’الشیطان یعدکم الفقر و یامرکم بالفحشاء واللہ یعدکم مغفرة منه و فضلا‘
(تہذیب الاخلاق بابت 15 شوال 1291ھ)
خدا تعالی فرماتا ہے کہ تم کو محتاج اور فقیر کر دینے کا تو شیطان وعدہ کرتا ہے اور لچ پنے کے کام کرنے کو حکم دیتا ہے، اور خدا اپنی بخشش کا اور نعمت دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ اس زمانے میں یہ ٹھیک مثل اُن لوگوں کی ہے جن کا پیشہ، یقولون ما لا یفعلون ہے، یعنی خود تو دنیا کے بندے ہیں اور کسی مرید و معتقد کی نذر تک نہیں چھوڑتے، مگر زبان سے دنیا کی بے ثباتی اور دنیا کا ہیچ ہونا کہتے ہیں۔ اپنی جیب میں دنیا بھرتے ہیں اور لوگوں کو اُس کے چھوڑنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ جو کام مسلمانوں کی بھلائی و بہتری اور ترقی کا سوچا جاتا ہے یا کیا جاتا ہے، یہ عقل کے دشمن، خدا کے دشمن، رسول کے دشمن، مسلمانوں کے دشمن، ایک نہایت مسکینی سے ٹھنڈے سانس بھر کر کہتے ہیں، ہاں دنیا چند روز ہے، دولت مند ہوئے تو کیا، غریب ہوئے تو کیا۔ محل میں بھی گزر جاتی ہے، درخت کے سائے میں بھی گزر جاتی ہے، موٹے کپڑے سے بھی بدن ڈھک جاتا ہے، مہین1 بھی پھٹ جاتا ہے، اچھا کھانے سے بھی پیٹ بھرتا ہے، جو کی روٹی سے بھی بھرتا ہے، ایسی بات کرو جو وہاں کام آئے، دنیا تو گزر ہی جاتی ہے، ہاں جتنی دنیا ہوگی اُتنا ہی حساب دینا پڑے گا، تقدیر پر شاکر رہو، انسان کو خدا بھوکا اُٹھاتا ہے پر بھوکا سلاتا نہیں۔ یہ لوگ حقیقت میں اُس آیت کے مصداق ہیں اور وہ ٹھیک ٹھیک وہی وعدہ کرتے ہیں جس کا اُس آیت میں ذکر ہے۔
مگر ہم تمام مسلمانوں کی دین و دنیا کی بھلائی چاہتے ہیں۔ یہ خواہش کرتے ہیں کہ احکامِ شریعتِ حقہ کے بجا لائیں، ممنوعات و محرمات سے بچیں، مباح کے مزے اُڑاویں، نیک طریقے اور اچھے پیشے اور مباح وسیلوں سے دنیا کمائیں اور پھر جس طرح خدا کی مرضی ہے نیک کاموں میں اُس کو صرف کریں کہ یہی مرضی خدا کی اور یہی حکم شریعتِ مصطفیٰ کا ہے۔
مگر نہایت افسوس ہے کہ مسلمانوں کا حال روز بروز بدتر ہوتا جاتا ہے، مفلسی اُن کو گھیرتی جاتی ہے، جرائم میں وہ مبتلا ہوتے ہیں یا جیل خانے اُن سے بھرے جاتے ہیں، بیدیں اُن کے چوتڑوں پر لگتی ہیں، ڈگریوں میں وہ پکڑے جاتے ہیں، جائدادیں اُن کی فروخت ہوتی جاتی ہیں، مگر وہ بے رحم اُن کے حال پر رحم نہیں کرتے اور اُن کو بہکانے سے باز نہیں آتے۔ وہ اپنے اس قول پر ’’فبعزتک لاغوینہم الی یوم الدین‘‘2 جمے ہوئے اور ثابت قدم ہیں۔ حال کے ایک انگریزی اخبار انڈین پبلک آپینین لاہور میں مسلمانوں کا حال چھپا ہے، اُس کا ماحصل اس مقام پر لکھتے ہیں، شاید مسلمان متنبہ ہوں۔
اخبار مذکور نے مسلمانوں کے حالات پر غور کر کر یہ اصول قائم کیا ہے کہ ’’اس زمانے میں مسلمانوں کو ضرور مفلس ہونا چاہیے، مسلمان کسانوں کا بتدریج مفلس ہونا، جس کو ہم اس ضلع میں زیادتیٔ مقدمات کا ایک سبب قرار دے چکے ہیں، قابلِ لحاظ و غور کے ہے۔ جو رپورٹیں اور حالات کہ اخبار میں چھپے ہیں، اُن سب سے پایا جاتا ہے کہ عام ہندوستان میں یہ افلاس ترقی پر ہے۔ اس ضلع میں 1873ء میں جتنی نالشیں نقدی کی مہاجنان و دکانداران نے کیں اُن میں سے نصف نالشیں مسلمان کسانوں پر ہوئیں اور بمقابلہ کل مقدماتِ قسمِ مذکورہ کے بحساب اوسط فی صدی چونتیس مقدمے ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ منجملہ آٹھ شخصوں کے ایک شخص بحساب اوسط عدالت کی لڑائی میں مشغول رہتا ہے، تو تعداد اُن کسانوں کی خیال کرنی چاہیے کہ کتنے لوگ روپے پیسے کے معاملات میں مبتلا ہو کر عدالت کی لڑائی میں حیران و پریشان رہتے ہیں۔ رجسٹرار جنرل پنجاب کی اخیر رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ تیرہ لاکھ اسی ہزار پونڈ، یعنی ایک کروڑ اڑتیس لاکھ روپے کی جائدادِ غیر منقولہ مسلمانوں کی 1873ء میں بیع و رہن ہوئی۔ مسلمانوں کا مذہب صرف لڑائی اور لوٹ مار کے مناسب ہے۔ تقدیر پر اندھا دھندی سے اعتبار و تکیہ کرنا جیسا کہ یہ مذہب سکھاتا ہے اور اُس کے معتقدوں کو خوش خوش ایسے موقع کی طرف لے جاتا ہے جس میں یقینی بربادی کا سامان ہوتا ہے اور کوئی مذہب نہیں سکھلاتا، مگر وہی خیال کہ تقدیر کبھی نہیں ٹلتی تمام جرأت اور ہمت کو کھو دیتا ہے اور ترقی و بہبود کو پژمردہ کر ڈالتا ہے۔‘‘
