(از ’’آخری مضامینِ سرسید‘‘)
اگرچہ ہم کو کشف و مکاشفہ نہ ہو، مگر ہم کو سمجھنا تو چاہئے کہ یہ کیا چیز ہے؟ جاہل طب کو نہیں جانتا، مگر یہ جانتا ہے کہ طب سے کیا ہوتا ہے اور کیوں کر ہوتا ہے۔ پس اگر ہم بھی کشف و مکاشفہ سے جاہل ہیں، تو بھی ہم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ ہے کیا چیز؟ حضراتِ صوفیۂ کرام فرماتے ہیں کہ روح اور جسم میں جو حجاب ہے اُس کے اُٹھ جانے کو مکاشفہ کہتے ہیں، مگر حجاب کے لفظ نے ہم کو گھبرا دیا کہ وہ پردہ کیسا ہے جو روح اور جسم کے بیچ میں ہے۔ نہ وہ پردہ ٹاٹ کا ہو سکتا ہے، نہ کپڑے کا، نہ لنکاٹ1۔ پھر وہ پردہ کاہے کا ہے؟
قرآنِ مجید میں ایک جگہ غطَاءَ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی بھی حجاب کے ہیں جہاں خدا نے فرمایا ہے: فَكَشَفْنَا عَنْكَ غطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ،2 ہم نے جب تفسیروں کو دیکھا تو اُن میں غطاء کے معنی غفلت کے لکھے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو پردہ انسان کے جسم اور روح کے درمیان میں ہے وہ غفلت کا پردہ ہے اور اس غفلت کا نہ ہونا پردہ کا اُٹھ جانا ہے۔ پس انسان مشاغلِ دنیوی سے جو اُس پر پردۂ غفلت ڈال دیتے ہیں علیحدہ ہو کر مبدءِ حقیقی یا ذاتِ باری کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنے خیال کو اسی طرف لگا لیتا ہے تو غفلت کا پردہ اُٹھ جاتا ہے۔ پس مکاشفہ ایک حالت ہوئی جو خود انسان کے خیال میں پیدا ہوتی ہے۔ پس جو کچھ کہ وہ اپنے نفس میں پاتا ہے۔ اور فرض کرو کہ وہ اس حالت میں کچھ دیکھتا بھی ہے تو بجز اُس کے خیال کے اور کوئی دوسری چیز نہیں ہے اور کوئی چیز معلوم نہیں ہوتی اور اسی حالت کو صوفیۂ کرام نے مکاشفۂ نظری سے تعبیر کیا ہے اور جب کہ اسی خیال کو اور زیادہ پکایا جاتا ہے اور اُس کے تصور میں یہ خیال جم جاتا ہے۔ کہ میرا دل بھی نورانی ہو گیا ہے تو اُس حالت کو صوفیۂ کرام مکاشفۂ نوری سے تعبیر کرتے ہیں، حالانکہ وہ بجز خیالِ انسانی کے اور کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔
اور جب اس خیال کو اور زیادہ پکاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تمام اسرارِ آفرینش پر اُس کا ذہن محیط ہو گیا ہے تو اُس کو صوفیۂ کرام نے مکاشفۂ سری سے یا مکاشفۂ الہی سے تعبیر کیا ہے، حالانکہ وہ بھی بجز اُن کے خیال کے اور کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔
اور جب کہ اُس خیال کو دل میں اور زیادہ پکایا اور سمجھنے لگا کہ دوزخ اور بہشت کا حال مجھ پر کھل گیا ہے اور فرشتے مجھ کو دکھائی دیتے ہیں اور بے انتہا عالم مجھ پر کھل گئے ہیں تو اس حالت کو صوفیۂ کرام نے مکاشفۂ روحانی سے تعبیر کیا ہے، حالانکہ وہ بھی بجز اس کے خیال کے اور کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔
اور جب کہ وہ اس خیال کو اور زیادہ پکاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں صفاتِ باری میں بیٹھ گیا ہوں تو صوفیۂ کرام نے اُس حالت کو مکاشفۂ صفاتی سے تعبیر کیا ہے، حالانکہ وہ بھی بجز اس کے خیال کے اور کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔
