خط (1) — 10 اگست 1904ء (جلد اوّل، خط 13)
از ایبٹ آباد ضلع ہزارہ
جنابِ من میں کئی دنوں سے یہاں ہوں لیکن افسوس کہ یہاں پہنچتے ہی بیمار ہو گیا اور اسی وجہ سے آپ کے خط کا جواب نہ دے سکا۔ ابھی پورا افاقہ نہیں ہوا۔ اشعار ارسالِ خدمت کرتا ہوں۔
(دوسرا صفحہ ملاحظہ ہو۔)
محمد اقبال معرفت شیخ عطا محمد سب ڈویژنل افسر ملٹری ورکس
10؍ اگست 1904ء
(قومی آواز دہلی)
خط (2) — مارچ 1906ء (جلد اوّل، خط 24)
[’’زمانہ‘‘ (کانپور) کے ایڈیٹر نے 1906ء کے آغاز میں سودیشی تحریک کے متعلق چند سوالات مرتب کیے اور ان کو مختلف مسلمان مفکرین ادیب اور سیاسی رہنماؤں کے پاس بھیجا۔ یہ سوالات اپریل 1906ء کے شمارے میں شائع کیے گئے۔ سوالات یہ تھے۔
1۔ سودیشی تحریک بذاتِ خود ملک کی ترقی کے لیے کہاں تک مفید ہے۔ اور اس تحریک کے نشیب و فراز، نفع و نقصان اور عمل درآمد کے متعلق آپ کی مفصّل رائے کیا ہے۔
2۔ اس تحریک میں ہندوستان کے اتّفاق کی کہاں تک ضرورت ہے؟ خاص مسلمانوں کے لیے اس سے کوئی نفع یا نقصان پہنچنے کی کہاں تک اُمیّد ہے؟
3۔ اس تحریک کی کامیابی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے اور اس کی کامیابی کا ہندو مسلمانوں پر جداگانہ اور ملک پر بہ حیثیت مجموعی کیا اثر ہوگا؟
اقبال کا جواب جو اُنہوں نے کیمبرج سے بھیجا تھا مئی 1906ء کے شمارے میں یوں شائع کیا گیا ہے۔]1
از جناب پروفیسر شیخ محمد اقبال صاحب ایم اے
از کیمبرج
1۔ سودیشی تحریک ہندوستان کے لیے کیا ہر ملک کے لیے جس کے اقتصادی اور سیاسی حالات ہندوستان کی طرح ہوں، مفید ہے۔ کوئی ملک اپنے سیاسی حقوق کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ پہلے اس کے اقتصادی حالات درست نہ ہو جائیں۔ ہمارے اہل الرائے سیاسی آزادی، سیاسی آزادی پکارتے ہیں، مگر کوئی شخص اِس باریک اصول کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ سیاسی آزادی کے شرائط میں سب سے بڑی شرط کسی ملک کا اقتصادی دوڑ میں سبقت لے جانا ہے، جہاں تک کہ اس کا جغرافی مقام اور دیگر قدرتی اسباب اس کے مُمِدّ ہوں سیاسی آزادی کوئی معمولی چیز نہیں ہے کہ بغیر دام دیے مل جائے۔ انگلستان کی سرزمین کے ہر ذرّے میں اُن لوگوں کا خون چمکتا ہوا نظر آتا ہے جنہوں نے سیاسی حقوق کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔ باغیوں کی طرح نہیں بلکہ ان لوگوں کی طرح جن کے دلوں میں اپنے وطن کے قانون اور اس کے رسوم کی عزت ہوتی ہے اور جو اپنے گراں قدر خون کے قطرے قانون کی تائید میں بہاتے ہیں نہ اس کی تردید اور مخالفت میں۔ میرا تو یہ مذہب ہے کہ جو قوم خود آزادی کی دلدادہ ہو وہ اوروں کی آزادی کو رشک کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتی، اور انگریزوں کی معاشرت دیکھ کر بھی میرے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ ہاں ہم لوگوں میں اس کی قابلیت ہونا ضروری ہے اور اس قابلیت کے پیدا ہونے کا سب سے بڑا سبب جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے اقتصادی قوانین کو ایک مرکز پر جمع کرنا ہے جس کی طرف خوش قسمتی سے اب اہلِ وطن کی توجہ ہوئی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ بے وجہ جوش ہماری آرزو کو تاریک کر دیتا ہے اور ہم اس جوش میں ایسی طفلانہ حرکات کر دیتے ہیں جس کا مفید اثر کچھ نہیں ہوتا اور جن کا نقصان دیرپا ہوتا ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی عقل کی بات ہے کہ امریکہ اور جرمن کی چیزیں خریدو، مگر انگلستان کی چیزوں کو ہندوستان کے بازاروں سے خارج کر دو۔ مجھ کو تو اس کا اقتصادی فائدہ کچھ نظر نہیں آتا بلکہ اگر انسانی فطرت کے محرّکات پر غور کرو تو اس میں سراسر نقصان ہے۔ اس طریقِ عمل سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انگلستان سے ہم کو سخت نفرت ہے نہ یہ کہ ہم کو ہندوستان سے محبت ہے۔ اپنے وطن کی محبت کسی غیر ملک (؟) کے مستلزم نہیں ہے(کذا)۔ علاوہ اس کے اقتصادی لحاظ سے اس میں کچھ فائدہ نہیں ہے۔ مغربی خیالات اور تعلیم کی اشاعت سے اب ہماری ضرورتوں کا احاطہ وسیع ہو گیا ہے اور اسی میں سے بعض اس قسم کے ہیں کہ سردست ہمارا اپنا ملک ان کو پورا نہیں کر سکتا۔ پھر میں نہیں سمجھتا کہ اس طفلانہ فعل سے سوائے اس کے کہ حکام کو خواہ مخواہ بدظن کیا جائے اور کیا فائدہ ہے۔ قطعِ نظر ان تمام باتوں کے ہزاروں چیزیں ایسی ہیں کہ ہمارا ملک بعض حوالی خصوصیات اور دیگر قدرتی اسباب کے عمل کی وجہ سے ان کو ارزاں نرخ پر تیّار ہی نہیں کر سکتا۔ اس بات کی کوشش کرنا کہ ہماری ساری ضرورتیں اپنے ملک کی خصوصیّات سے پوری ہو جایا کریں سراسر جنون ہے۔ واقعات کے لحاظ سے دیکھو تو یہ بات کسی ملک کو نہ اب نصیب ہے اور نہ ہو سکتی ہے اور اگر یہ بات ممکن بھی ہو جائے تو اس میں میرے خیال میں بجائے فائدہ کے نقصان ہے جس کی مفصّل تشریح اس مقام پر نہیں ہو سکتی۔ سودیشی تحریک کو عملی صورت دینے کے لیے میری رائے میں ان باتوں کا لحاظ ضروری ہے:
(ا) وہ کون سی مصنوعات ہیں جو اس وقت ملک میں تیّار ہو رہی ہیں اور ان کی کمیّت اور کیفیت کیا ہے؟
(ب) وہ کون سی مصنوعات ہیں جو پہلے تیّار ہوتی تھیں اور اب تیّار نہیں ہوتیں؟
(ج) وہ کون کون سی مصنوعات ہیں جن کو ہم خصوصیت سے عمدہ اور ارزاں تیّار کر سکتے ہیں؟
(د) ملک کے صوبوں یا دیگر قدرتی حصص کے لحاظ سے وہ کون کون سے مقام ہیں جو بعض اسباب کی وجہ سے خاص خاص مصنوعات کے لیے موزوں ہیں۔
(ا) تخمیناً کس قدر سرمایہ زیورات وغیرہ کی صورت میں ملک میں معطّل پڑا ہے اور اس کو استعمال میں لانے کے لیے کیا وسائل اختیار کیے جائیں۔ ان تمام امور کو ملحوظ رکھ کر عملی کام شروع کرنا چاہیے۔ ضرور ہے کہ ابتدا میں ناکامی کا سامنا بھی ہو، مگر کوئی بڑا کام سوائے قربانی کے نہیں ہوا۔ کسی ملک کے اقتصادی حالات کا درست ہونا تھوڑے عرصے کا کام نہیں ہے، اس میں صدیوں کی ضرورت ہے، ہم نقصان اُٹھائیں گے تو ہماری آیندہ نسلیں فائدہ اٹھائیں گی۔ علاوہ اس کے مشترک سرمایہ کی جماعتیں نہایت مفید ثابت ہوں گی، خصوصاً ہمارے ملک میں جہاں کے لوگ کم سرمایہ رکھتے ہیں۔ سرمایہ کے بہترین نتائج اُس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس کی مقدار بڑی ہو۔ مگر عملی لحاظ سے کامیاب ہونے کے لیے سب سے بڑی ضرورت اصلاحِ اخلاق کی ہے۔ لوگوں کو ایک دوسرے پر اعتبار کرنا سکھاؤ، ان کے اِسراف کی عادت پر نکتہ چینی کرو اور اُن کے دل پر یہ امر نقش کر دو کہ انسان کی زندگی کا مقصد خود غرضی کے پردے میں بنی نوعِ انسان کی بہتری کی جستجو کرنا ہے۔ افسوس ہے کہ میں جیسا چاہتا تھا ویسا جواب نہیں لکھ سکا۔ کچھ اس خیال سے کہ ڈاک کا وقت جاتا ہے اور کچھ اس خیال سے کہ زیادہ تعویق مناسب نہ ہوگی۔
