نیست پروانۂ من قابلِ پہلوی چراغ | حسرتِ سوختنی می کشدم سوی چراغ |
ترجمہ میرا پروانہ چراغ کے پہلو کے لائق نہیں؛ بس ایک جلنے کی حسرت مجھے چراغ کی طرف کھینچتی ہے۔ | |
سیرِ این انجمنم وقفِ گشادِ مژہ ایست | بر نگہ ختم نمودند تک و پوی چراغ |
ترجمہ اس انجمن کی میری سیر ایک پلک کھلنے پر وقف ہے؛ چراغ کی ساری دوڑ دھوپ نگاہ ہی پر ختم کر دی گئی۔ | |
یأس بر عافیتِ احرامیٔ دل می خندد | من و خاصیتِ پروانہ تو و خوی چراغ |
ترجمہ مایوسی دل کی احرام پوشی کی عافیت پر ہنستی ہے؛ میں ہوں اور پروانے کی خاصیت، تو ہے اور چراغ کی خو۔ | |
داغِ انجامِ نفس سخت عقوبت دارد | ترسم آخر بہ دماغت نزند بوی چراغ |
ترجمہ سانس کے انجام کا داغ بڑی سخت سزا رکھتا ہے؛ ڈرتا ہوں کہ آخر تیرے دماغ تک چراغ کی بو نہ پہنچے۔ | |
برقِ آن شعلہ کہ حرزِ دلِ بیتابم بود | مجلس آرا بہ غلط بست بہ بازوی چراغ |
ترجمہ اس شعلے کی بجلی جو میرے بے تاب دل کا تعویذ تھی، مجلس آرا نے غلطی سے چراغ کے بازو پر باندھ دی۔ | |
آبیارِ چمنِ عشق گداز است اینجا | کشتِ پروانہ ہمان سبز کند خوی چراغ |
ترجمہ یہاں عشق کے چمن کو سیراب کرنے والا گداز ہے؛ پروانے کی کھیتی کو چراغ کا پسینہ ہی سرسبز کرتا ہے۔ | |
عشق در خلوتِ حسن انجمنِ رازِ خود است | جیب دارد سرِ پروانہ بہ زانوی چراغ |
ترجمہ حسن کی خلوت میں عشق اپنے ہی راز کی انجمن ہے؛ پروانے کا سر چراغ کے زانو پر گریبان میں ڈوبا ہے۔ | |
سیرِ ہستی چقدر برقِ ندامت دارد | شعلہ در رنگِ عرق می چکد از روی چراغ |
ترجمہ ہستی کی سیر میں ندامت کی کتنی بجلی ہے؛ چراغ کے چہرے سے شعلہ پسینے کی طرح ٹپکتا ہے۔ | |
طبعِ روشن ز غبارِ دو جہان آزاد است | تیرگی رختِ تکلف نبرد سوی چراغ |
ترجمہ روشن طبیعت دونوں جہانوں کے غبار سے آزاد ہے؛ تاریکی تکلف کا سامان چراغ کی طرف نہیں لے جاتی۔ | |
غافل از مرگ بہ افسوسِ امل نتوان زیست | شانہ دارد نفسِ صبح بہ گیسوی چراغ |
ترجمہ موت سے غافل ہو کر آرزو کے افسوس میں نہیں جیا جا سکتا؛ صبح کی سانس چراغ کی زلف میں کنگھی کیے ہوئے ہے۔ | |
رنگِ پروانۂ این بزم ندارد بیدل | تا بہ کی نکہتِ گل واکشی از بوی چراغ |
ترجمہ اے بیدل! تو اس بزم کے پروانے کا رنگ نہیں رکھتا؛ کب تک چراغ کی بو سے پھول کی خوشبو کھینچتا رہے گا۔ | |
