موی پیری بست بر طبعِ حسد تخمیرِ صلح | داد خون را با صفا آیینہ دارِ شیرِ صلح |
ترجمہ بڑھاپے کے بال نے حسد کی طبیعت پر صلح کا خمیر باندھ دیا؛ صلح کے دودھ کے آئینہ دار نے خون کو صفا بخش دی۔ | |
آخر از وضعِ جنون عذرِ علایق خواستم | کرد با عریانیٔ ما خارِ دامنگیر صلح |
ترجمہ آخر میں نے جنون کی وضع سے تعلقات کا عذر چاہا؛ دامن گیر کانٹے نے ہماری برہنگی سے صلح کر لی۔ | |
زین تفنگ و تیرِ پرخاشی کہ دارد جہلِ خلق | نیست ممکن تا نیارد در میان شمشیر صلح |
ترجمہ خلق کی جہالت جو یہ پرخاش کی بندوق اور تیر رکھتی ہے، اس کے ہوتے ممکن نہیں کہ تلوار بیچ میں آئے بغیر صلح ہو۔ | |
مطلبِ نایابِ ما را دشمنی آرام کرد | با خموشی مشکل است از آہِ بی تاثیر صلح |
ترجمہ ہمارے نایاب مطلب کو دشمنی نے آرام دے دیا؛ بے اثر آہ سے خاموشی کے ساتھ صلح مشکل ہے۔ | |
بر تحمل زن کہ می گردد درین دیرِ نفاق | صلح از تعجیلِ جنگ و جنگ از تأخیرِ صلح |
ترجمہ تحمل کا دامن تھام، کہ اس نفاق کے دیر میں جنگ کی جلدی سے صلح اور صلح کی تاخیر سے جنگ ہو جاتی ہے۔ | |
با قضا گر سر نخواہی داد کو پای گریز | اختیاری نیست این آماج را با تیر صلح |
ترجمہ اگر تو قضا کے آگے سر نہیں جھکانا چاہتا تو بھاگنے کا پاؤں کہاں ہے؟ اس نشانے کو تیر سے صلح کا کوئی اختیار نہیں۔ | |
مرد را چون تیغ در ہر امر یکرو بودن است | نیست ہنگامِ دعا بی خجلتِ تزویر صلح |
ترجمہ مرد کو تلوار کی طرح ہر معاملے میں یک رُخا ہونا چاہیے؛ دعا کے وقت صلح فریب کی شرمندگی سے خالی نہیں ہوتی۔ | |
عام شد رسمِ تعلق شرمِ آزادی کراست | خلق را چون حلقہ با ہم داد این زنجیر صلح |
ترجمہ تعلق کی رسم عام ہو گئی، آزادی کی شرم کسے ہے؟ اس زنجیر نے خلق کو کڑیوں کی طرح آپس میں جوڑ دیا۔ | |
در طلسمِ جمعِ اضدادی کہ برہم خوردنی ست | آب می گردم ز خجلت گر نماید دیر صلح |
ترجمہ اضداد کے اجتماع کے اس طلسم میں جسے آخر درہم برہم ہونا ہے، اگر صلح دیر کرے تو میں شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہوں۔ | |
اعتبارات آنچہ دیدم گفتم اوہام است و بس | جنگِ صد خوابِ پریشان شد بہ یک تعبیر صلح |
ترجمہ جو اعتبارات میں نے دیکھے، کہہ دیا کہ وہم ہیں اور بس؛ سو پریشان خوابوں کی جنگ ایک تعبیر سے صلح بن گئی۔ | |
دوش از پیرِ خرد جستم طریقِ عافیت | گفت ای غافل بہ ہر تقدیر با تقدیر صلح |
ترجمہ کل رات میں نے عقل کے پیر سے عافیت کا راستہ پوچھا؛ اس نے کہا: اے غافل! ہر حال میں تقدیر سے صلح۔ | |
کاش رنگِ عالمِ موہوم درہم بشکند | تنگ شد بیدل بہ جنگِ لشکرِ تصویر صلح |
ترجمہ کاش اس موہوم عالم کا رنگ درہم برہم ہو کر ٹوٹ جائے؛ بیدل! تصویروں کے لشکر کی جنگ سے صلح تنگ آ گئی ہے۔ | |
