اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

مناجاتِ سرسید بدرگاہِ رب العزت

(منقول از حیاتِ جاوید حصہ اول صفحہ 150)

1857ء کے قیامت خیز اور خونی ہنگامہ کے بعد جب خدا خدا کر کے ملک میں امن قائم ہوا اور ملکہ وکٹوریا1 نے عام معافی کا اعلان کر دیا تو سرسید اس وقت مراد آباد (یو-پی) میں صدر الصدور2 تھے۔ ان کی تحریک پر شہر کے مسلمانوں کا ایک عظیم مجمع اظہارِ شکر کے لئے حضرت شاہ بلاقی3 کی درگاہ میں 28 جولائی 1859ء کو جمع ہوا۔ نمازِ عصر کے بعد تقریر سے پہلے سرسید نے یہ لکھی ہوئی مناجات نہایت بلند آواز سے تمام حاضرین کے سامنے پڑھی۔ اس مناجات کے متعلق مولانا حالی ’’حیاتِ جاوید‘‘ میں فرماتے ہیں کہ ’’اس میں نہ تو شاندار الفاظ ہیں، نہ بیان کی رنگینی ہے، نہ کوئی تصنع ہے، نہ کوئی بناوٹ ہے۔ سیدھے سادھے فقرے اور بے ساختہ جملے ہیں، مگر اس کے ہر فقرے اور ہر جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی تباہی اور بربادی نے اس شخص کے دل میں عجیب بے چینی کی کیفیت پیدا کر رکھی تھی جو کسی طرح کم نہ ہوتی تھی، بلکہ برابر بڑھتی جاتی تھی اور اس بات کی خبر دیتی تھی کہ وہ سرسید کو اخیر دم تک اس چیٹک4 سے خالی نہ رہنے دے گی۔ اس مناجات کے الفاظ سرسید کے دل کی اصلی حالت کو نہایت واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں‘‘۔ پس ہمیں مناسب معلوم ہوا کہ اس پردرد اور پر اثر دعا سے سرسید کے مضامین کی ابتدا کریں۔ اس دعا کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف سے اس درد اور تڑپ کا نہایت زور اور شدت سے اظہار ہوتا ہے جو سرسید کے دل میں اپنی قوم کا تھا، مگر افسوس اس تمام ہمدردی و غمخواری اور اس تمام درد و کرب کا صلہ قوم کی طرف سے سوائے کفر کے فتووں کے سرسید کو اور کچھ نہ ملا۔

(محمد اسماعیل پانی پتی)

’’اے خدا! تو ہمارا حقیقی پروردگار ہے۔ اے خدا! اصلی بادشاہت اور حقیقی سلطنت تجھ ہی کو سزاوار ہے۔ اے خدا! مالک الملک! تو ہی ہے جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ اے خدا! سارے عالم اور تمام مخلوقات کی جانیں اور سب آدمیوں کے دل تیرے ہاتھ میں ہیں۔ جس طرف تو چاہتا ہے ان کو پھیرتا ہے اور جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔ تیرا کوئی کام حکمت اور رحمت سے خالی نہیں۔ تیرے کام میں کسی کو چون و چرا کی قدرت نہیں۔ اے خدا! ہم تیرے عاجز بندے سراسر تیرے گنہگار ہیں۔ اے خدا! ہماری شامتِ اعمال نے ہم کو گناہ کے دریا میں سر تک ڈبو دیا ہے۔ اے خدا! ہم تیرے ہر وقت تقصیروار ہیں۔ جب تک تیری مدد نہ ہو ایک دم گناہ سے پاک نہیں رہ سکتے۔ اے خدا تیرے سوا کوئی ہمارے گناہ بخشنے والا نہیں۔ ہم نہایت عاجزی اور کمالِ انکسار سے اپنے گناہوں کی معافی حضرتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وصلم کے وسیلے سے تجھ سے چاہتے ہیں۔ اے خدا! تیرے غضب سے تیری رحمت سبقت لے گئی ہے۔ اپنی رحمتِ کاملہ سے ہمارے گناہ معاف کر۔ اے خدا! جس طرح تیری حکمت سے میلا کپڑا میل سے پاک ہوتا ہے، اسی طرح ہم کو ہمارے گناہوں کی ناپاکی سے پاک کر۔ اے خدا! اپنی بے انتہا رحمت سے ہمارے دل کو تمام برائیوں اور ناپاک چیزوں سے جو دل کو ناپاک کرتی ہیں، صاف کر۔ اے خدا! ہمارے دل کے گناہوں کو مٹا اور ہماری روح کو روح القدس کی تائید سے قوی کر۔ تیرے سوا ہمارا حقیقی ماوا اور اصلی ملجا اور کوئی نہیں، آمین!

الٰہی! ہمارے گناہ حد سے زیادہ ہو گئے تھے۔ الٰہی ہماری شامتِ اعمال کی کچھ انتہا نہ رہی تھی۔ اگرچہ ہم یقین کرتے ہیں کہ ہر ایک کے اعمال کی سزا اور جزا کا ایک دن بیشک آنے والا ہے جس کا تو نے اپنے سچے نبیوں کی کتابوں میں وعدہ کیا ہے اور اُس دن تیری رحمت اور تیرے فضل کے سوا کسی کا چھٹکارا نہیں، کیونکہ تیرے آگے سب گنہگار ہیں، مگر ان پچھلے دو برسوں میں جو تیری نگاہِ قہر آلود تیرے عاجز بندوں کی طرف ہوئی، وہ بیشک ہماری شامتِ اعمال کا ظاہری نتیجہ تھا۔ الٰہی! ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ الٰہی! ہم اپنے گناہوں کی تجھ سے معافی چاہتے ہیں۔ الٰہی! تو ہمارے گناہ سب معاف کر۔ آمین!

الٰہی! پچھلا زمانہ تیری مخلوقات پر ایسا گذرا کہ انسان اور حیوان اور تمام چرند و پرند، بلکہ شجر و حجر کو بھی چین اور آرام نہ تھا۔ کوئی شخص بھی اپنی جان و مال اور آبرو پر مطمئن نہ تھا۔ ان پچھلے فسادوں نے زمین و آسمان کو گویا اُلٹ پلٹ کر دیا تھا۔ الٰہی! تو نے اپنے فضل و کرم سے ان تمام فسادوں اور آفتوں کو دور کیا۔ الٰہی تو نے پھر اپنے عاجز بندوں پر رحم کیا اور جو امن و آسائش ان بدبخت برسوں سے پہلے تو نے اپنے بندوں کو دی تھی، پھر وہی امن و آسائش تو نے اپنے بندوں کو نصیب کی۔ الٰہی! تیرے اس رحم کا ہم دل سے شکر ادا کرتے ہیں۔ الٰہی! تو ہمارے اس شکرانے کو جو تیری درگاہ کے لائق نہیں ہے، اپنے فضل و کرم سے قبول کر، آمین!

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 1 تا 4 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔ یہ دعا «حیاتِ جاوید» (حصہ اول، صفحہ 150) سے منقول ہے۔