اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

نا اہل کی رائے

(اخبار سائنٹیفک سوسائٹی علی گڑھ 17 - دسمبر 1875ء)

ہمیشہ ایک ایسی رائے جو اس کے اہل سے ظاہر نہ ہو بڑی بڑی قباحتوں کا باعث ہوتی ہے اور ان قباحتوں کا اثر صرف یہی نہیں ہوتا کہ ایسی رائے کا ظاہر کرنے والا احمق سمجھا جائے اور وہ رائے نا قابلِ التفات ٹھہرے، بلکہ کبھی اُس کا اثر ایک عالم میں نقصان و فساد پھیلا دیتا ہے۔ پس اس لحاظ سے ہمارے نزدیک یہ بڑے نقصان کی بات ہے کہ ہم لوگ جس باب میں رائے دینے کی قابلیت نہ رکھتے ہوں اس باب میں اپنی عقل کے اندھے ٹٹو دوڑایا کریں۔

اگر ایک عالی مرتبہ انجینیر فنِ تعمیرات میں اپنی عمدہ رائے ظاہر کرے، وہ بالاتفاق سب کے نزدیک صحیح اور مفید ثابت ہوگی اور اگر وہ انجینیر بلا واقفیت کاشتکاروں کے تخم ریزی کے طریقے میں دخل دینا چاہے تو علاوہ اُس کی حماقت کے وہ تمام فائدے جو اس زراعت سے حاصل ہو سکتے ہیں خلل پذیر ہو جائیں گے۔ اگر ایک عالم فنِ جہاز رانی کی بابت کوئی رائے ظاہر کرے تو وہ حق بجانب ہے اور اگر وہ خشکی کی ریل میں بادبان لگانے کی رائے ظاہر کرنا چاہے تو نہایت بےوقوف ہوگا۔ غرض کہ جو لوگ جس بات کے اہل ہیں اگر وہ اُسی باب میں اپنی رائے ظاہر کریں تو اندیشہ نہیں ہوتا اور اگر وہ ایسے معاملے میں رائے ظاہر کریں جس میں اُن کو واقفیت نہیں ہے تو ضرور وہ ایک بڑے مفسدے کا باعث ہوں گے۔

اگر یورپین ہماری دیسی زبان کے حسن و قبح کا پرکھنا چاہے اور اس باب میں اُس کی رائے قابلِ اعتماد ٹھہرے تو اُس کا نقصان کچھ اس سے کم نہیں ہے کہ ایک ہندوستان کا باشندہ انگریزی زبان کا ممیز قرار دیا جائے۔ اسی طرح اور جملہ امور کا حال ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی نسبت کسی شخص کی رائے تاوقتیکہ وہ اُس کی قابلیت نہ رکھتا ہو بڑے بڑے فسادوں کا باعث ہوتی ہے اور اُس کا ثمرہ بعض اوقات نہایت نازک اور خطرناک ہوتا ہے اور جو لوگ اس بات کی پروا نہیں کرتے، وہ دو حال سے خالی نہیں ہیں، یا وہ عقل سے بہرہ نہیں رکھتے یا وہ فساد آمیز خیال ظاہر کرنے میں کوئی فخر سمجھتے ہیں۔

جس مصیبت کی نسبت ہم نے اپنی یہ رائے لکھی ہے، اُس کا ظہور ہماری دانست میں اُس وقت سے بہت زیادہ ہوا ہے جب سے کہ اخبار کے پرچے اُن لوگوں کے ہاتھ میں آ گئے ہیں جو اس کی قابلیت نہیں رکھتے اور جو اس نازک کام کے نشیب و فراز سے آگاہ نہیں ہیں۔ وہ اس امر کو بڑا فخر جانتے ہیں کہ ہم کوئی نہ کوئی رائے لکھیں اور صاحبِ رائے مشہور ہو جائیں۔ ذرا انصاف کے لائق بات ہے کہ جو شخص خود اپنے ذاتی معاملات میں علانیہ غلط بیانیاں کرتے ہوں، کیا وہ اس لائق ہو سکتے ہیں کہ عامۂ خلائق کی نسبت اُن کا قول قولِ فیصل خیال کیا جائے۔ اگر ایسا ہو تو شائد ایک عالم کا انقلاب ہو جائے۔

