اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نسیم شانہ کند زلف موج دریا را

نسیم شانہ کند زلفِ موجِ دریا را

غبار سرمہ دہد چشمِ کوہ و صحرا را

ترجمہ نسیم دریا کی موج کی زلف میں کنگھی کرتی ہے اور غبار کوہ و صحرا کی آنکھ کو سرمہ دیتا ہے۔

ز زخمِ ارۂ دندانِ موج ایمن نیست

گہر بہ دامنِ راحت چسان کشد پا را

ترجمہ موتی موج کے دانتوں کے آرے کے زخم سے محفوظ نہیں؛ وہ راحت کے دامن میں پاؤں کیسے سمیٹے۔

لبش بہ حلقۂ آغوشِ خط بدان ماند

کہ خضر تنگ بہ بر می کشد مسیحا را

ترجمہ خط کے حلقۂ آغوش میں اس کا لب ایسا ہے جیسے خضر نے مسیحا کو سینے سے کس کر لپٹا رکھا ہو۔

عدمسرای دلم کنجِ عزلتی دارد

کہ راہ نیست در او وہمِ بالِ عنقا را

ترجمہ میرے دل کی عدم سرا ایسا گوشۂ عزلت رکھتی ہے کہ اس میں عنقا کے پر کے وہم کو بھی راہ نہیں۔

حدیثِ نرم نمی آید از زبانِ درشت

شرار خیز بود طبعِ سنگِ خارا را

ترجمہ سخت زبان سے نرم بات نہیں نکلتی؛ سنگِ خارا کی طبیعت چنگاریاں ہی اڑاتی ہے۔

ہمیشہ تشنہ لبِ خونِ ما بود بیدل

چو شیشہ ہرکہ بہ دست آورد دلِ ما را

ترجمہ بیدل، جو کوئی شیشے کی طرح ہمارا دل ہاتھ میں لیتا ہے وہ ہمیشہ ہمارے خون کا پیاسا رہتا ہے۔