|
نداشت پروای عرض جوہر، صفای آیینۂ فرنگش |
تبسم امسال کرد پیدا رگی ز یاقوت شعلہ رنگش |
|
ترجمہ اس کے فرنگی آئینے کی صفائی کو اپنا جوہر دکھانے کی پرواہ نہ تھی۔ اس سال اس کے تبسم نے شعلہ رنگ یاقوت سے ایک رگ پیدا کر دی۔ |
|
|
مفہوم محبوب کا حسن فرنگی آئینے کی طرح صاف اور بے نیاز ہے، اسے اپنی نمائش کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کے تبسم نے اس کے حسن میں ایک نئی دلکشی (یاقوت کی رگ) پیدا کر دی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ محبوب کا حسن ہر لمحہ ایک نئی شان سے ظاہر ہوتا ہے۔ |
|
|
شکست از آن چشم فتنہ مایل غبار امکان بہ بال بسمل |
مباش از افسون سرمہ غافل ہنوز دستی است زیر سنگش |
|
ترجمہ اس فتنہ انگیز آنکھ نے کائنات کے غبار کو ایک زخمی پرندے کے پروں کی طرح توڑ دیا ہے۔ اس کے سرمے کے جادو سے غافل مت ہو، ابھی بھی پتھر کے نیچے ایک ہاتھ (کارفرمائی) باقی ہے۔ |
|
|
مفہوم محبوب کی فتنہ انگیز نگاہ کائنات کو تہ و بالا کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ شاعر خبردار کرتا ہے کہ اس کی آنکھوں کے سرمے کے جادو کو معمولی نہ سمجھا جائے، کیونکہ اس کی ظاہری سادگی کے پیچھے ابھی بہت سی تباہ کاریاں پوشیدہ ہیں۔ 'پتھر کے نیچے ہاتھ' ایک محاورہ ہے جو پوشیدہ طاقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ |
|
|
بہ مرغزاری کہ نرگس او کند نگاہی ز کنج ابرو |
ز داغ خود ہمچو چشم آہو بہ ناز چشمک زند پلنگش |
|
ترجمہ اس چمن میں جہاں اس کی نرگس (آنکھ) ابرو کے گوشے سے ایک نگاہ ڈالتی ہے، وہاں چیتا بھی ہرن کی آنکھ کی طرح اپنے داغوں سے ناز کے ساتھ اشارے کرتا ہے۔ |
|
|
مفہوم محبوب کے حسن کا اثر کائنات کی ہر شے پر ہے۔ اس کے حسن کے باغ میں، جہاں اس کی نرگس جیسی آنکھ ایک اشارہ کرتی ہے، وہاں خونخوار چیتا بھی اپنے جسم کے داغوں کو ہرن کی خوبصورت آنکھیں بنا کر ناز و انداز دکھانے لگتا ہے۔ یہ محبوب کے حسن کی ہمہ گیریت اور ہر شے کو مسخر کرنے کی طاقت کا بیان ہے۔ |
|
|
چسان ز خلوت برون خرامد نقاب نگشودہ نازنینی |
کہ ششجہت ہمچو موج گوہر ہجوم آغوش کردہ تنگش |
|
ترجمہ وہ نازنین جس نے ابھی نقاب بھی نہیں اٹھایا، اپنی خلوت سے باہر کیسے آئے، کہ چھ کی چھ سمتوں نے موتیوں کی لہر کی طرح اس کی آغوش کے ہجوم کو تنگ کر رکھا ہے۔ |
|
|
مفہوم محبوب اس قدر حسین اور مطلوب ہے کہ ابھی اس نے نقاب بھی نہیں اٹھایا، لیکن کائنات کی تمام سمتیں (شش جہات) اسے اپنی آغوش میں لینے کے لیے بے تاب ہیں۔ یہ ہجوم اس کے لیے جلوہ گر ہونے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ شعر میں محبوب کے حسن کی شدت اور اس کی عالمگیر کشش کا بیان ہے۔ |
|
|
قبول نازش نہ ای جنون کن سر از گداز جگر برون کن |
دلی بہ ذوق نیاز خونین حنا چہ گل می دہد بہ چنگش |
|
ترجمہ اے جنون! اس کے ناز کو قبول نہ کر اور اپنے پگھلتے ہوئے جگر سے سر باہر نکال (ہمت کر)۔ جو دل نیاز کے شوق میں خون ہو چکا ہو، اس کے ہاتھ میں حنا کیا رنگ لائے گی۔ |
|
|
مفہوم شاعر اپنے جنونِ عشق کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ محبوب کے ناز اٹھانے سے کچھ حاصل نہیں۔ عاشق کا دل تو پہلے ہی محبت میں خون ہو چکا ہے، اب اس پر مزید کوئی رنگ نہیں چڑھ سکتا، جیسے خون آلود ہاتھ پر مہندی کا رنگ ظاہر نہیں ہوتا۔ لہٰذا، اس بے نیازی کے عالم سے نکل کر کوئی اور راہ اختیار کرنی چاہیے۔ |
|
|