ہم کو نہایت ہنسی آتی ہے اس بات کے خیال کرنے سے کہ ایک اخبار نویس حضور شاہزادۂ ویلز‌Wales بہادر کے حیدرآباد نہ جانے کی یہ وجہ بیان کرتا ہے کہ حیدرآباد میں چونکہ عرب بہت ہیں، اس سبب سے گورنمنٹ کو اندیشہ ہوا کہ مبادا شاہزادہ صاحب کو صدمہ پہنچے۔ اسی طرح وہ نظامِ حیدرآباد کے بمبئی میں بطور استقبال نہ آنے کی یہ وجہ بیان کرتا ہے کہ جب شاہزادہ صاحب نے اپنا قصد ملتوی کیا تو نظامِ حیدرآباد نے بھی اپنا قصد ملتوی کیا۔ اگر اس رائے کو کسی عقل مند کی رائے سمجھ کر قابل سمجھا جائےتو گورنمنٹ اور رعایا دونوں کے حق میں وہ ایک نہایت خطرناک چیز ہے۔ گورنمنٹ کے حق میں وہ اس لحاظ سے خطرناک ہے کہ اگر شاہزادہ صاحب کے حیدرآباد نہ جانے کی یہ وجہ مان لی جائے تو مفسدوں کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ گورنمنٹِ انگریزی ہندوستان میں اپنی حکومت نہایت خوف و اندیشے سے کر رہی ہے اور وہ اپنے رعب و دبدبے سے اپنی رعایا پر حکمران نہیں ہے، بلکہ فکر و اندیشے سے حکمران ہے اور جو اقبال ایک گورنمنٹ کا اپنی حکومت میں ہونا چاہیے، گورنمنٹِ انگریزی کا وہ اقبال نہیں ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس کو ہر عاقل گورنمنٹِ انگریزی کے حق میں پسندیدہ نہیں سمجھتا۔ کیا ایک مرتبہ کسی شریر آدمی کی شرارت سے ہندوستان کے گورنر بہادر کا قتل ہو جانا ہماری گورنمنٹِ انگریزی کے اُس شاہی اقبال میں جس کا شہرہ آج دنیا کے اس کنارے سے لے کر اُس کنارے تک ہو رہا ہے، کچھ خلل انداز ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اور اگر نہیں ہو سکتا تو کیا یہ رائے کچھ پسندیدہ ہے کہ شاہزادہ بہادر عربوں کے خوف سے حیدرآباد کو نہیں گئے۔ ہماری رائے میں ایسا خیال کرنا گورنمنٹِ انگریزی کی ہنسی کرنا اور اُس کے اقبال کو کالعدم خیال کر لینا ہے۔ گورنمنٹ کے رعب و دبدبے نے آج کل وہ عروج پایا ہے کہ اگر اس کا قصد کسی والیٔ ملک کی طرف ہو تو قبلِ ظہور اُس کے قصد کے اُس کا رعب دوسروں کے مخالف ارادے کو فوراً نیست و نابود کر دیتا ہے۔ خود حیدرآباد کے متعلق ایک خبر میں ہی ہم نے پڑھا ہے کہ کچھ مفسدوں نے ہنگامہ کیا تھا۔ جب صاحب ریذیڈنٹ بہادر حیدرآباد نے انگریزی فوج کے بلانے کا قصد کیا تو مفسد انگریزی فوج کے نام سے بھاگ گئے۔ پس ایسی صورتوں میں یہ خیال کرنا کہ گورنمنٹِ انگریزی حیدرآباد کے عربوں سے خائف ہو گئی، کس قدر نامناسب ہے۔

اسی طرح ایسی بے محل رائے رعایائے انگریزی کے حق میں نہایت مضرت ناک ہے۔ اگر اُس خیال کو صحیح تسلیم کر لیا جائے کہ نظام صاحب اسی وجہ سے تشریف نہیں لائے جو بیان کی گئی ہے تو نظام صاحب پر ایک سخت الزام ثابت ہوتا ہے اور اس الزام کا ثمرہ کسی طرح اُن کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ کیا یہ بات عقل میں آ سکتی ہے کہ نظام صاحب اپنی ملکۂ معظمہ کے فرزندِ ارجمند اور ہمارے بادشاہ کے ولی عہد کے استقبال میں اس وجہ سے تامل کریں کہ شاہزادہ صاحب نے اُن کی ریاست میں کسی عذر سے تشریف لے جانے کا وعدہ نہیں فرمایا اور اگر کسی طرح سے عقل اس خیال کو تجویز کرے تو اسی کے ساتھ اُس کو اور بہت سی تجویزیں نظام صاحب کی نسبت سوچنی پڑیں، مگر چونکہ وہ کسی طرح عقل کے موافق نہیں ہے، اس وجہ سے کوئی عاقل تجویز نہیں کر سکتا۔

