اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نازد بہ عشق غازۂ حسن جنون دماغ

نازد بہ عشق غازۂ حسنِ جنون دماغ

پروانہ است جوہرِ آیینۂ چراغ

ترجمہ جنون مزاج حسن کا غازہ عشق پر ناز کرتا ہے؛ پروانہ ہی چراغ کے آئینے کا جوہر ہے۔

ما را ز لعلِ یار پیامی نشد نصیب

تا کی رسد بہ بوس و کلہ، کج کند ایاغ

ترجمہ ہمیں یار کے لعل لب سے کوئی پیغام نصیب نہ ہوا؛ دیکھیں پیالہ کب بوسے تک پہنچے اور فخر سے اپنی کلاہ ٹیڑھی کرے۔

مجبورِ ہستی ایم ز جرأت گزیر نیست

از پر زدن بہ نشئہ نگیرد کسی کلاغ

ترجمہ ہم ہستی کے ہاتھوں مجبور ہیں، جرأت سے چارہ نہیں؛ کوے کے پر مارنے کو کوئی نشے کی مستی نہیں سمجھتا۔

چون نالۂ سپند بہ ہر جا گذشتہ ایم

نقشِ قدم ز گرمیٔ رفتار گشتہ داغ

ترجمہ ہم اسپند کے نالے کی طرح جہاں سے بھی گزرے، رفتار کی گرمی سے ہمارا نقشِ قدم داغ بن گیا۔

در عشق کوش کز غمِ اسباب وارہی

دردِ دلی مگر دہد از دردِ سر فراغ

ترجمہ عشق میں کوشش کر تاکہ اسباب کے غم سے چھوٹ جائے؛ شاید کوئی دل کا درد ہی سر کے درد سے فراغت دے۔

از سرکشانِ جاہ توقع مدار چشم

افشاندہ گیر دستِ ثمر زین چنارِ باغ

ترجمہ جاہ کے سرکشوں سے توقع کی آنکھ نہ رکھ؛ باغ کے اس چنار سے پھل کا ہاتھ جھاڑا ہوا ہی سمجھ۔

با دوستان گرت نبود مقصدِ انفعال

الفت بس است شرم کن از بستنِ جناغ

ترجمہ اگر دوستوں کے ساتھ تیرا مقصد انہیں شرمندہ کرنا نہیں تو الفت ہی کافی ہے؛ جناغ کی شرط باندھنے سے شرم کر۔

عنقا بہ وہم مصدرِ آثارِ زندگی ست

ای کاش نیستی دہد از ہستی ام سراغ

ترجمہ عنقا وہم میں زندگی کے آثار کا سرچشمہ ہے؛ کاش نیستی ہی میری ہستی کا سراغ دے۔

دل تیرہ شد ز مشقِ خیالاتِ خوب و زشت

آیینہ را ہجومِ صور کرد بی دماغ

ترجمہ اچھے برے خیالات کی مشق سے دل تاریک ہو گیا؛ صورتوں کے ہجوم نے آئینے کو بے دماغ کر دیا۔

بیدل نویدِ قاصدِ بد لہجہ ماتم است

مکتوبِ نوبہار نبندی بہ بالِ زاغ

ترجمہ اے بیدل! بدلہجہ قاصد کی خوشخبری بھی ماتم ہے؛ نوبہار کا خط کوے کے پر پر نہ باندھنا۔