نفس آشفتہ می دارد چو گل جمعیتِ ما را | پریشان می نویسد کلکِ موج احوالِ دریا را |
ترجمہ سانس ہماری جمعیت کو پھول کی طرح پریشان رکھتا ہے؛ موج کا قلم دریا کے احوال پریشان ہی لکھتا ہے۔ | |
در این وادی کہ می باید گذشت از ہرچہ پیش آید | خوش آن رہرو کہ در دامانِ دی پیچید فردا را |
ترجمہ اس وادی میں، جہاں ہر پیش آنے والی چیز سے گزر جانا ہے، مبارک ہے وہ راہرو جس نے آنے والے کل کو گزرے کل کے دامن میں لپیٹ دیا۔ | |
ز دردِ مطلبِ نایاب تا کی گریہ سر کردن | تمنا آخر از خجلت عرق کرد اشکِ رسوا را |
ترجمہ نایاب مطلب کے درد سے کب تک گریہ کیا جائے؛ آخر تمنا نے شرمندگی سے رسوا آنسو کو پسینا بنا دیا۔ | |
بہ این فرصت مشو شیرازہ بندِ نسخۂ ہستی | سحر ہم در عدم خواہد فراہم کرد اجزا را |
ترجمہ اتنی سی فرصت میں ہستی کے نسخے کا شیرازہ باندھنے والا نہ بن؛ صبح بھی اپنے اجزا عدم ہی میں جمع کرے گی۔ | |
گدازِ دردِ الفت فیضِ اکسیرِ دگر دارد | ز خون گشتن توان در دل گرفتن جملہ اعضا را |
ترجمہ الفت کے درد کا گداز ایک اور ہی اکسیر کا فیض رکھتا ہے؛ خون ہو جانے سے سارے اعضا کو دل میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ | |
بہ جای نالہ می خیزد غبارِ خاکسارانت | صداگردی ست یکسر ساغرِ نقشِ قدمہا را |
ترجمہ تیرے خاکساروں کا غبار نالے کی جگہ اٹھتا ہے؛ نقشِ قدم کا ساغر سراسر آواز کی گرد ہے۔ | |
بہ آگاہی چہ امکانست گردد جمع خودداری | کہ با ہر موج می باید گذشت از خویش دریا را |
ترجمہ آگہی کے ہوتے یہ کیسے ممکن ہے کہ خودداری جمع رہے، کہ دریا کو ہر موج کے ساتھ اپنے آپ سے گزرنا پڑتا ہے۔ | |
در این گلشن چو گل یک پر زدن رخصت نمی باشد | مگر از رنگ یابی نسخۂ بال افشانیٔ ما را |
ترجمہ اس گلشن میں پھول کی طرح ایک بار پر مارنے کی بھی مہلت نہیں؛ شاید رنگ ہی سے تو ہماری پر افشانی کا نسخہ پا لے۔ | |
فلک تکلیفِ جاہت گر کند فالِ حماقت زن | کہ غیر از گاو نتواند کشیدن بارِ دنیا را |
ترجمہ اگر آسمان تجھے جاہ کی زحمت دے تو اسے حماقت کا شگون سمجھ، کہ دنیا کا بوجھ بیل کے سوا کوئی نہیں کھینچ سکتا۔ | |
چرا مجنونِ ما را در پریشانی وطن نبود | کہ از چشمِ غزالان خانہ بردوش است صحرا را |
ترجمہ ہمارے مجنوں کا وطن پریشانی میں کیوں نہ ہو، کہ ہرنوں کی آنکھوں کے سبب صحرا خانہ بدوش ہے۔ | |
نزاکتہاست در آغوشِ میناخانۂ حیرت | مژہ برہم مزن تا نشکنی رنگِ تماشا را |
ترجمہ حیرت کے شیشہ خانے کی آغوش میں بڑی نزاکتیں ہیں؛ پلک نہ جھپکا کہ کہیں تماشے کا رنگ نہ ٹوٹ جائے۔ | |
سیہ روزی فروغِ تیرہ بختان بس بود بیدل | ز دودِ خویش باشد سرمہ چشمِ داغِ دلہا را |
ترجمہ بیدل، سیاہ بختوں کی روشنی کے لیے سیاہ روزی ہی کافی ہے؛ دلوں کے داغ کی آنکھ کا سرمہ اسی کے اپنے دھویں سے ہے۔ | |
