نسیم شانہ کند زلفِ موجِ دریا را | غبار سرمہ دہد چشمِ کوہ و صحرا را |
ترجمہ نسیم دریا کی موج کی زلف میں کنگھی کرتی ہے اور غبار کوہ و صحرا کی آنکھ کو سرمہ دیتا ہے۔ | |
ز زخمِ ارۂ دندانِ موج ایمن نیست | گہر بہ دامنِ راحت چسان کشد پا را |
ترجمہ موتی موج کے دانتوں کے آرے کے زخم سے محفوظ نہیں؛ وہ راحت کے دامن میں پاؤں کیسے سمیٹے۔ | |
لبش بہ حلقۂ آغوشِ خط بدان ماند | کہ خضر تنگ بہ بر می کشد مسیحا را |
ترجمہ خط کے حلقۂ آغوش میں اس کا لب ایسا ہے جیسے خضر نے مسیحا کو سینے سے کس کر لپٹا رکھا ہو۔ | |
عدمسرای دلم کنجِ عزلتی دارد | کہ راہ نیست در او وہمِ بالِ عنقا را |
ترجمہ میرے دل کی عدم سرا ایسا گوشۂ عزلت رکھتی ہے کہ اس میں عنقا کے پر کے وہم کو بھی راہ نہیں۔ | |
حدیثِ نرم نمی آید از زبانِ درشت | شرار خیز بود طبعِ سنگِ خارا را |
ترجمہ سخت زبان سے نرم بات نہیں نکلتی؛ سنگِ خارا کی طبیعت چنگاریاں ہی اڑاتی ہے۔ | |
ہمیشہ تشنہ لبِ خونِ ما بود بیدل | چو شیشہ ہرکہ بہ دست آورد دلِ ما را |
ترجمہ بیدل، جو کوئی شیشے کی طرح ہمارا دل ہاتھ میں لیتا ہے وہ ہمیشہ ہمارے خون کا پیاسا رہتا ہے۔ | |
