نازد بہ عشق غازۂ حسنِ جنون دماغ | پروانہ است جوہرِ آیینۂ چراغ |
ترجمہ جنون مزاج حسن کا غازہ عشق پر ناز کرتا ہے؛ پروانہ ہی چراغ کے آئینے کا جوہر ہے۔ | |
ما را ز لعلِ یار پیامی نشد نصیب | تا کی رسد بہ بوس و کلہ، کج کند ایاغ |
ترجمہ ہمیں یار کے لعل لب سے کوئی پیغام نصیب نہ ہوا؛ دیکھیں پیالہ کب بوسے تک پہنچے اور فخر سے اپنی کلاہ ٹیڑھی کرے۔ | |
مجبورِ ہستی ایم ز جرأت گزیر نیست | از پر زدن بہ نشئہ نگیرد کسی کلاغ |
ترجمہ ہم ہستی کے ہاتھوں مجبور ہیں، جرأت سے چارہ نہیں؛ کوے کے پر مارنے کو کوئی نشے کی مستی نہیں سمجھتا۔ | |
چون نالۂ سپند بہ ہر جا گذشتہ ایم | نقشِ قدم ز گرمیٔ رفتار گشتہ داغ |
ترجمہ ہم اسپند کے نالے کی طرح جہاں سے بھی گزرے، رفتار کی گرمی سے ہمارا نقشِ قدم داغ بن گیا۔ | |
در عشق کوش کز غمِ اسباب وارہی | دردِ دلی مگر دہد از دردِ سر فراغ |
ترجمہ عشق میں کوشش کر تاکہ اسباب کے غم سے چھوٹ جائے؛ شاید کوئی دل کا درد ہی سر کے درد سے فراغت دے۔ | |
از سرکشانِ جاہ توقع مدار چشم | افشاندہ گیر دستِ ثمر زین چنارِ باغ |
ترجمہ جاہ کے سرکشوں سے توقع کی آنکھ نہ رکھ؛ باغ کے اس چنار سے پھل کا ہاتھ جھاڑا ہوا ہی سمجھ۔ | |
با دوستان گرت نبود مقصدِ انفعال | الفت بس است شرم کن از بستنِ جناغ |
ترجمہ اگر دوستوں کے ساتھ تیرا مقصد انہیں شرمندہ کرنا نہیں تو الفت ہی کافی ہے؛ جناغ کی شرط باندھنے سے شرم کر۔ | |
عنقا بہ وہم مصدرِ آثارِ زندگی ست | ای کاش نیستی دہد از ہستی ام سراغ |
ترجمہ عنقا وہم میں زندگی کے آثار کا سرچشمہ ہے؛ کاش نیستی ہی میری ہستی کا سراغ دے۔ | |
دل تیرہ شد ز مشقِ خیالاتِ خوب و زشت | آیینہ را ہجومِ صور کرد بی دماغ |
ترجمہ اچھے برے خیالات کی مشق سے دل تاریک ہو گیا؛ صورتوں کے ہجوم نے آئینے کو بے دماغ کر دیا۔ | |
بیدل نویدِ قاصدِ بد لہجہ ماتم است | مکتوبِ نوبہار نبندی بہ بالِ زاغ |
ترجمہ اے بیدل! بدلہجہ قاصد کی خوشخبری بھی ماتم ہے؛ نوبہار کا خط کوے کے پر پر نہ باندھنا۔ | |
