل نا ممکن نظر آتی ہے۔ مسٹر اسٹیڈ زندگی بھر مظلوم دوست اور غریب پرور رہے۔ وہ ظلم و ستم کی مخالفت میں ہمیشہ اپنی جان و مال تک تصدق کرنے کو تیار رہتے تھے۔ آخر وقت تک وہ بنی نوعِ انسان کی خدمت ہی میں مصروف رہے۔ ٹائٹینک جہاز کے غرق ہوتے وقت اُنھوں نے اپنی جان بچانے کی مطلق پروا نہ کی۔ بلکہ بوڑھے بچوں اور عورتوں کو تسلی و تشفی دے کر جہاز سے کشتیوں پر اتارنے میں مصروف رہے۔ اور جو لوگ جہاز پر رہ گئے اُنھیں دم دلاسہ دے کر خدائے دو جہاں کی یاد دلاتے رہے۔ غرض مصیبت زدہ لوگوں کو مدد دیتے ہی دیتے اُنھوں نے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کی۔
|
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا |
