اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نداشت دیدہ من بی تو تاب خندۂ صبح

نداشت دیدۂ من بی تو تابِ خندۂ صبح

ز اشک داد چو شبنم جوابِ خندۂ صبح

ترجمہ تیرے بغیر میری آنکھ صبح کی ہنسی کی تاب نہ رکھتی تھی؛ اس نے شبنم کی طرح آنسوؤں سے صبح کی ہنسی کا جواب دیا۔

تبسمِ گلِ زخمِ جگر نمک دارد

قیامتی است نہان در نقابِ خندۂ صبح

ترجمہ جگر کے زخم کے پھول کا تبسم نمک رکھتا ہے؛ صبح کی ہنسی کے نقاب میں ایک قیامت چھپی ہے۔

نوشتہ اند دبیرانِ دفترِ نیرنگ

بہ روزنامچۂ گل حسابِ خندۂ صبح

ترجمہ نیرنگ کے دفتر کے منشیوں نے صبح کی ہنسی کا حساب پھول کے روزنامچے میں لکھ رکھا ہے۔

درین قلمروِ وحشت کجاست فرصتِ عیش

مگر کشی نفسی در رکابِ خندۂ صبح

ترجمہ وحشت کی اس قلمرو میں عیش کی فرصت کہاں؟ شاید تو صبح کی ہنسی کی رکاب میں ایک سانس لے سکے۔

نشاطِ خستہ دلان بین و سیرِ ماتم کن

کہ ہیچ گریہ نیرزد بہ آبِ خندۂ صبح

ترجمہ خستہ دلوں کی خوشی دیکھ اور ماتم کی سیر کر، کہ کوئی رونا صبح کی ہنسی کی آب کے برابر نہیں۔

چہ جلوہ ام کہ ز فیضِ شکستہ رنگیٔ یأس

کشیدہ اند بہ رویم نقابِ خندۂ صبح

ترجمہ میں کیا جلوہ ہوں کہ مایوسی کی شکستہ رنگی کے فیض سے میرے چہرے پر صبح کی ہنسی کا نقاب ڈال دیا گیا ہے۔

بہ حالِ زخمِ دلم کس نسوخت غیر از داغ

جز آفتاب کہ باشد کبابِ خندۂ صبح

ترجمہ میرے دل کے زخم کے حال پر داغ کے سوا کوئی نہ جلا، یا پھر سورج جو صبح کی ہنسی کا کباب ہے۔

بہ غیرِ شبنمِ اشک از بہارِ عمر نماند

بجاست نقطۂ چند از کتابِ خندۂ صبح

ترجمہ عمر کی بہار سے آنسو کی شبنم کے سوا کچھ نہ بچا؛ صبح کی ہنسی کی کتاب سے بس چند نقطے باقی ہیں۔

بہ عیشِ نیم نفس گر کشی مباش ایمن

کہ می کشند ز شبنم گلابِ خندۂ صبح

ترجمہ اگر تو آدھی سانس کا عیش پائے تو بے خوف نہ رہ، کہ شبنم سے صبح کی ہنسی کا گلاب کشید کرتے ہیں۔

گمان مبر من و فرصت پرستیٔ آمال

کہ شستہ ام دو جہان را بہ آبِ خندۂ صبح

ترجمہ یہ گمان نہ کر کہ میں آرزوؤں کی فرصت پرستی کرتا ہوں، کہ میں نے دونوں جہان صبح کی ہنسی کے پانی سے دھو ڈالے ہیں۔

درین چمن کہ امیدِ نشاط نومیدی ست

ز رنگ باختہ دارم سرابِ خندۂ صبح

ترجمہ اس چمن میں جہاں خوشی کی امید ہی مایوسی ہے، میں اڑے ہوئے رنگ سے صبح کی ہنسی کا سراب رکھتا ہوں۔

غبارِ رفتہ بہ بادم نفس شمارِ بقاست

بہ من کنید عزیزان خطابِ خندۂ صبح

ترجمہ میں ہوا میں اڑا ہوا غبار ہوں، میری سانس بقا کی گنتی ہے؛ عزیزو! مجھے صبح کی ہنسی کہہ کر پکارو۔

رسید نشئۂ پیری چہ خفتہ ای بیدل

بہ گریہ زن قدحی از شرابِ خندۂ صبح

ترجمہ بیدل! بڑھاپے کا نشہ آ پہنچا، کیوں سویا پڑا ہے؟ صبح کی ہنسی کی شراب کا ایک پیالہ گریہ کے ساتھ پی لے۔