اگر یہ حالت انسان کی خدا کی صفتِ علمی میں بیٹھ جانے سے پیدا ہوئی ہو تو اُس کو علمِ لدنی حاصل ہوتا ہے اور اگر خدا میں جو صفت سننے کی ہے، اُس میں بیٹھ گیا ہو تو وہ خدا کا کلام سن سکتا ہے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام سنتے تھے۔ اور اگر وہ خدا کے بصیر ہونے کی صفت میں بیٹھ گیا ہے تو اُس کو خدا کا دیدار ہونے لگتا ہے اور اگر وہ خدا کے جلال کی صفت میں بیٹھ جاتا ہے تو اُس کو بقائے حقیقی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ خدا کی جس صفت میں بیٹھ جاتا ہے اسی کے موافق حالت اُس پر طاری ہوتی ہے جس کو وہ مکاشفہ سمجھتا ہے، مگر وہ بجز اُس کے خیال کے اور کوئی چیز نہیں ہے۔
اب صوفیۂ کرام فرماتے ہیں کہ ’’مکاشفۂ ذاتی ایسی چیز ہے جس کا بیان کسی طرح نہیں ہو سکتا‘‘۔ پس ان بیانات سے اس قدر سمجھ میں آتا ہے کہ انسان جو کچھ اپنے خیالات میں پکا لیتا ہے اُسی کا نام مکاشفہ ہے اور یہ حالتیں جو صوفیۂ کرام نے بیان کی ہیں سب خیال ہی خیال ہیں اور خیال کے سوا کچھ نہیں۔ والله در من قال۔ ’’التصوف هو ارجاع النفس الى امور خيالية والمداومة عليها۔ الى زمان حتى تتخيل الامور بخياله كان هذا الامور موجودة فى نفسه لكن الموجود فى خياله هو خياله۔ لاشي غيره۔ هكذا يترق من خيال الى خيال آخر۔ و يتصور شئ آخر۔ ولكنه ليس شئ آخر۔ الا هو خيال نفسه فاذا ترق هذا الخيال الى شئ يتخيل انه هو الله۔ لوشان من شيونه والان يتخيل انه رفع نفسه الى اعلى الدرجة۔ وعرف الله حق معرفته۔ والله برى عن هذا۔ والحق انه ليس كمثله شئ۔ و هو السميع البصير۔3
[اس مضمون میں اور اس کے آگے کے مضمون میں سرسید نے یہ دکھانے اور ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’’مکاشفہ‘‘ درحقیقت کوئی حقیقی چیز نہیں، بلکہ بزرگ اور مذہبی آدمیوں کے دل میں جو خیال آتا ہے وہ اسے مکاشفہ سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن عام لوگ جب کوئی ایسی بات دیکھتے ہیں تو اسے اتفاق اور دل کا خیال سمجھتے ہیں۔ مکاشفہ کے متعلق سرسید کا یہ خیال اُن ہزاروں پیغمبروں اور لاکھوں اولیاء اللہ حضرات کے اقوال و ارشادات کے خلاف ہے جو مکاشفہ کو خدا کی طرف سے سمجھتے اور یقین کرتے ہیں، حالانکہ وہ سب کے سب نہایت سچے، راستباز اور نیک اور صالح انسان تھے اور ہرگز یقین نہیں آ سکتا کہ اُنہوں نے جھوٹ بول کر دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔ اگر سرسید کا یہ خیال صحیح سمجھ لیا جائے تو پھر نعوذ باللہ4 کوئی نبی بھی سچا نہیں ٹھہر سکتا۔ ہر ایک کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے خیال کو مکاشفہ اور الہام سمجھا۔ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو کچھ طور پر دیکھا اور رسولوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ غارِ حرا میں ملاحظہ فرمایا وہ سب وہمی باتیں اور نعوذ باللہ اُن کے دل کے خیالات تھے اور خدا کے نور کی تجلی اُن کے دلوں پر نہیں پڑتی تھی؟]
محمد اسماعیل پانی پتی
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 110 تا 113 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔ یہ تحریر کتاب «آخری مضامینِ سر سید» سے ماخوذ ہے۔

