نقابِ عارضِ گلجوش کردہ ای ما را | تو جلوہ داری و روپوش کردہ ای ما را |
ترجمہ تو نے ہمیں اپنے گل افشاں رخسار کا نقاب بنا دیا ہے، جلوہ تیرا ہے اور پردہ تو نے ہمیں بنا رکھا ہے۔ | |
ز خود تہی شدگان گر نہ از تو لبریزند | دگر برای چہ آغوش کردہ ای ما را |
ترجمہ خود سے خالی ہو جانے والے اگر تجھ سے لبریز نہیں ہیں تو پھر تو نے ہمیں کس لیے آغوش بنایا ہے۔ | |
خرابِ میکدۂ عالمِ خیالِ توایم | چہ مشربی کہ قدح نوش کردہ ای ما را |
ترجمہ ہم تیرے خیال کے عالم کے میکدے میں خراب ہیں، یہ کیسا مشرب ہے کہ تو نے ہمیں جام پینے والا بنا دیا۔ | |
نمودِ ذرہ طلسمِ حضورِ خورشید است | کہ گفتہ است فراموش کردہ ای ما را؟ |
ترجمہ ذرے کا ظاہر ہونا سورج کی موجودگی کا طلسم ہے، کس نے کہا کہ تو نے ہمیں بھلا دیا ہے؟ | |
ز طبعِ قطرہ نمی جز محیط نتوان یافت | تو می تراوی اگر جوش کردہ ای ما را |
ترجمہ قطرے کی فطرت میں سمندر کے سوا کوئی نمی نہیں ملتی، اگر تو نے ہمیں جوش میں لایا ہے تو دراصل تو ہی ٹپک رہا ہے۔ | |
بہ رنگِ آتشِ یاقوت ما و خاموشی | کہ حکم خون شو و مخروش کردہ ای ما را |
ترجمہ یاقوت کی آگ کی طرح ہمارا حصہ خاموشی ہے، کیونکہ تو نے ہمیں حکم دیا ہے کہ خون ہو جا اور شور نہ کر۔ | |
اگر بہ نالہ نیرزیم رخصتِ آہی | نہ ایم شعلہ کہ خاموش کردہ ای ما را |
ترجمہ اگر ہم نالے کے لائق نہیں تو ایک آہ کی اجازت ہی دے، ہم شعلہ تو نہیں کہ تو نے ہمیں بجھا دیا ہو۔ | |
چہ بارِ کلفتی ای زندگی کہ ہمچو حباب | تمام آبلہ بر دوش کردہ ای ما را |
ترجمہ اے زندگی، تو کیسا بوجھِ کلفت ہے کہ تو نے ہمیں حباب کی طرح سراپا چھالا بنا کر کندھے پر لاد دیا ہے۔ | |
چو چشمِ چشمۂ خورشید حیرتی داریم | تو ای مژہ ز چہ خس پوش کردہ ای ما را |
ترجمہ ہم سورج کے چشمے کی آنکھ کی طرح ایک حیرت رکھتے ہیں، اے پلک، تو نے ہمیں تنکوں سے کیوں ڈھانپ دیا۔ | |
نوای پردۂ خاکیم یک قلم بیدل | کجاست عبرت اگر گوش کردہ ای ما را |
ترجمہ اے بیدل، ہم سراسر خاک کے پردے کی نوا ہیں، اگر تو نے ہمیں سنا ہے تو عبرت کہاں ہے۔ | |
