نداشت دیدۂ من بی تو تابِ خندۂ صبح | ز اشک داد چو شبنم جوابِ خندۂ صبح |
ترجمہ تیرے بغیر میری آنکھ صبح کی ہنسی کی تاب نہ رکھتی تھی؛ اس نے شبنم کی طرح آنسوؤں سے صبح کی ہنسی کا جواب دیا۔ | |
تبسمِ گلِ زخمِ جگر نمک دارد | قیامتی است نہان در نقابِ خندۂ صبح |
ترجمہ جگر کے زخم کے پھول کا تبسم نمک رکھتا ہے؛ صبح کی ہنسی کے نقاب میں ایک قیامت چھپی ہے۔ | |
نوشتہ اند دبیرانِ دفترِ نیرنگ | بہ روزنامچۂ گل حسابِ خندۂ صبح |
ترجمہ نیرنگ کے دفتر کے منشیوں نے صبح کی ہنسی کا حساب پھول کے روزنامچے میں لکھ رکھا ہے۔ | |
درین قلمروِ وحشت کجاست فرصتِ عیش | مگر کشی نفسی در رکابِ خندۂ صبح |
ترجمہ وحشت کی اس قلمرو میں عیش کی فرصت کہاں؟ شاید تو صبح کی ہنسی کی رکاب میں ایک سانس لے سکے۔ | |
نشاطِ خستہ دلان بین و سیرِ ماتم کن | کہ ہیچ گریہ نیرزد بہ آبِ خندۂ صبح |
ترجمہ خستہ دلوں کی خوشی دیکھ اور ماتم کی سیر کر، کہ کوئی رونا صبح کی ہنسی کی آب کے برابر نہیں۔ | |
چہ جلوہ ام کہ ز فیضِ شکستہ رنگیٔ یأس | کشیدہ اند بہ رویم نقابِ خندۂ صبح |
ترجمہ میں کیا جلوہ ہوں کہ مایوسی کی شکستہ رنگی کے فیض سے میرے چہرے پر صبح کی ہنسی کا نقاب ڈال دیا گیا ہے۔ | |
بہ حالِ زخمِ دلم کس نسوخت غیر از داغ | جز آفتاب کہ باشد کبابِ خندۂ صبح |
ترجمہ میرے دل کے زخم کے حال پر داغ کے سوا کوئی نہ جلا، یا پھر سورج جو صبح کی ہنسی کا کباب ہے۔ | |
بہ غیرِ شبنمِ اشک از بہارِ عمر نماند | بجاست نقطۂ چند از کتابِ خندۂ صبح |
ترجمہ عمر کی بہار سے آنسو کی شبنم کے سوا کچھ نہ بچا؛ صبح کی ہنسی کی کتاب سے بس چند نقطے باقی ہیں۔ | |
بہ عیشِ نیم نفس گر کشی مباش ایمن | کہ می کشند ز شبنم گلابِ خندۂ صبح |
ترجمہ اگر تو آدھی سانس کا عیش پائے تو بے خوف نہ رہ، کہ شبنم سے صبح کی ہنسی کا گلاب کشید کرتے ہیں۔ | |
گمان مبر من و فرصت پرستیٔ آمال | کہ شستہ ام دو جہان را بہ آبِ خندۂ صبح |
ترجمہ یہ گمان نہ کر کہ میں آرزوؤں کی فرصت پرستی کرتا ہوں، کہ میں نے دونوں جہان صبح کی ہنسی کے پانی سے دھو ڈالے ہیں۔ | |
درین چمن کہ امیدِ نشاط نومیدی ست | ز رنگ باختہ دارم سرابِ خندۂ صبح |
ترجمہ اس چمن میں جہاں خوشی کی امید ہی مایوسی ہے، میں اڑے ہوئے رنگ سے صبح کی ہنسی کا سراب رکھتا ہوں۔ | |
غبارِ رفتہ بہ بادم نفس شمارِ بقاست | بہ من کنید عزیزان خطابِ خندۂ صبح |
ترجمہ میں ہوا میں اڑا ہوا غبار ہوں، میری سانس بقا کی گنتی ہے؛ عزیزو! مجھے صبح کی ہنسی کہہ کر پکارو۔ | |
رسید نشئۂ پیری چہ خفتہ ای بیدل | بہ گریہ زن قدحی از شرابِ خندۂ صبح |
ترجمہ بیدل! بڑھاپے کا نشہ آ پہنچا، کیوں سویا پڑا ہے؟ صبح کی ہنسی کی شراب کا ایک پیالہ گریہ کے ساتھ پی لے۔ | |