اگر دو عالم غلو نماید بہ شوق بی خواست بر نیاید |
چہ رنگہا پر نمی گشاید بہ سیر باغی کہ نیست رنگش |
|
ترجمہ اگر دونوں جہان بھی مبالغہ کریں تو اس کے بے نیاز شوق تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس باغ کی سیر میں کیا کیا رنگ نہیں کھلتے جس کا کوئی ظاہری رنگ ہی نہیں۔ |
|
|
مفہوم یہ ایک عارفانہ شعر ہے جس میں ذاتِ باری تعالیٰ کا ذکر ہے۔ اس کا شوق کسی ظاہری سبب کا محتاج نہیں، اور کائنات کی تمام رعنائیاں مل کر بھی اس کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ وہ ایک ایسے بے رنگ باغ کی مانند ہے جس کی سیر میں لاتعداد رنگوں کے اسرار منکشف ہوتے ہیں، یعنی اس کی ذات ظاہری رنگوں سے ماورا ہے لیکن تمام رنگ اسی سے ہیں۔ |
|
|
ز سیر گلزار چشم بستن کسی نشد محرم تسلی |
کجاست آیینہ تا نمایم چہ صبح دارد بہار رنگش |
|
ترجمہ گلزار کی سیر سے آنکھیں بند کر لینے سے کسی کو تسلی کا راز نہیں ملا۔ آئینہ کہاں ہے تاکہ میں دکھاؤں کہ اس کے رنگ کی بہار کیسی صبح رکھتی ہے۔ |
|
|
مفہوم دنیاوی خوبصورتیوں سے منہ موڑ لینے سے حقیقی اطمینان یا معرفت حاصل نہیں ہوتی۔ شاعر کہتا ہے کہ کاش کوئی صاحبِ بصیرت (آئینہ) ہو تو میں اسے دکھاؤں کہ محبوبِ حقیقی کے حسن کا ایک جلوہ اپنے اندر کیسی روشن اور بے مثال صبح رکھتا ہے۔ یعنی حقیقت سے فرار کے بجائے اس کے مشاہدے میں ہی اصل سکون ہے۔ |
|
|
دربغ فطرت نکرد کاری نبرد ازین انجمن شماری |
تاملم داشت شیشہ داری زدم ز وہم پری بہ سنگش |
|
ترجمہ افسوس کہ فطرت نے کوئی کام نہ کیا اور اس محفل سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ میرے تامل نے شیشے کی حفاظت کر رکھی تھی، میں نے وہم کے ایک پر سے ہی اسے پتھر پر دے مارا۔ |
|
|
مفہوم شاعر اپنی نارسائی اور وہم پرستی پر افسوس کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کی فطرت اس دنیا کی محفل سے کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ کر سکی۔ اس کے تفکر اور احتیاط نے اس کے دل (شیشہ) کو محفوظ رکھا تھا، لیکن ایک معمولی سے وہم نے اسے پتھر پر مار کر توڑ دیا، یعنی شکوک و شبہات نے اس کی ساری ریاضت ضائع کر دی۔ |
|
|
ز ساز عشق غرور ساغر ہزار بیداد می کشد سر |
تو از تمیز فضول بگذر شکست دل داند و ترنگش |
|
ترجمہ عشق کے ساز سے ساغر کا غرور ہزاروں ستم ڈھاتا ہے۔ تو فضول کی تمیز کو چھوڑ دے، دل کا ٹوٹنا اور اس کی جھنکار ہی اس کا راز جانتی ہے۔ |
|
|
مفہوم عشق کے معاملے میں عقل و منطق (ساغر کا غرور) رکاوٹ بن کر ظلم ڈھاتی ہے۔ شاعر نصیحت کرتا ہے کہ عقل کی بنیاد پر اچھے اور برے کی فضول تمیز کو ترک کر دو۔ عشق کا اصل راز تو دل کے ٹوٹنے میں پوشیدہ ہے، اور اس ٹوٹے ہوئے دل سے جو آواز نکلتی ہے، وہی اس کی حقیقت سے واقف ہوتی ہے۔ |
|
|
بہ سعی جولان ہوش بیدل نگشت پیدا سراغ قابل |
مگر زپرواز رنگ بسمل رسی بہ فہم پر خدنگش |
|
ترجمہ اے بیدل! ہوش و خرد کی دوڑ دھوپ سے کوئی قابلِ ذکر سراغ نہیں ملا۔ مگر شاید زخمی پرندے کے رنگ کی پرواز سے تو اس کے تیر کے پر کو سمجھ سکے۔ |
|
|
مفہوم بیدل کہتے ہیں کہ عقل اور ہوش کی کوششوں سے محبوبِ حقیقی کا سراغ ملنا ناممکن ہے۔ اس کی حقیقت کو سمجھنے کا راستہ دوسرا ہے۔ جس طرح ایک زخمی پرندہ (بسمل) تڑپتے ہوئے اپنے خون کا جو رنگ بکھیرتا ہے، اس کی پرواز سے ہی اس تیر کی ماہیت کا اندازہ ہوتا ہے، اسی طرح عشق میں فنا ہو کر ہی ذاتِ حقیقی کا کچھ ادراک ممکن ہے۔ |
|
