خط (161) — 5 جولائی 1932ء
بصیغۂ راز
جنابِ مولانا۔ السلام علیکم
مولانا شوکت علی تو اس وقت مقدمہ کی تیاری میں مصروف ہوں گے3۔ آپ ان سے دریافتِ حالات کر کے اس خط کا جواب دیں۔ کچھ روز ہوئے میں نے ان کی خدمت میں لکھا تھا کہ ایک ہندو بزرگ مسٹر للت4 کا خط میرے پاس آیا تھا۔ اس کا مضمون یہ تھا کہ مونجے5 تمہاری اسکیم کو جو تم نے لیگ کے صدارتی ایڈریس میں پیش کی تھی تسلیم کرتے ہیں۔ پنڈت مالوی سے بھی مشورہ کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ وہ بھی ہندو مسلمانوں کی صلح کے خاطر اس کو تسلیم کر لیں گے گو اس وقت علانیہ طور پر اس اسکیم کو تسلیم کرنا مصلحت نہیں ہے۔
یہ خط بصیغۂ راز تھا اور اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ مولانا شوکت علی صاحب سے بھی گفتگو کی ہے وہ بھی صلح پر آمادہ ہیں۔ اسکیم جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے یعنی شمالی ہندوستان کے مسلمان صوبوں کا ایک ہو جانا۔
اس خط کے موصول ہونے پر میں نے مولانا شوکت علی کو لکھا اور انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسٹر پنڈت للت ان سے ملے تھے۔ میں نے مسٹر موصوف کو دو خط اس کے جواب میں لکھے تھے مگر یہ خط قریباً ایک ماہ کے بعد ڈڈ لیٹر آفس کے ذریعہ سے میرے پاس واپس آ گئے ہیں۔ پہلے مجھ کو شبہ تھا کہ اس میں کوئی چال اور عیاری نہ ہو مگر اب خطوں کے واپس آ جانے سے یہ شبہ رفع ہوا۔ مسٹر للت اب معلوم نہیں کہاں ہیں اور مذکورہ بالا خط کے لکھنے سے ان کا کیا مقصد تھا۔ ممکن ہے مولانا شوکت علی اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں۔ بعض لوگ مشورہ دے رہے ہیں کہ میرے خطوط کے واپس آ جانے کے بعد مسٹر للت کے خط کو شائع کرنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو حالات دریافت کرنے کے بعد مجھ کو مطلع فرمائیں۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔
مخلص محمد اقبال
افسوس ہے کہ بمبئی کے فسادات ختم ہونے میں نہیں آتے6۔
(انوار اقبال)