(2) سیاسی حقوق کے حصول کی دوسری بڑی شرط کسی ملک کے افراد کے اغراض کا متحد ہونا ہے۔ اگر اتحادِ اغراض نہ ہوگا تو قومیت پیدا نہ ہوگی اور اگر افراد قومیت کے شیرازے سے ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ نہ ہوں گے تو نظامِ قدرت کے قوانین ان کو صفحۂ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیں گے۔ قدرت کسی خاص فرد یا مجموعۂ افراد کی پروا نہیں کرتی۔
مگر رونا تو اس بات کا ہے کہ لوگ اتفاق اتفاق پکارتے ہیں اور عملی زندگی اس قسم کی اختیار نہیں کرتے جس سے اُن کے اندرونی رجحانات کا اظہار ہو۔ ہم کو قال کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا کے واسطے حال پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ مذہب دنیا میں صلح کرانے کے لیے آیا ہے نہ کہ جنگ کی غرض سے۔
میری رائے میں اس تحریک کی کامیابی سے مسلمانوں کو ہر طرح فائدہ ہے۔ ایک صاحب نے کسی اخبار میں یہ خط چھپوایا تھا کہ مسلمانوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ عام طور پر مسلمان زراعت پیشہ ہیں۔ اُن کا یہ ارشاد شاید پنجاب کی صورت میں صحیح ہو تاہم یہ کہنا کہ مسلمان زراعت پیشہ ہیں اِس امر کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں کو سودیشی تحریک کی کامیابی سے کچھ فائدہ نہیں ہے۔ اگر مصنوعات سستی ہوں (جو بالآخر اس تحریک کی کامیابی کا نتیجہ ہوگا) تو خریدنے والوں کو بھی فائدہ ہے اور بیچنے والوں کو بھی۔ مسلمان خواہ بیچنے والے ہوں، خواہ خریدنے والے ہر طرح فائدہ میں ہیں۔ ہاں اگر وہ بیچنے والے ہیں تو اُن کو زیادہ فائدہ ہے اور یہ کون کہتا ہے کہ وہ بائع نہ بنیں۔
(3) اگر صبر و استقلال سے کام کیا گیا تو اس تحریک میں ضرور کامیابی ہوگی۔ دور اندیشی تمام کامیابی کا راز ہے۔ ایک حد تک تو اس تحریک کے مطابق ملک میں عمل درآمد ہو رہا ہے۔ اس عمل کی توسیع کی ضرورت ہے جو اس صورت میں ممکن ہے کہ عمدہ اور ارزاں مصنوعات پیدا کر کے گراں اور ظاہری نمایش والی چیزوں کو ملک سے نکالو۔ (؟) مقدّس عہد لینا کہ ہم خارجی ممالک کی مصنوعات استعمال نہ کریں گے اور جوش میں آکر انگریزی کپڑے کے کوٹ آگ میں پھینک دینا ایک طفلانہ فعل ہے جو اقتصادی لحاظ سے غیر مفید اور سیاسی لحاظ سے مضر ہے۔ اگر اس تحریک سے ہندو اور مسلمانوں میں اتحادِ اغراض پیدا ہو جائے اور رفتہ رفتہ قوی ہوتا جائے تو سبحان اللہ اور کیا چاہیے۔ ہندوستان کے سوئے ہوئے نصیب بیدار ہوں اور میرے دیرینہ وطن کا نام جلی قلم سے فردِ اقوام میں لکھا جائے۔ والسّلام
(انوار اقبال)
اردو جریدہ نے یہ خطوط «کلیاتِ مکاتیبِ اقبال» (مرتبہ سید مظفر حسین برنی، اردو اکادمی، دہلی)، جلد اوّل (نومبر 1989ء)، صفحات 84، 119 تا 124 سے ڈیجیٹائز کیے ہیں۔

