نمی دزدد کس از لذاتِ کاہش آفرین خود را | فرو خوردہ ست شمع اینجا بہ ذوقِ انگبین خود را |
ترجمہ کوئی بھی خود کو گھلا دینے والی لذتوں سے نہیں بچاتا؛ یہاں شمع نے شہد کے ذوق میں اپنے آپ کو نگل لیا ہے۔ | |
بہ لبیکِ حرم ناقوسِ دیر آہنگہا دارد | در این محفل طرف دیدہ ست شک ہم با یقین خود را |
ترجمہ بت خانے کا ناقوس حرم کی لبیک کے ساتھ ہم آہنگیاں رکھتا ہے؛ اس محفل میں شک نے بھی خود کو یقین کا مدِ مقابل دیکھا ہے۔ | |
بہ ہمواری طریقِ صلح را چندی غنیمت دان | ز چنگِ سبحہ بر زنار پیچیدہ ست دینِ خود را |
ترجمہ نرمی اور ہمواری کے ساتھ صلح کی راہ کو کچھ دن غنیمت جانو؛ یہاں کسی نے تسبیح کی گرفت سے نکال کر اپنا دین زنار پر لپیٹ دیا ہے۔ | |
بہ این پا در رکابی چون شرر در سنگ اگر باشی | تصور کن ہمان چون خانہ بر دوشان زین خود را |
ترجمہ اگر تم اس پا در رکابی کے ساتھ پتھر میں چنگاری کی طرح رہو تو خانہ بدوشوں کی طرح اپنے آپ کو زین ہی تصور کرو۔ | |
سخا و بخل وقفِ وسعتِ مقدور می باشد | برآوردہ ست دست اینجا بہ قدرِ آستین خود را |
ترجمہ سخاوت اور بخل استطاعت کی وسعت کے تابع ہیں؛ یہاں ہاتھ نے آستین کی مقدار ہی کے برابر خود کو باہر نکالا ہے۔ | |
بہ افسونِ دنائت غافلی از ننگِ پامالی | بہ پستی متہم ہرگز نمی داند زمین خود را |
ترجمہ کمینگی کے افسون میں تم پامالی کی ذلت سے غافل ہو؛ زمین اپنے آپ کو ہرگز پستی کا ملزم نہیں سمجھتی۔ | |
خیال آبادِ یکتایی قیامت عالمی دارد | کہ ہر جا وارسی باید پرستیدن ہمین خود را |
ترجمہ یکتائی کا خیال آباد عجب قیامت کا عالم رکھتا ہے کہ جہاں بھی پہنچو، اسی اپنے آپ کو پوجنا پڑتا ہے۔ | |
تغافل زن بہ ہستی صیقلِ فطرت ہمینت بس | صفای آینہ گر مدعا باشد مبین خود را |
ترجمہ ہستی سے تغافل برتو، فطرت کی صیقل کے لیے تمہیں یہی کافی ہے؛ اگر آئینے کی صفائی مقصود ہو تو اپنے آپ کو مت دیکھو۔ | |
در این گلشن نباید خارِ دامانِ ہوس بودن | گلِ آزادگی رنگی دگر دارد بچین خود را |
ترجمہ اس گلشن میں ہوس کے دامن کا کانٹا نہیں بننا چاہیے؛ آزادگی کا پھول کچھ اور ہی رنگ رکھتا ہے، اپنے آپ کو چن لو۔ | |
خیالِ جان کنی ظلم است بر طبعِ سبکروحان | بہ چاہ افکندہ ای چون نام از نقبِ نگین خود را |
ترجمہ جان کنی کا خیال سبک روحوں کی طبیعت پر ظلم ہے؛ تم نے نگینے کے گڑھے میں کندہ نام کی طرح خود کو کنویں میں ڈال رکھا ہے۔ | |
سجودِ سایہ از آفات دارد ایمنی بیدل | تو ہم گر عافیت خواہی نہالین در جبین خود را |
ترجمہ اے بیدل! سائے کا سجدہ اسے آفتوں سے امان میں رکھتا ہے؛ تو بھی اگر عافیت چاہتا ہے تو اپنی پیشانی ہی کو اپنا بچھونا بنا لے۔ | |