ان دونوں امر کے لحاظ سے ہمارا یہ خیال صحیح ثابت ہو گیا کہ جو لوگ جس رائے کے لائق نہیں ہیں، اگر وہ ایسی رائے ظاہر کیا کریں تو ضرور وہ نقصان آمیز ہو سکتی ہے اور اس کا اثر رعایا اور گورنمنٹ دونوں کے حق میں سخت مضرت ناک ہوتا ہے۔ جو لوگ ہندوستان میں بیٹھے ہوئے روس‌Russia کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کیا کرتے ہیں، اُن کے خیالات بھی اسی کے قریب قریب ہیں اور ان کے سبب سے کبھی کبھی ہندوستان کی ناواقف اور ناتجربہ کار رعایا کے اطمینان میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ کیا یورپ‌Europe کے لارڈوں کے اُن خیالات کا جو وہ انگلستان‌England کی پارلیمنٹ میں زور دار تقریروں کے ساتھ ظاہر کیا کرتے ہیں، یہی مطلب ہے جو ہمارے ہندوستان کے اخبار نویس اپنے روزانہ اخباروں میں بیان کیا کرتے ہیں۔ کیا وہ اُس کو کسی چکر کا پہیا خیال کرتے ہیں جو ان کے غم میں ڈھلکتا چلا آتا ہے۔ کیا وہ اس پہیے کی سڑک کا ڈھلاؤ اسی ہندوستان کی طرف خیال کرتے ہیں جس پر وہ بلا اختیار ڈھلکتا چلا آتا ہے۔ کیا وہ روس کو ایسا نڈر اور بے خوف سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری گورنمنٹ کے اقبال سے بے خبر ہو کر آنکھیں بند کیے ہوئے چلا آتا ہے اور ہماری گورنمنٹ کی بیداری کو وہ اسی قدر سمجھتے ہیں جس قدر کہ ان کو اپنی ایسی رایوں کے ظاہر کرنے میں بیداری ہے۔ کیا جب وہ یہ فقرہ لکھتے ہیں کہ روس بڑھتا چلا آتا ہے اور گورنمنٹ غافل ہے، اس وقت گورنمنٹِ انگریزی کو ہندوستان کے سلاطینِ سابقہ کے مثل خیال کر لیتے ہیں جو ایسی رائے ظاہر کرتے ہیں۔ گو روس اس وقت بہت زور آور ہو اور گو اس کے ارادے نہایت ہی عالی ہوں، اور گو وہ اس وقت سلطنتِ ٹرکی‌Turkey کو دھمکانے سے اپنا رعب بٹھلانا چاہتا ہو، مگر اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہے کہ گورنمنٹِ انگریزی کا رعب اُس کے دل میں ایسا کام کر رہا ہے جیسا کہ انسان کے بدن میں رعشہ کام کرتا ہو اور اس طرف قدم اُٹھانے کو وہ اسی قدر دشوار سمجھتا ہے جس قدر ہندوستان کے اخبار اس کو آسان سمجھتے ہیں۔

با ایں لحاظ ضرور ہے کہ جو لوگ رائے دینے کا شوق رکھتے ہیں، وہ اس باب میں دور اندیشی کو کام فرمایا کریں۔

ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم صرف اسی قسم کے خاص معاملات میں یہ خیال کرتے ہیں، بلکہ ہمارا منشاء ہے کہ جو شخص جس معاملے میں قابلیت نہ رکھتا ہو، وہ اُس معاملے میں رائے دینے سے کچھ کم خرابی نہیں ڈالتا، چنانچہ بعض اوقات انتظامی معاملات میں کسی قسم کی شدت ناترس کے دیکھنے سے، ظلم پسند نرمی پر اور رحم پسند سختی پر اعتراض کرنا پسند کرتے ہیں، حالانکہ کبھی وہ انتظام خود اُس نرمی یا شدت کا مقتضی ہوتا ہے۔ پس ایسی حالت میں انتظامی امور کے نا واقفوں کی جانب سے اس قسم کی آراء ہنسی کا باعث ہوتی ہیں اور منتظم اُن کو احمق کہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جو شخص کسی چیز سے نا واقف ہوتا ہے، ہمیشہ وہ ایسی غلطی کرتا ہے۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ پنجم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 238 تا 243 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