نشد در این درسگاہِ عبرت بہ فہمِ چندین رسالہ پیدا | جنون سوادی کہ کردم امشب ز سیرِ اوراقِ لالہ پیدا |
ترجمہ عبرت کی اس درس گاہ میں اتنے رسالوں کے فہم سے بھی جنون کا وہ سواد پیدا نہ ہوا جو میں نے آج رات لالے کے اوراق کی سیر سے حاصل کیا۔ | |
صبا ز گیسوی مشکبارت اگر رساند پیامِ چینی | چو شبنم از داغِ لالہ گردد عرق ز نافِ غزالہ پیدا |
ترجمہ اگر صبا تیری مشکبار زلف سے چین کا پیغام پہنچا دے تو لالے کے داغ پر شبنم کی طرح ہرنی کی ناف سے پسینہ پھوٹ نکلے۔ | |
فلک ز صفری کہ می گشاید بر اعتبارات می فزاید | خلای یک شیشہ می نماید پری ز چندین پیالہ پیدا |
ترجمہ آسمان جو صفر کھولتا ہے اس سے اعتبارات بڑھاتا جاتا ہے؛ ایک شیشے کا خلا کئی پیالوں سے پری بن کر نمودار ہوتا ہے۔ | |
چہ موجِ بیداد ہیچ سنگی نبست بر شیشہ ام ترنگی | شکستہ دارد دلم بہ رنگی کہ رنگِ من کرد نالہ پیدا |
ترجمہ یہ کیسی بیداد کی موج ہے کہ کسی پتھر نے میرے شیشے پر ٹھیس تک نہ لگائی، پھر بھی میرا دل اس طرح ٹوٹا ہے کہ میرے رنگ سے نالہ پیدا ہو گیا۔ | |
اگر بہ صد رنگ پرفشانم ز دام جستن نمی توانم | کہ کرد پروازِ بی نشانم چو بالِ طاووس ہالہ پیدا |
ترجمہ خواہ میں سو رنگ سے پر پھڑپھڑاؤں، جال سے نکل نہیں سکتا، کہ میری بے نشان پرواز نے طاؤس کے پر کی طرح ہالہ پیدا کر لیا ہے۔ | |
چو جوشد افسردگی ز دوران حذر ز امدادِ اہلِ احسان | کہ ابر در موسمِ زمستان نمی کند غیرِ ژالہ پیدا |
ترجمہ جب زمانے سے افسردگی ابل پڑے تو احسان کرنے والوں کی مدد سے بچ، کہ جاڑے کے موسم میں بادل اولوں کے سوا کچھ پیدا نہیں کرتا۔ | |
قبولِ انعامِ بدمعاشان بہ خود گوارا مگیر بیدل | کہ می شوند این گلو خراشان چو استخوان از نوالہ پیدا |
ترجمہ بیدل، کمینوں کا انعام قبول کرنا اپنے لیے گوارا نہ کر، کہ یہ گلا چھیلنے والے نوالے میں ہڈی کی طرح نکل آتے ہیں۔ | |