تقدیر کے مسئلے کی نسبت جو کچھ صاحبِ اخبار نے لکھا ہے، اس میں شک نہیں کہ موجودہ مسلمانوں کی حالت ایسی ہی ہے اور خود غرض لالچی مولویوں نے در حقیقت ایسا ہی اُن کو سکھلایا ہے، الا مذہبِ اسلام کا یہ مسئلہ نہیں ہے۔ خود قرآنِ مجید میں خدا فرماتا ہے ’’لیس للانسان الا ما سعیٰ۔‘‘3
ایک دوسرے اخبار مدراس ٹائمز نے مسلمانوں کی موجودہ حالت کی نسبت نہایت عمدہ مضمون لکھا ہے، اُس کو بھی ہم لکھتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ مسلمان بوربوں کے بادشاہوں کے مشابہ ہیں، جو نہ گزشتہ بات کو بھولتے ہیں اور نہ کسی بات کو جو آئندہ اُن کے لیے مفید ہو سیکھتے ہیں۔ یہ لوگ ہر بات میں ساکن رہتے ہیں۔ حرکت کرنے کی کبھی اُن کو خواہش نہیں ہوتی۔ یہ لوگ دوڑ میں پیچھے پڑ گئے اور گو ممکن ہے کہ بڑی کوشش سے اوروں کے برابر جائیں، مگر وہ کوشش کرنے کی خواہش اُن کو معلوم نہیں ہوتی اور نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ بلحاظ قومیت اور مرتبہ و اختیار کے مسلمان بالکل گم ہو جائیں گے۔ اب یہ لوگ گویا اپنے امتحان پر ہیں اور اگر چُوکے تو ممکن نہیں کہ دوسرا موقع اُن کو مل سکے۔ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ان لوگوں کی حالت عجیب ہے۔ یہ لوگ سابق میں اس ملک کے فتح کرنے والے تھے اور اب اُن کو مفتوحوں میں اپنا شمار ہونے کا بالطبع رنج ہوتا ہے۔ مذہبی تعصب اور غرور اور تعلیم کا جھوٹا خیال مسلمانوں کو اپنی ترقی کے اُس میدان میں پیر رکھنے سے باز رکھتا ہے جس میدان کو اُنہیں طے کرنا ضرور ہے، پیشتر اس کے کہ بمقابلہ اپنے ہوشیار ہمسایہ ہندوؤں کے نوکری یا اپنی روٹی پیدا کرنے کی امید کریں۔ جو قوم کہ تھوڑا عرصہ گزرا اُن کے تابع تھی، اُس کے ساتھ مقابلہ کرنے میں ان کے فخر کو سخت ضرر پہنچتا ہو، مگر اُن کو چاہیے کہ اپنی حالت کو قبول کرنے کے لیے کافی ہمت اور اُس مقابلے میں سخت کوشش کرنے کے لیے کافی جرأت اور اپنی ذات کی عزت کا خیال رکھنے کے لیے پوری ہمت کریں۔ اگر تجربے کی نصیحتوں کو صحیح صحیح نہیں پڑھ سکتے، یا نہ پڑھیں گے تو ضرور تکلیف میں رہیں گے۔ منجملہ اُن بڑے بڑے اسباب کے جن سے مسلمانوں کی خرابی ہوئی ہے، روزینہ داری اور لاخراج داری4 بھی، جس کے وہ بہت گرویدہ ہیں، ایک بڑا سبب ہے۔ یہ طریقہ کاہلی پیدا کرتا ہے اور کاہلی سے افلاس ہوتا ہے، اور افلاس موجب ہے ناخوشی کا۔‘‘
بلاشبہ ملکی ہونا اور روزینہ دار ہونا انسان کے لیے بہت بڑی آفت ہے۔ اس زمانے میں ملکی معافیدار اور روزینہ دار سب سے زیادہ خراب و بری حالت میں ہیں، مگر میری دانست میں ایک اور فرقہ بھی ایسا ہی ہے، یعنی وہ لوگ جو پیر بن کر شہر بشہر اپنے مریدوں سے ٹیکس وصول کرتے پھرتے ہیں یا منبر پر بیٹھ کر جھوٹے سچے قصے سنا کر اور واعظ بن کر لوگوں سے روپیہ وصول کرتے پھرتے ہیں، اور بہت سے وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں کسی پیر فقیر کے خاندان کا بیان کر کر، کسی درگاہ کا خادم کہہ کر، یا مکہ معظمہ کا مطوف اور مدینہ منورہ کا زیارت کرنے والا بتا کر روپیہ مانگتے پھرتے ہیں۔ جو مسلمان کہ ان لوگوں کے ساتھ سلوک کرتے ہیں، درحقیقت اپنی قوم کے، یعنی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ نامہذب خیرات نہایت بری چیز ہے، اس سے قوم میں مفلسی اور ناشائستگی، بے حیائی اور بے غیرتی پھیلتی ہے۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ پنجم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 162 تا 166 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔
